سرینگر؍۳۱؍اگست
نیتی آیوگ کی جانب سے باغبانی کے شعبے کی ترقی کے لیے تیار کیے گئے روڈ میپ کے مطابق جموں و کشمیر میں سیب کی پیداواریت میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ بادام کی کاشت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ تاہم، مجموعی طور پر خطے میں پھلوں کی پیداوار۱۹۸۰کے بعد پانچ گنا سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔
یہ انکشاف ’’جموں و کشمیر مرکز کے زیر انتظام خطے میں۲۰۴۷تک باغبانی کی ترقی کا روڈ میپ‘‘ نامی رپورٹ میں کیا گیا ہے، جس میں جموں و کشمیر کی باغبانی معیشت کے بدلتے ڈھانچے، پیداواریت اور اسے درپیش چیلنجز کا جائزہ لیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پھلوں کی کاشت کے زیرِ استعمال رقبہ۱۹۸۰ یں۱ء۳۱ لاکھ ہیکٹر تھا جو ۲۰۲۲میں بڑھ کر۳ء۴۴ لاکھ ہیکٹر ہو گیا۔ اسی عرصے کے دوران پھلوں کی مجموعی پیداوار۵ء۶ لاکھ ٹن سے بڑھ کر۲۷ء۲۲ لاکھ ٹن تک پہنچ گئی۔
تاہم، پیداواریت۱۹۸۰ کے۴ء۳ ٹن فی ہیکٹر کے مقابلے میں۲۰۲۲ میں بڑھ کر۷ء۹۱ ٹن فی ہیکٹر ہوئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیداوار میں بڑے پیمانے پر اضافہ بنیادی طور پر زیرِ کاشت رقبے میں توسیع کے ذریعے ہوا، جبکہ پیداواریت میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں ہو سکا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب باغبانی کے زیرِ کاشت رقبے میں مزید توسیع کی گنجائش محدود ہوتی جا رہی ہے، اس لیے مستقبل میں اس شعبے کی ترقی کے لیے پیداواریت میں اضافہ پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔
سیب، جو جموں و کشمیر میں پھلوں کی مجموعی کاشت کے تقریباً نصف رقبے پر مشتمل ہے اور خطے کی کل پھلوں کی پیداوار میں تین چوتھائی سے زیادہ حصہ رکھتا ہے، پیداواریت میں کمی کے آثار دکھا رہا ہے۔
نیتی آیوگ کے مطابق۲۰۲۰ ۔۲۰۲۲سے۲۰۲۲۔۲۳ کے دوران سیب کی پیداواریت میں مرکب سالانہ شرح نمو منفی۰ء۳۷فیصد رہی۔
رپورٹ میں جموں و کشمیر میں بادام کی کاشت میں نمایاں کمی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ بادام کی کاشت کے زیرِ استعمال رقبے میں تقریباً۱۰ہزار ہیکٹر کی کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ حالیہ برسوں میں یہ کمی مزید نمایاں ہوئی ہے۔
یہ صورتحال جموں و کشمیر کی باغبانی معیشت کے دو اہم اجزا کی پائیداری کے حوالے سے تشویش پیدا کرتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب کسانوں کو موسمیاتی تبدیلی، مارکیٹ کی بدلتی ضروریات اور پیداوار کی بڑھتی ہوئی لاگت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
نیتی آیوگ نے باغبانی کی پیداواریت بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کی سفارش کی ہے، جن میں ہائی ڈینسٹی پلانٹیشن، معیاری اور بہتر پودے لگانے کا مواد، بہتر اقسام، جدید باغبانی طریقوں اور زرعی توسیعی خدمات کو مضبوط بنانا شامل ہے۔
روڈ میپ میں فصل کی کٹائی کے بعد کی سہولیات، فوڈ پروسیسنگ، ذخیرہ کرنے کے انتظامات اور مارکیٹ سے بہتر روابط پیدا کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے، تاکہ پیداوار میں اضافے کا براہِ راست فائدہ کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافے کی صورت میں سامنے آئے۔
جموں و کشمیر میں باغبانی سے ایک بڑی آبادی کا روزگار وابستہ ہونے کے پیش نظر رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اب توجہ صرف زیرِ کاشت رقبہ بڑھانے پر نہیں بلکہ پیداواریت میں اضافے، ویلیو ایڈیشن اور باغات کو موسمیاتی و دیگر خطرات کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنانے پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
(ایجنسیاں )










