نئی دہلی؍۳۱ ؍اگست
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے پیر کے روز ’آئین اور شریعت کے تحفظ‘ کے لیے ملک گیر ’’عوامی تحریک‘‘ شروع کرنے کا اعلان کیا۔ اس تحریک کے تحت ملک کے بڑے شہروں میں عوامی اجتماعات اور احتجاجی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف مبینہ امتیازی سلوک، آئینی خلاف ورزیوں اور انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات پر مشتمل ایک جامع وائٹ پیپر تیار کرکے اسے میڈیا، انسانی حقوق کی تنظیموں، دانشوروں، منتخب نمائندگان اور متعلقہ اداروں تک پہنچائے گا۔
بورڈ کے مطابق ’’آئین اور شریعت کے تحفظ کی تحریک‘‘ کسی ایک برادری یا طبقے کی تحریک نہیں بلکہ ہندوستان کے آئین، جمہوریت کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، مذہبی آزادی، انسانی وقار، قومی اتحاد، امن اور بھائی چارے کے تحفظ کے لیے ایک مشترکہ قومی جدوجہد ہے۔
بورڈ کے ارکان نے پریس کانفرنس میں کہا، ’’ہم پختہ یقین رکھتے ہیں کہ انصاف، محبت، مکالمہ، باہمی احترام اور آئینی جدوجہد ہی ہندوستان کے پُرامن مستقبل کی حقیقی ضمانتیں ہیں۔‘‘ انہوں نے ملک کے ہر انصاف پسند، جمہوری اور امن پسند شہری، سماجی و مذہبی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے ذمہ دار ارکان سے تحریک میں شامل ہونے کی اپیل کی۔
بورڈ نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران ملک میں ایسے حالات مسلسل پیدا ہوئے ہیں جن میں کمزور اور حاشیے پر موجود طبقات، بالخصوص مسلمانوں کو مذہبی، سماجی، سیاسی اور اقتصادی سطحوں پر شدید دباؤ، عدم تحفظ اور مبینہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اے آئی ایم پی ایل بی نے کہا کہ ہجومی تشدد، قانونی طریقہ کار سے ہٹ کر بلڈوزر کارروائیاں، مساجد، مدارس اور درگاہوں کو نشانہ بنانا، وقف املاک اور قبرستانوں پر مبینہ غیر قانونی قبضے، مسلم نوجوانوں کو بے بنیاد مقدمات میں من مانی طور پر گرفتار کرنا، مذہبی آزادی میں مداخلت، یکساں سول کوڈ کے ذریعے مسلم پرسنل لا کو کمزور کرنے کی کوششیں اور اقلیتوں کے عقائد کو متاثر کرنے کے لیے وندے ماترم گانے کو لازمی قرار دینے کی کوششوں نے آبادی کے ایک بڑے حصے میں عدم تحفظ کا احساس مزید گہرا کیا ہے۔
بورڈ نے بتایا کہ ملک کے مختلف اجتماعات سے ممتاز دانشور، مختلف مذاہب کے مذہبی رہنما، دانشور اور سماجی و سیاسی شخصیات خطاب کریں گی، جبکہ نئی دہلی میں احتجاجی پروگرام بھی منعقد کیا جائے گا۔
بورڈ نے مزید کہا کہ وہ اپنے چارٹر آف ڈیمانڈز کو حتمی شکل دے کر ہر ریاست میں گورنروں اور ہر ضلع میں ضلعی انتظامیہ کے ذریعے صدرِ جمہوریہ ہند کو پیش کرے گا۔
ایجنسیاں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔










