نئی دہلی، 20 جولائی (یو این آئی) صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے پیر کو چیسیناؤ میں مالدووا کی صدر مایا سانڈو کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کی جس میں دونوں ممالک کے درمیان زراعت، لاجسٹکس اور انفراسٹرکچر، صحت اور ادویات، قابلِ تجدید توانائی، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (ڈی پی آئی)، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور اختراع سمیت کئی شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔
دونوں ممالک کے درمیان یہ اتفاق محترمہ مرمو کے مالدووا کے سرکاری دورے کے دوران چیسیناؤ میں واقع صدارتی محل میں وفد کی سطح کی بات چیت میں ہوا۔ یہ مالدووا کا کسی بھی ہندوستانی صدر کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔ بات چیت کے دوران محترمہ مرمو نے کہا کہ یہ دورہ ہندوستان-مالدووا تعلقات میں ایک تاریخی سنگِ میل ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی دوستی اور باہمی اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور مالدووا کے درمیان تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے خوشگوار اور دوستانہ تعلقات رہے ہیں اور جغرافیائی دوری کے باوجود امن، ترقی اور بین الاقوامی تعاون کے تئیں مشترکہ عزم کی رہنمائی میں یہ شراکت داری مسلسل مضبوط ہوئی ہے۔
دو طرفہ تعلقات میں اقتصادی تعاون کو ایک اہم بنیاد قرار دیتے ہوئے صدرجمہوریہ نے تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے، سپلائی چین کو مضبوط بنانے، رابطوں کو بڑھانے اور دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان قریبی تعاون کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ محترمہ مرمو نے مالدووا کے پیشہ ور افراد کے لیے انڈین ٹیکنیکل اینڈ اکنامک کوآپریشن (آئی ٹی ای سی) ٹریننگ پروگرام کے تحت تربیتی سیٹوں کی تعداد دوگنی کرنے کے ہندوستان کے اعلان کا بھی ذکر کیا۔ ان میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے متعلق خصوصی کورسز شامل ہوں گے۔ انہوں نے مالدووا کے سفارت کاروں کو ہندوستان کے فارن سروس انسٹی ٹیوٹ میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور سائبر ڈپلومیسی پر خصوصی کورسز میں شرکت کی دعوت بھی دی۔
دونوں لیڈروں نے مشترکہ عالمی چیلنجوں سے نمٹنے اور ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال دنیا کی تعمیر میں مل کر کام جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔









