جموں و کشمیر کی سیاست اور معیشت میں بعض موضوعات ایسے ہوتے ہیں جو وقتی بیان بازی سے آگے بڑھ کر عوامی روزگار اور سماجی استحکام سے جڑ جاتے ہیں۔ حالیہ دنوں بھارت اور امریکہ کے درمیان ہونے والے تجارتی بندوبست پر پیدا ہونے والی بحث بھی اسی نوعیت کی ہے۔ ایک طرف وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو خدشہ ہے کہ اس کے اثرات مقامی میوہ صنعت کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ دوسری طرف مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پورے اعتماد کے ساتھ یقین دلاتے ہیں کہ حکومت نے کسانوں کے مفادات کو مکمل تحفظ فراہم کیا ہے اور کسی کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔
دونوں مؤقف اپنے اپنے زاویے سے مضبوط دکھائی دیتے ہیں، مگر زمینی حقیقت کا تعین محض سیاسی بیانات سے نہیں بلکہ معاشی ساخت، منڈی کے رجحانات اور مقامی پیداوار کی مسابقتی صلاحیت سے ہوگا۔
جموں و کشمیر کی معیشت کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہاں باغبانی محض ایک شعبہ نہیں بلکہ پورے دیہی معاشی نظام کی بنیاد ہے۔ لاکھوں خاندان براہ راست یا بالواسطہ طور پر سیب، اخروٹ، بادام، ناشپاتی اور دیگر پھلوں سے وابستہ ہیں۔ کھیت سے منڈی تک ایک طویل زنجیر موجود ہے جس میں مزدور، پیکنگ کرنے والے، ٹرانسپورٹر، آڑھتی، کولڈ اسٹوریج مالکان اور برآمد کنندگان سب شامل ہیں۔ اس لئے اگر کسی تجارتی معاہدے کے نتیجے میں درآمدی پھل نسبتاً سستے داموں دستیاب ہو جائیں تو اس کا اثر صرف ایک کسان تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے معاشی ڈھانچے میں ارتعاش پیدا ہو جاتا ہے۔
وزیر اعلیٰ کا خدشہ بنیادی طور پر اسی نکتے پر مرکوز ہے۔ مقامی کاشتکاروں نے گزشتہ دہائی میں بڑی سرمایہ کاری کی ہے۔ ہائی ڈینسٹی پلانٹیشن، کنٹرولڈ ایٹماسفیئر اسٹوریج، بہتر گریڈنگ اور پیکنگ کے ذریعے معیار میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ کشمیر کے سیب نے قومی منڈیوں میں نئی شناخت بنائی ہے۔ ایسے وقت میں اگر غیر ملکی پھل ڈیوٹی فری یا کم محصول کے ساتھ مارکیٹ میں داخل ہوتے ہیں تو قیمتوں پر دباؤ آنا فطری بات ہے۔ منڈی کی نفسیات بڑی سادہ ہے:خریدار کو بہتر معیار کم قیمت پر ملے تو وہ اسی طرف جھک جاتا ہے۔ اس لئے مقامی کاشتکار کا یہ سوال بجا محسوس ہوتا ہے کہ اگر باہر سے اعلیٰ معیار آئے گا تو کیا ہم کم درجے کی پیداوار بیچنے کیلئے رہ جائیں گے؟
دوسری طرف مرکزی حکومت کا استدلال بھی مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عالمی تجارت کے موجودہ نظام میں مکمل تحفظ پسندی ممکن نہیں رہی۔ اگر بھارت برآمدات بڑھانا چاہتا ہے تو اسے درآمدات کیلئے بھی دروازے کھولنے پڑتے ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ حساس زرعی شعبوں کو مناسب حفاظتی انتظامات کے تحت رکھا گیا ہے اور کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جائے گا جس سے کسان براہ راست متاثر ہوں۔ مسئلہ یہاں اعتماد کا ہے۔ مرکز معاشی توازن کی بڑی تصویر دیکھتا ہے جبکہ خطہ اپنے مقامی مفاد کی عینک سے صورتحال کا جائزہ لیتا ہے۔ دونوں کے درمیان معلوماتی خلا ہی بے چینی کو جنم دیتا ہے۔حقیقت شاید ان دونوں بیانات کے درمیان کہیں موجود ہے۔
