جمعہ, جون 5, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

’پریکشا پہ چرچا ‘:

وزیر اعظم کی طلبہ سے باتیں آج کی زندگی کی حقیقت ہے

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-02-12
in اداریہ
A A
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

بات چیت ہی مسائل کا حل:

تعلیم اور ٹیکنالوجی کے رشتے پر گزشتہ ایک دہائی میں جتنی بحث ہوئی ہے شاید اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ موبائل فون، انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت نے طالب علم کی دنیا بدل دی ہے۔ اب معلومات تک رسائی کے لیے  کسی خاص استاد کی دستیابی شرط نہیں رہی۔ مگر اسی انقلاب کے ساتھ ایک نیا مسئلہ بھی پیدا ہوا ہے سہولت کی زیادتی نے خودمختاری کو کمزور کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے وزیر اعظم نریندر مودی نے طلبہ سے اپنی گفتگو میں نمایاں کیا کہ ٹیکنالوجی کو آلہ رہنا چاہیے، آقا نہیں بننا چاہیے۔
یہ محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ عصرِ حاضر کی ایک بڑی سماجی حقیقت ہے۔ آج کے بچے اور نوجوان معلومات کے سمندر میں ضرور ہیں مگر توجہ کے قحط کا شکار بھی ہیں۔ موبائل فون کے بغیر کھانا نہ کھا سکنے کی مثال محض مبالغہ نہیں رہی بلکہ روزمرہ کا مشاہدہ بن چکی ہے۔ کلاس روم میں استاد پڑھا رہا ہوتا ہے مگر ذہن اسکرین پر چل رہی کسی ویڈیو یا نوٹیفکیشن میں اٹکا ہوتا ہے۔ امتحان کی تیاری کرتے ہوئے بھی انگلیاں بار بار موبائل کی طرف بڑھتی ہیں۔ نتیجہ یہ کہ گھنٹوں کی محنت کے باوجود مطالعہ گہرا نہیں ہو پاتا۔
اصل مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ انحصار ہے۔ انسان ہمیشہ اوزار بناتا رہا ہے تاکہ اپنی صلاحیت بڑھا سکے، مگر جب اوزار انسان کے طرزِ زندگی کا تعین کرنے لگے تو معاملہ بدل جاتا ہے۔ مصنوعی ذہانت اور اسمارٹ فون ذہن کو سہولت دیتے ہیں، مگر اگر وہ سوچنے کی عادت ہی کم کر دیں تو ترقی رک جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم نے طلبہ کو اے آئی سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اسے مہارت بڑھانے کے لیے استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔ خوف ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے جبکہ اندھا انحصار شخصیت کو کمزور کر دیتا ہے۔ متوازن رویہ ہی درست راستہ ہے۔
یہ بات تعلیمی نفسیات سے بھی ثابت ہے کہ گہری سیکھنے کی صلاحیت تب پیدا ہوتی ہے جب دماغ خود مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرے۔ اگر ہر سوال کا جواب فوراً سرچ انجن یا اے آئی سے مل جائے تو ذہن یادداشت کے بجائے محض تلاش کی عادت سیکھتا ہے۔ اس کا اثر امتحانات سے آگے زندگی کی عملی صلاحیتوں پر پڑتا ہے۔ ایسے طلبہ معلومات رکھتے ہیں مگر فہم کمزور ہوتا ہے۔ وہ جانتے بہت ہیں مگر سمجھتے کم ہیں۔
اسی لیے سابقہ سوالیہ پرچے حل کرنے اور بھرپور نیند لینے کی نصیحت محض امتحانی مشورہ نہیں بلکہ ایک مکمل ذہنی حکمت عملی ہے۔ سوالیہ پرچے حل کرنے سے ذہن سوچنے اور جوڑنے کی مشق کرتا ہے جبکہ مناسب نیند یادداشت کو مضبوط کرتی ہے۔ جدید تحقیق واضح کرتی ہے کہ نیند کے دوران دماغ معلومات کو ترتیب دیتا ہے۔ رات بھر جاگ کر پڑھنے والا طالب علم اگلے دن زیادہ بھولتا ہے جبکہ مناسب آرام لینے والا کم وقت میں بہتر نتیجہ دیتا ہے۔ افسوس کہ ہماری تعلیمی ثقافت میں نیند کو وقت کا ضیاع سمجھا جاتا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
وزیر اعظم نے نظم و ضبط کی جن چھوٹی عادتوں کا ذکر کیا‘ریڈ سگنل پر گاڑی کاانجن بند کرنا، کھانا ضائع نہ کرنا، فضول خرچی کم کرنا وہ بظاہر تعلیمی موضوع سے الگ دکھائی دیتی ہیں مگر دراصل شخصیت سازی کی بنیاد ہیں۔ تعلیم صرف معلومات نہیں بلکہ رویہ بناتی ہے۔ ایک طالب علم اگر اپنی روزمرہ زندگی میں نظم پیدا کر لے تو وہی نظم پڑھائی اور بعد میں پیشہ ورانہ زندگی میں منتقل ہو جاتا ہے۔ ترقی یافتہ معاشروں کی اصل طاقت ان کی ٹیکنالوجی نہیں بلکہ یہی عادات ہیں۔
