نئی دہلی، 10 فروری (یو این آئی)
لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کی حمایت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی خاتون ارکانِ پارلیمنٹ نے منگل کے روز چار فروری کے واقعے کے سلسلے میں اپوزیشن ارکان کے خلاف سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
بی جے پی ارکان کا الزام ہے کہ صدر کے خطبے پر تحریکِ تشکر کے دوران وزیرِ اعظم کے ایوان میں آنے سے پہلے اپوزیشن کی خاتون ارکان نے وزیرِ اعظم کی نشست کا گھیراؤ کر لیا تھا۔ بی جے پی کی خاتون ارکان نے لوک سبھا اسپیکر کو لکھے گئے خط میں کہا کہ چار فروری کو اپوزیشن کی خاتون ارکان نے نہ صرف وزیرِ اعظم کی نشست کا گھیراؤ کیا، بلکہ بعد میں جارحانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے اسپیکر کے کمرے تک بھی پہنچ گئیں۔ انہوں نے اس واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پارلیمنٹ کے وقار کو ٹھیس پہنچی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اگر اس معاملے میں کارروائی نہ کی گئی تو یہ ایک خطرناک مثال بنے گی اور جمہوری اداروں پر عوام کا اعتماد کمزور ہوگا۔ یہ خط کانگریس کی خاتون ارکان کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے جواب میں سامنے آیا ہے، جن میں انہوں نے حکمراں جماعت پر اپنے خلاف جھوٹے، بے بنیاد اور ہتک آمیز بیانات دینے کا الزام عائد کیا تھا۔
بی جے پی ارکان نے اپنے خط میں دعویٰ کیا کہ اپوزیشن ارکان ایوان کے ویل میں آئے، میزوں پر چڑھے، کاغذات پھاڑے اور اسپیکر کی جانب اچھالا۔ انہوں نے کہا کہ سینئر قیادت کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے وہ ضبط و تحمل سے کام لیتی رہیں اور اس پورے واقعے کو پارلیمانی جمہوریت کی تاریخ کے سیاہ ترین لمحات سے تعبیر کیا۔
لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے اس سے قبل کہا تھا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے انہوں نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ایوان میں نہ آنے کی درخواست کی تھی، کیونکہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ کچھ کانگریس ارکان وزیرِ اعظم کی نشست تک پہنچنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ وہیں کانگریس کی خاتون ارکان نے کہا کہ ان کا احتجاج پُرامن اور پارلیمانی روایات کے مطابق تھا، لیکن ان کے مطابق انہیں بے بنیاد نشانہ بنایا گیا۔ بی جے پی کے خط میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ تحریکِ تشکر پر بحث کے دوران اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو چار دن تک بار بار بولنے کا موقع نہیں دیا گیا۔
دوسری جانب اپوزیشن ارکان لوک سبھا اسپیکر کی جانب سے راہل گاندھی کو سابق آرمی چیف جنرل ایم۔ ایم۔ نروَنے کی خودنوشت سے 2020 کے ہندوستان۔چین سرحدی تنازع سے متعلق متنازع اقتباسات پڑھنے کی اجازت نہ دیے جانے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ بی جے پی ارکان نے اس پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مسٹر گاندھی ایوان کو گمراہ کر رہے ہیں اور مسلح افواج کی توہین کر رہے ہیں۔ لوک سبھا اسپیکر نے ان ہنگاموں کو پہلے سے منصوبہ بند اور پارلیمنٹ کے وقار کے منافی قرار دیا ہے۔










