نئی دہلی، 18 جولائی (یو این آئی) بیس دن سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے سماجی کارکن سونم وانگچک کو ہفتہ کی صبح دہلی پولیس صفدر جنگ ہسپتال لے کر پہنچی، جہاں ڈاکٹروں نے ان کے جسم میں پانی کی کمی اور پوٹاشیم کی کمی کی علامات پائیں۔ انہوں نے نس کے ذریعے (آئی وی) مائع، او آر ایس جیسے مشروبات اور دیگر ادویات لینے سے انکار کر دیا ہے۔
ہسپتال کی جانب سے جاری کردہ ہیلتھ بلیٹن کے مطابق، وانگچک کو صبح 7:40 بجے وردھمان مہاویر میڈیکل کالج (وی ایم ایم سی) اور صفدر جنگ ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ داخلے کے وقت وہ پوری طرح ہوش میں تھے اور ان کی نبض، بلڈ پریشر اور آکسیجن کی سطح معمول کے مطابق پائی گئی۔ بے ہوشی کا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا۔
بلیٹن کے مطابق، جانچ میں جسم میں پانی کی کمی کے اشارے ملے۔ بلڈ گیس اینالیسس میں "کمپینسیٹڈ ایسڈوسس” اور سیرم پوٹاشیم کی سطح کم پائی گئی۔ بلڈ شوگر کی سطح 78 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر درج کی گئی۔ دوبارہ جانچ میں بھی پوٹاشیم کی سطح کم ہی ملی۔ ہسپتال نے بتایا کہ داخلے کے وقت پیشاب میں کیٹون کی سطح ایک تھی، جو دوپہر ایک بجے تک بڑھ کر تین ہو گئی۔
ڈاکٹروں نے انہیں نس کے ذریعے مائع دینے کا مشورہ دیا، لیکن انہوں نے آئی وی فلوئڈ، او آر ایس اور دیگر تمام ادویات لینے سے انکار کر دیا۔ ہسپتال کے مطابق ان کی صحت کی حالت پر مسلسل نگرانی رکھی جا رہی ہے اور ان کی صحت کے پیشِ نظر علاج قبول کرنے کے لیے انہیں مسلسل مشاورت دی جا رہی ہے۔
اس دوران، سونم وانگچک کی اہلیہ محترمہ گیتانجلی انگمو نے کہا کہ ان کی مرضی کے بغیر ان کے شوہر کو کچھ بھی نہ کھلایا جائے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، "میں دہلی کے صفدر جنگ ہسپتال میں ہوں، جہاں سونم وانگچک کو داخل کرایا گیا ہے۔ میری، ان کے خاندان اور 20 دنوں سے ان کی نگرانی کر رہے ڈاکٹروں کی رضامندی کے بغیر انہیں منہ سے یا نس کے ذریعے کوئی بھی دوا یا چیز نہیں دی جانی چاہیے۔”
قابلِ ذکر ہے کہ دہلی پولیس نے بھوک ہڑتال پر بیٹھے سماجی کارکن اور ماہرِ تعلیم سونم وانگچک کو جنتر منتر سے ہفتہ کی صبح ہٹا کر صفدر جنگ ہسپتال میں داخل کر دیا۔ وہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کے ساتھ بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے۔ مسٹر وانگچک کی بھوک ہڑتال کا آج 21واں دن تھا اور ان کا وزن نو کلو سے زیادہ گھٹ گیا تھا۔ ان کے لیے حمایت کا اظہار کرنے کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں کے لیڈر جنتر منتر پر جا کر ان سے ملے تھے۔
مسٹر وانگچک اور کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے پارلیمنٹ کے مانسون سیشن سے پہلے 20 جولائی کو اپنے مطالبات کی حمایت میں پارلیمنٹ تک مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا اور لوگوں سے بڑی تعداد میں اس میں شامل ہونے کی اپیل کی تھی۔