یہاں والدین اور اساتذہ کا کردار سب سے اہم ہو جاتا ہے۔ گفتگو میں ماں اور استاد کے اثر کا ذکر دراصل اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ شخصیت کی تعمیر صرف نصاب سے نہیں ہوتی۔ بچہ جو دیکھتا ہے وہی سیکھتا ہے۔ اگر گھر میں ہر وقت اسکرین چل رہی ہو تو بچہ کتاب سے محبت کیسے کرے گا۔ اگر استاد خود تحقیق اور مطالعہ کا شوق نہ رکھتا ہو تو شاگرد میں تجسس کیسے پیدا ہوگا۔ ٹیکنالوجی کے دور میں تربیت کی ذمہ داری کم نہیں بلکہ زیادہ ہو گئی ہے کیونکہ مقابلہ اب انسان اور انسان کے درمیان نہیں بلکہ انسان اور مشین کی صلاحیت کے درمیان ہے۔
وزیر اعظم کی امتحان کو زندگی کا واحد مقصد نہ سمجھنے کی بات بھی قابلِ توجہ ہے۔ ہمارے معاشرے میں نمبروں کو کامیابی کا مترادف بنا دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں تعلیم دباؤ میں بدل جاتی ہے۔ طالب علم سیکھنے کے بجائے یاد کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ جب مقصد صرف نمبر رہ جائیں تو تخلیقی صلاحیتیں دب جاتی ہیں۔ تعلیم اگر زندگی بہتر بنانے کا ذریعہ بنے تو طالب علم سیکھنے سے لطف اٹھاتا ہے اور دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اچھے نتائج اکثر انہی کے آتے ہیں جو مطالعہ کو بوجھ نہیں سمجھتے۔
’پریکشا پہ چرچا ‘جیسے پروگراموں کی مقبولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ طلبہ رہنمائی چاہتے ہیں، صرف نصاب نہیں۔ لاکھوں رجسٹریشن اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نوجوان ذہنی دباؤ، مقابلے اور مستقبل کی غیر یقینی کیفیت سے نمٹنے کے لیے عملی مشورہ تلاش کر رہے ہیں۔ تعلیم کا نظام اگر صرف امتحان تک محدود رہے تو یہ خلا مزید بڑھتا جائے گا۔ اسکول اور کالج کو اب ذہنی صحت، وقت کے استعمال اور ٹیکنالوجی کے متوازن استعمال جیسے موضوعات کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنانا ہوگا۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی اچھی ہے یا بری۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس کا کنٹرول کس کے ہاتھ میں ہے۔ اگر طالب علم ٹیکنالوجی کو اپنی سیکھنے کی رفتار بڑھانے، تحقیق کرنے اور تخلیق کے لیے استعمال کرے تو یہی اوزار اسے عالمی مقابلے میں آگے لے جائے گا۔ مگر اگر یہی اوزار وقت، توجہ اور خود اعتمادی پر قابض ہو جائے تو یہی ترقی رکاوٹ بن جائے گی۔
اس لیے ٹیکنالوجی سے دور بھاگنا حل نہیں، اس پر قابو پانا حل ہے۔ طالب علم اگر روز کچھ وقت بغیر اسکرین کے مطالعہ، سوچ اور گفتگو میں گزارے تو وہ نہ صرف امتحان میں بہتر کرے گا بلکہ زندگی کے بڑے فیصلوں میں بھی مضبوط ہوگا۔ مستقبل ان لوگوں کا ہے جو مشین سے تیز نہیں بلکہ مشین سے زیادہ باشعور ہوں گے۔ یہی پیغام دراصل آج کے تعلیمی ماحول کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

بی جے پی کی خاتون ارکانِ پارلیمنٹ کا اپوزیشن کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

Next Post

بجٹ میں کچھ تو ہو گا !

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

2026-06-04
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بات چیت ہی مسائل کا حل:

2026-06-03
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عمر عبداللہ حکومت:

2026-06-02
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

حج انتظامات اور جموں و کشمیر :  آخر عازمین کے مسائل کب ختم ہوں گے؟

2026-05-31
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عید الاضحیٰ، قربانی کے جانور اور حکومتی بے حسی

2026-05-30
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عید الاضحی :آج کے دن بھی کچھ لوگ خوشیوں سے محروم ہیں!

2026-05-27
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بڈگام کی بیٹی اور ہمارا زخمی معاشرہ

2026-05-26
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

قربانی کے جانوروں کی من مانی قیمتیں

2026-05-24
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

بجٹ میں کچھ تو ہو گا !

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.