جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں خوراک میں ملاوٹ کے مسئلے پر ہونے والی حالیہ بحث ہمارے انتظامی اور قانونی نظام کی ایک گہری کمزوری کو بے نقاب کرنے والی گفتگو تھی۔ یہ بات اپنی جگہ نہایت تشویشناک ہے کہ ہزاروں کلو گرام گلا سڑا گوشت اور مضر صحت اشیا ضبط ہونے کے باوجود اس کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف موثر کارروائی نہیں ہو پا رہی۔ عوامی صحت جیسے حساس معاملے میں اگر ریاست کے پاس صرف ضبطی اور جرمانے تک محدود اختیارات ہوں تو یہ صورتحال کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہونی چاہیے۔
اسمبلی میں وزیر صحت‘سکینہ ایتو نے اعتراف کیا کہ فوڈ سیفٹی افسران کے پاس گرفتاری کا اختیار نہیں، وہ صرف معائنہ، نمونے لینے اور ضبطی تک محدود ہیں جبکہ گرفتاری پولیس کا اختیار ہے جو متعلقہ محکمہ کے ماتحت نہیں۔ اس اعتراف نے دراصل مسئلے کی جڑ واضح کر دی۔ ایک طرف محکمہ ملاوٹ کی نشاندہی کرتا ہے، دوسری طرف پولیس کی ترجیحات اور کارروائی الگ سمت میں چلتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جرم ثابت ہونے کے باوجود مجرم نظام کے خلا سے فائدہ اٹھا کر بچ نکلتے ہیں۔ یہ محض تکنیکی خامی نہیں بلکہ قانون سازی اور انتظامی رابطہ کاری کی ناکامی ہے۔
اعداد و شمار خود اپنی کہانی سنا رہے ہیں۔ رواں مالی سال کے دوران بارہ ہزار کلو سے زائد سڑا ہوا گوشت تلف کیا گیا، ہزاروں کلو ملاوٹ شدہ پنیر ضبط ہوا، درجنوں نمونے غیر محفوظ قرار پائے، مگر عوام یہ جاننے سے محروم ہیں کہ ان جرائم کے ذمہ داروں کا کیا ہوا۔ اگر کوئی گرفتاری نہیں ہوئی تو ضبطی محض علامتی کارروائی بن جاتی ہے۔ جرم کا اصل سدباب تب ہوتا ہے جب سزا کا خوف ہو، نہ کہ صرف مال کی ضبطی۔ تاجر اس نقصان کو کاروباری لاگت میں شامل کر لیتے ہیں اور کچھ عرصے بعد دوبارہ وہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
یہ معاملہ محض قانونی موشگافیوں تک محدود نہیں بلکہ براہ راست عوام کی زندگی سے جڑا ہوا ہے۔ ملاوٹ شدہ گوشت یا خراب دودھ اور پنیر صرف بدذائقگی کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ خاموش بیماریوں کا ذریعہ بنتے ہیں۔ فوڈ پوائزننگ، جگر کے امراض، معدے کی دائمی تکالیف اور بچوں میں نشوونما کی خرابی جیسے مسائل اسی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ جب ریاست اپنے شہریوں کو محفوظ خوراک فراہم کرنے میں ناکام ہو جائے تو ترقیاتی دعوے کھوکھلے محسوس ہونے لگتے ہیں۔
اسمبلی میں ارکان نے بجا طور پر سوال اٹھایا کہ اتنی بڑی مقدار میں مضر صحت سامان ٹول پوسٹوں سے گزر کیسے جاتا ہے۔ یہ سوال صرف پولیس یا فوڈ سیفٹی محکمہ نہیں بلکہ پوری نگرانی کے نظام پر اٹھتا ہے۔ اگر ناکوں، بلدیاتی اداروں اور مارکیٹ کمیٹیوں کے درمیان مربوط نظام موجود ہوتا تو ایسی کھیپیں بازار تک پہنچنے سے پہلے ہی پکڑی جاتیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف سزا کا نہیں بلکہ روک تھام کا بھی ہے۔