جموں و کشمیر کیلئے سب سے بڑا چیلنج قیمت نہیں بلکہ مسابقتی صلاحیت ہے۔ یہاں کی پیداوار کا معیار بہتر ضرور ہوا ہے مگر لاگت اب بھی زیادہ ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی، پیکنگ لاگت زیادہ اور سپلائی چین طویل ہے۔ بیرون ملک پیدا ہونے والا پھل اکثر بہتر لاجسٹکس اور سبسڈی کے باعث سستا پڑتا ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو محض درآمدی پابندیاں مسئلے کا مستقل حل نہیں بن سکتیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پیداوار فی ایکڑ بڑھائی جائے، فصل کی بعد از برداشت نقصان کم کیا جائے اور برآمدی معیار کی پراسیسنگ کو فروغ دیا جائے۔
یہاں زرعی یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کا کردار اہم ہو جاتا ہے۔ جدید اقسام، موسمیاتی مزاحمت رکھنے والی جینز اور کم پانی استعمال کرنے والی تکنیکیں اپنانا ناگزیر ہے۔ اسی کے ساتھ مقامی برانڈنگ پر بھی سنجیدہ توجہ درکار ہے۔ جس طرح بعض یورپی خطوں کی مصنوعات جغرافیائی شناخت کے تحت عالمی منڈی میں ممتاز مقام رکھتی ہیں، اسی طرح کشمیر کے سیب اور اخروٹ کو بھی عالمی سطح پر منفرد شناخت دینے کی ضرورت ہے۔ اگر صارف کو یقین ہو کہ یہ مخصوص ذائقہ اور معیار صرف اسی خطے میں دستیاب ہے تو وہ نسبتاً زیادہ قیمت ادا کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔
ایک اور پہلو معلومات کی شفافیت کا ہے۔ کسان کو یہ جاننا ضروری ہے کہ معاہدے کی اصل شرائط کیا ہیں، کون سی اشیا کس موسم میں آئیں گی اور حفاظتی میکانزم کیا ہے۔ افواہوں اور ادھوری خبروں سے عدم تحفظ بڑھتا ہے۔ بہتر یہی ہوگا کہ ریاستی حکومت براہ راست مرکز سے تفصیلی مذاکرات کرے اور اس کے بعد واضح پالیسی دستاویز عوام کے سامنے رکھی جائے۔ اس عمل سے نہ صرف خدشات کم ہوں گے بلکہ عملی تیاری کا موقع بھی ملے گا۔
سیاسی نقطہ نظر سے دیکھیں تو اس بحث میں اپوزیشن اور حکومت کی نوک جھونک بھی شامل ہو گئی ہے۔ مگر کسان کیلئے یہ محض سیاسی تنازع نہیں بلکہ روزگار کا سوال ہے۔ وہ یہ نہیں دیکھتا کہ کون سی جماعت درست ہے، وہ صرف اپنی فصل کی قیمت دیکھتا ہے۔ اگر اسے منافع مل رہا ہو تو وہ خاموش رہتا ہے اور اگر نقصان ہو تو بے چینی بڑھتی ہے۔ اس لئے پالیسی سازی کا مرکز سیاسی فائدہ نہیں بلکہ زمینی معاشی حقیقت ہونی چاہیے۔
آخر میں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ عالمی تجارت سے مکمل کنارہ کشی ممکن نہیں۔ کشمیر کی میوہ صنعت کو بھی آخرکار عالمی مسابقت کا سامنا کرنا ہی ہوگا۔ بہتر حکمت عملی یہ ہوگی کہ وقتی تحفظ کے ساتھ طویل مدتی اصلاحات کی جائیں۔ مقامی پیداوار کو معیار، پیکنگ اور مارکیٹنگ کے ذریعے پریمیم پراڈکٹ بنایا جائے۔ اس طرح درآمدی پھل خطرہ نہیں بلکہ معیار بڑھانے کی تحریک بن سکتے ہیں۔
لہٰذا ضروری ہے کہ دونوں سطحوں پر سنجیدہ مکالمہ ہو۔ وزیر اعلیٰ مقامی خدشات مرکز تک پہنچائیں اور مرکز معاہدے کی حقیقی تفصیلات اور حفاظتی اقدامات واضح کرے۔ اسی اشتراک سے وہ توازن پیدا ہو سکتا ہے جس میں نہ کسان غیر محفوظ محسوس کرے اور نہ ملک کی عالمی تجارت متاثر ہو۔ اگر یہ راستہ اختیار کیا گیا تو ممکن ہے آج کا تنازع کل کی معاشی بہتری میں تبدیل ہو جائے، اور اگر ایسا نہ ہوا تو خدشات سیاسی بحث سے نکل کر عملی بحران کی شکل بھی اختیار کر سکتے ہیں۔





