نئی دہلی، 20 جولائی (یو این آئی) سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہائی کورٹوں کے سابق چیف جسٹس صاحبان اور ججوں کے لیے ریٹائرمنٹ کے بعد کی سہولیات پر یکساں قوانین بنانے کے لیے دو ہفتوں کے اندر ایک کمیٹی تشکیل دے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اس وقت ضروری سہولیات کی دستیابی الگ الگ ریاستوں میں کافی مختلف ہے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوائمالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے ہائی کورٹ کے ججوں کو دی جانے والی سکیورٹی اور ریٹائرمنٹ کے بعد کی دیگر سہولیات سے متعلق ایک عرضی پر پیر کو سماعت کرتے ہوئے یہ ہدایت جاری کی۔
بنچ نے کہا کہ اس کے سامنے یہ معاملہ ہائی کورٹوں کے سابق چیف جسٹس صاحبان اور ججوں کو ملنے والے ریٹائرمنٹ کے بعد کے فوائد اور سہولیات سے جڑا ہے۔ سماعت کے دوران، چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ کیا سکیورٹی انتظامات کے لیے کچھ ریاستوں کی طرف سے دی جانے والی مالی امداد کافی تھی؟
جسٹس سوریہ کانت نے پوچھا، ”کیا 45,000-50,000 روپے میں ایک ڈرائیور اور سکیورٹی آفیسر ملنا ممکن ہے؟“ چیف جسٹس نے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا سے کہا کہ ہائی کورٹ کے ججوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد کی سہولیات دینے میں ریاستوں کے درمیان واضح طور پر یکسانیت کی کمی ہے۔
عدالت نے مشورہ دیا کہ مرکزی سرکار ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس صاحبان اور ججوں کے لیے ریٹائرمنٹ کے بعد کی سہولیات کے یکساں قوانین تیار کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے۔ بنچ نے وارننگ دی کہ ایسا نہ ہونے پر عدالت کو خود ایک کمیٹی بنانی پڑے گی۔ اس پر سالیسیٹر جنرل نے عدالت کو یقین دلایا کہ مرکز کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور وہ اس مسئلے کو حل کرے گا۔
یہ دیکھتے ہوئے کہ گھریلو مددگار، ڈرائیور، ٹیلی فون، طبی اخراجات کی بازادائیگی اور سرکاری رہائش جیسے فوائد الگ الگ ریاستوں میں مختلف ہیں، بنچ نے کہا کہ اس طرح کے فرق کا کوئی جواز نہیں ہے۔ عدالت نے اس کمیٹی سے اپنی سفارشات تین ماہ کے اندر مرکزی سرکار اور سپریم کورٹ کو سونپنے کے لیے بھی کہا ہے۔










