نئی دہلی، 18 جولائی (یو این آئی) کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے بھوک ہڑتال پر بیٹھے سماجی کارکن سونم وانگچک کو اٹھا کر ہسپتال لے جانے کی کارروائی پر مرکزی سرکار کی نکتہ چینی کی اور کہا کہ جنتر منتر پر جو کچھ ہوا وہ جمہوریت اور آئین پر ایک اور سیاہ دھبہ ہے۔
مسٹر کھرگے نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ جنتر منتر پر جو ہوا، وہ جمہوریت اور آئین پر ایک اور سیاہ دھبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاہے ماں گنگا کو بچانے کے لیے 111 دنوں تک بھوک ہڑتال پر بیٹھے پروفیسر جی ڈی اگروال ہوں، ہریانہ کی اولمپک خاتون پہلوان ہوں، تحریک چلانے والے 750 کسان، دلت-آدیواسی برادری یا پھر پیپر لیک سے متاثرہ طلبہ اور ان کے اہلخانہ، اس سرکار نے کسی کی آواز نہیں سنی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سرکار کی نظر میں جو بھی اپنی بات اٹھاتا ہے، اسے ”ملک دشمن“ یا ”پرجیوی“ قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری احتجاج کو دبانے کا یہ رجحان تشویشناک ہے۔ کانگریس صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ کوٹا اور دہرادون سے ”طلبہ کی گونج“ کی شروعات ہو چکی ہے اور یہ آواز دہلی کی دہلیز تک ضرور پہنچے گی۔
قابلِ ذکر ہے کہ سماجی کارکن سونم وانگچک کو آج صبح دہلی پولیس جنتر منتر سے صفدر جنگ ہسپتال لے گئی۔ وانگچک گزشتہ 20 دنوں سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے۔ اس کارروائی کو لے کر اپوزیشن پارٹیوں کا احتجاج مسلسل تیز ہو رہا ہے اور کئی لیڈروں نے دہلی پولیس کی کارروائی اور مرکزی سرکار کے کردار پر سوال اٹھائے ہیں۔







