نئی دہلی، 18 جولائی (یو این آئی) بھارت ٹیکس 2026 کے ابتدائی تین دنوں نے بھارت منڈپم کو عالمی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت کا مرکز بنا دیا، جہاں ملک اور بیرونِ ملک سے آنے والے شرکاء کی غیر معمولی شرکت دیکھنے میں آئی۔ دنیا کی سب سے بڑی جامع ٹیکسٹائل نمائش میں ناظرین کی ریکارڈ آمد، تجارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی، خریداروں اور فروخت کنندگان کے درمیان وسیع پیمانے پر ملاقاتیں اور علم و تجربے کے مؤثر تبادلے نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ بھارت عالمی سطح پر ٹیکسٹائل کے شعبے میں سورسنگ، مینوفیکچرنگ، اختراع اور سرمایہ کاری کے لیے ایک قابلِ اعتماد اور ابھرتی ہوئی منزل بن چکا ہے۔
سولہ لاکھ مربع فٹ سے زائد رقبے پر پھیلے بھارت ٹیکس 2026 میں 1647 نمائش کنندگان نے شرکت کی، جبکہ تقریباً 95 ہزار تجارتی ناظرین نے نمائش کا رخ کیا، جن میں 20 ہزار سے زائد افراد نے ایک سے زیادہ مرتبہ شرکت کی۔ اس کے علاوہ 11315 خریدار، جن میں 6090 بین الاقوامی خریدار شامل تھے اور 138 ممالک سے تعلق رکھنے والے 3461 مندوبین اور شرکاء نے حصہ لیا، جو بھارت کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ٹیکسٹائل شعبے پر عالمی اعتماد کا واضح مظہر ہے۔نمائش کے پہلے تین دنوں کے دوران 28500 سے زائد کاروباری (بی ٹو بی) ملاقاتیں، 100 سے زیادہ حکومت تا حکومت (جی ٹو جی) اور کاروبار تا حکومت (بی ٹو جی) روابط، نیز متعدد اہم سرمایہ کاری مذاکرات منعقد ہوئے، جس سے نمائش کے ہال مسلسل تجارتی سرگرمیوں سے بھرپور رہے۔بھارت ٹیکس 2026 کے دوران ٹیکسٹائل کے شعبے میں تقریباً 14,300 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے وعدے سامنے آئے۔ مختلف ریاستوں کی جانب سے 30 سے زائد مفاہمت ناموں (ایم او یوز) پر دستخط کیے گئے، جن میں کرناٹک (2821 کروڑ روپے، 11020 روزگار)، بہار (1476 کروڑ روپے، 40500 سے زائد روزگار)، مہاراشٹر (1095 کروڑ روپے) اور آندھرا پردیش (4100 کروڑ روپے) شامل ہیں۔ ان معاہدوں نے بھارت کے ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے میں ریاستی سطح پر ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ میں اس نمائش کے کلیدی کردار کو مزید مضبوط کیا ہے۔مزید برآں، ری اینڈ اَپ نے بھارت میں 4800 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا، جبکہ نمائش کے دوران تقریباً 2.8 ارب امریکی ڈالر مالیت کی سنجیدہ تجارتی استفسارات اور کاروباری مواقع بھی سامنے آئے۔