مزید تشویش ناک پہلو لیبارٹریوں کی کمی اور عملے کی قلت ہے۔ جب رپورٹ آنے میں تاخیر ہو تو قانونی کارروائی کمزور پڑ جاتی ہے۔ کئی بار نمونے خراب ہو جاتے ہیں، گواہ دستیاب نہیں رہتے یا ملزمان ضمانت پر آزاد ہو جاتے ہیں۔ جدید فوڈ سیفٹی نظام میں فوری جانچ بنیادی شرط ہوتی ہے، کیونکہ ثبوت جتنا تاخیر سے آئے گا مقدمہ اتنا ہی کمزور ہوگا۔ اگر دو سرکاری لیبارٹریوں میں نصف سے زیادہ اسامیاں خالی ہوں تو پھر کارروائی کی رفتار سست ہونا ناگزیر ہے۔
اس صورتحال میں اسمبلی کے اسپیکر‘عبدالرحمان راتھر کی جانب سے قانون میں ترمیم کا مشورہ انتہائی اہم ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا حکومت واقعی اس مسئلے کو عوامی صحت کے بحران کے طور پر دیکھ رہی ہے یا اسے محض محکمانہ معاملہ سمجھ رہی ہے۔ جب تک فوڈ سیفٹی محکمے کو کم از کم محدود گرفتاری یا سیلنگ کے فوری اختیارات نہیں ملیں گے، ملاوٹ کرنے والے قانون سے کھیلتے رہیں گے۔
یہاں ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بڑے نیٹ ورک محفوظ رہتے ہیں جبکہ چھوٹے دکاندار پکڑے جاتے ہیں۔ اصل مسئلہ سپلائی چین میں اوپر بیٹھے افراد ہیں جو غیر قانونی سلاٹرنگ، ناقص کولڈ اسٹوریج اور جعلی لیبلنگ کے ذریعے منافع کماتے ہیں۔ جب تک تفتیش اس سطح تک نہیں پہنچے گی تب تک ضبطی کی خبریں تو آتی رہیں گی مگر بیماریوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوگا۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ تین سطحوں پر فوری اقدامات کرے۔ اول، قانون میں ایسی ترمیم جس سے فوڈ سیفٹی افسران کو محدود تادیبی اختیارات ملیں اور پولیس کے ساتھ مشترکہ کارروائی لازمی ہو۔ دوم، لیبارٹری نظام کی فوری اپ گریڈیشن اور خالی آسامیوں پر تقرری تاکہ رپورٹ میں تاخیر ختم ہو۔ سوم، سپلائی چین کی ڈیجیٹل ٹریکنگ جس سے گوشت اور دودھ کی نقل و حمل کا ریکارڈ محفوظ ہو اور ذمہ داری کا تعین آسان ہو۔
ساتھ ہی عوامی آگاہی بھی ضروری ہے۔ اکثر لوگ سستی قیمت دیکھ کر معیار نظر انداز کر دیتے ہیں۔ جب صارف خود محتاط ہوگا تو بازار بھی بدل جائے گا۔ لیکن یہ دلیل حکومت کی ذمہ داری کم نہیں کرتی۔ شہری ریاست کو ٹیکس اس لیے دیتے ہیں کہ وہ بنیادی تحفظ فراہم کرے، اور محفوظ خوراک اس تحفظ کی اولین شرط ہے۔
حکومت کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ اس مسئلے کو محض بحث تک محدود نہ رکھے بلکہ فوری قانون سازی کرے۔ اگر اسی اسمبلی اجلاس میں ترمیم پیش ہو جائے تو یہ واضح پیغام ہوگا کہ ریاست عوامی صحت پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ بصورت دیگر ہر سال ضبطی کے اعداد و شمار بڑھتے رہیں گے اور بیماریاں بھی۔
ملاوٹ کا کاروبار صرف غیر قانونی تجارت نہیں بلکہ انسانی جانوں کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے۔ جو شخص جان بوجھ کر زہریلی خوراک فروخت کرتا ہے وہ معاشرے کے خلاف جرم کرتا ہے۔ ایسے جرم کے لیے نرم قانون دراصل جرم کی حوصلہ افزائی ہے۔ اب فیصلہ حکومت کو کرنا ہے کہ وہ اس خاموش خطرے کو سنجیدگی سے لیتی ہے یا ضبطی کی خبروں پر اطمینان کرتی رہے گی۔ عوام کی صحت کا سوال کسی تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔





