’خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے‘سرحد پار دہشت گردی کی روک تھا کیلئے ناقابل واپسی اقدامات تک معاہدہ معطل رہیگا‘
سرینگر؍۳۱؍اگست
نئی دہلی نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ زیرِ التوا سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے اور دنیا کے قدیم ترین مستقل بین الاقوامی تنازعات کے فورم، نام نہاد ثالثی عدالت کو بھارت کے خودمختار فیصلوں پر کوئی اختیار حاصل نہیں۔
پیر کے روز ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے عبوری اقدامات اور معاہدے کی حیثیت سے متعلق اپنا فیصلہ جاری کیا، جسے اس نے ’’ایوارڈ‘‘ قرار دیا۔
ستمبر۱۹۶۰ میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ بھارت اور پاکستان کے درمیان دریائے سندھ کے نظام کے پانی کی تقسیم کو منظم کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔
گزشتہ سال۲۲؍ اپریل کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے میں۲۶؍ افراد کی ہلاکت کے ایک روز بعد بھارت نے پاکستان کے خلاف متعدد تادیبی اقدامات کا اعلان کیا تھا، جن میں سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا بھی شامل تھا۔
نئی دہلی نے اپنے دیرینہ مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ’’خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے‘‘ اور اسلام آباد کی جانب سے اپنی سرزمین سے سرگرم سرحد پار دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے قابلِ تصدیق اور ناقابلِ واپسی اقدامات کیے جانے تک معاہدے کے تحت پانی سے متعلق تعاون معطل رہے گا۔
بھارت کی یہ پالیسی پانی کے تعاون کو براہ راست سرحد پار سلامتی سے جوڑتی ہے اور یہ واضح پیغام دیتی ہے کہ ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی جاری رہنے کے دوران اقتصادی اور قدرتی وسائل کے اشتراک کو جاری نہیں رکھا جا سکتا۔
وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا، ’’اس نام نہاد عدالت کو عالمی بینک نے معاہدے کی شرائط کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے قائم کیا تھا اور بھارت اس کے نام نہاد ایوارڈ کو واضح طور پر مسترد کرتا ہے، جس طرح وہ اس غیر قانونی طور پر تشکیل دیے گئے ادارے کے سابق تمام اعلانات کو بھی مسترد کرتا رہا ہے۔‘‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارت نے قانونی طور پر اس ’’غیر قانونی طور پر قائم ادارے‘‘ کے وجود کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس مبینہ ثالثی ادارے کا قیام ہی سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
نئی دہلی نے کہا کہ وہ نہ تو کبھی اس ادارے کے سامنے پیش ہوا ہے اور نہ ہی اس کے سابقہ اعلانات کو کسی حیثیت میں تسلیم کیا ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ نے کہا، ’’اس نام نہاد ثالثی عدالت کو بھارت کے خودمختار فیصلوں کے بارے میں کوئی اختیار حاصل نہیں کہ وہ ان پر فیصلہ دے۔ اس کے اعلانات، خواہ اب کیے جائیں یا مستقبل میں، بھارت کی جانب سے جاری منصوبوں کے حوالے سے اس کے اقدامات پر کوئی اثر نہیں ڈالیں گے۔‘‘
بھارت نے دوٹوک انداز میں ایک بار پھر کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو زیرِ التوا رکھنے کا اس کا فیصلہ بدستور نافذ ہے۔
اس سے پہلے دی ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت نے بھارت کو پاکستان کے ساتھ پانی کی تقسیم کے سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد کی ہدایت دی ہے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت جموں کشمیر کے علاقے میں پن بجلی گھر پر تعمیرات محدود کرے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پیر کے روز مستقل عدالتِ ثالثی نے اپنے ایوارڈ میں کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے کیونکہ بھارت کے پاس اس معاہدے کو ختم کرنے یا معطل کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔
بین الحکومتی عدالت نے کہا کہ ’بھارت کو معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا احترام کرنا چاہیے، جن میں مغربی دریاؤں پر اس کے پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن سے متعلق ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔‘
عدالت نے کہا کہ عالمی بینک کی جانب سے مقرر کردہ ایک غیر جانبدار ماہر جولائی۲۰۲۷ تک یہ فیصلہ کرے گا کہ ہمالیائی خطے میں پن بجلی گھروں کی تعمیر معاہدے کے مطابق ہے یا نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق دیسک)









