چلئے صاحب وہ دن بھی آہی گیا جس کا انتظار تھا …….انتظار! لیکن سب کو نہیں تھا ۔کم از کم اُس پار ہمسایہ ملک کے لوگوں کو نہیں تھا اور بالکل بھی نہیں تھا ۔ الٹا وہ تو چاہتے تھے کہ آج کا دن آئے ہی نا اور اللہ میاں نے ا ن کی یہ دُعا تقریباً سن بھی لی تھی ……. یوں سمجھ لیجئے اسے قبولیت شرف بھی بخشاتھا ……. لیکن برا ہو ان روپے پیسوں کا جو بھاری پڑ گئے ……اور پاکستان نے آمادگی ظاہر کی ‘ بھارت کے ساتھ آج میچ کھیلنے پر آمادگی ۔ اگر وہ اپنے فیصلے پر ڈٹا رہتا تو پاکستان کے لوگ کم از کم اس ایک اذیت سے بچ جاتے کہ سننے میں آیا ہے کہ ہمسایہ ملک کے لوگ ہمیشہ کسی نہ کسی مشکل میں رہتے ہیں ……. کبھی مہنگائی کی مار تو کبھی لوڈ شیڈنگ کا وار …….ایسے میں انہیں ایک عدد موقع ملا تھا کہ آج وہ اس ایک اذیت اور رسوائی سے بچ جاتے ‘ لیکن کم بختوں کو یہ بھی گوارا نہ ہو ااور انہوں نے گھٹنے ٹیک دیئے …….پیسوں کے آگے سرنڈر کیا اور کھیلنے کی حامی بھر لی اور اللہ میاں کی قسم اسی کو کہتے ہیں …….سو فیصد اسی کو کہتے ہیں آ بیل مجھے مار …….اور بیل آج انہیں مارنے اور وار کرنے کیلئے تیار ہے ……. سو فیصد تیار ہے ۔ اگر ماضی کو حقیقت ہے تو صاحب پاکستان کی ہار یقینی ہے اور آج جب ہمسایہ ٹیم میدان میں اترے گی تو ان کے کندھے اتریں اتریں سے ہوں گے ……. ماضی میں ہوئیں شکستوں کے بوجھ کی وجہ سے اتریں اتریں ہو ں گے کہ ……. کہ یہ کوئی چھوٹی یا معمولی بات نہیں ہے ……. بالکل بھی نہیں ہے کہ عالمی مقابلوں میں دونوں ٹیموں کا ماضی حال میں سات آٹھ بار آمنا سامنا ہوا تو ……. تو ہمسایہ ملک کو ایک نہیں ‘ دو نہیں تین نہیں بلکہ سات بار شکست کا منہ دیکھنا پڑا ……. ہار کا ذائقہ چکھنا پڑا …….اور آج اٹھویں بار ہار کا ہار پہننے کیلئے یہ ٹیم ہے تیار ۔ہمیں دُکھ ہوتا ہے اور افسوس بھی …….اس بات کا دُکھ اور افسوس کہ مانا کہ ہمسایہ ملک نے ہمیں بہت ستایا ‘ تنگ بھی کیا …….ہمارا جینا دو بھر کیا ……. لیکن ہمیں پھر بھی دُکھ ہو رہا ہے …….اس بات کا دُکھ کہ بے چارے اس ملک کے لوگوں کو ایک بھی خوشی نصیب میں نہیں ہے …….ایک بھی نہیں ۔اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج بھی ہمسایہ ملک میں نہ جانے کتنی آنکھوں سے آنسو ٹپکیں گے اور کتنے ٹی وی اسکرینوں کی ہڈی پسلی ایک کر دی جائے گی کہ……. کہ اسی کو کہتے ہیں اور…….اور سو فیصد کہتے ہیں ۔ آ بیل مجھے مار ۔ آنا!۔ ہے نا؟




