منگل, ستمبر 1, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

پاکستانی انسانی حقوق کمیشن کا پی او جے کے انتخابات کی شفافیت پر سوال

 ہونے والی بدامنی طویل عرصے سے چلے آ رہے سیاسی اور معاشی مسائل، اداروں پر عدم اعتماد اور طرزِ حکمرانی کی خامیوں کا نتیجہ:کمیشن

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-09-01
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
پاکستانی انسانی حقوق کمیشن کا پی او جے کے انتخابات کی شفافیت پر سوال
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

’کوئی اختیار نہیں‘،ثالثی عدالت کا فیصلہ مسترد 

سنہا کی انڈین ریڈ کراس سوسائٹی کی سالانہ جنرل میٹنگ کی صدارت

سرینگر؍۳۱؍اگست

                پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن نے کہا ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر (پی او کے) میں مظاہرین کے خلاف ریاست نے ’غیر متناسب طاقت کا استعمال‘ کیا، جبکہ تشدد اور بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات سے متاثرہ انتخابی عمل کی ساکھ پر بھی سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔

                ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان(ایچ آر سی پی) کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کی ہفتہ کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پی او کے میں ہونے والی بدامنی طویل عرصے سے چلے آ رہے سیاسی اور معاشی مسائل، اداروں پر عدم اعتماد اور طرزِ حکمرانی کی خامیوں کا نتیجہ ہے۔

                ایچ آر سی پی نے کہا، ’’ریاست کی جانب سے بڑھتا ہوا محاذ آرائی پر مبنی ردِعمل، جس میں طاقت کا غیر متناسب استعمال بھی شامل ہے، نے مزید تقسیم پیدا کی، سیاسی پولرائزیشن میں اضافہ کیا اور عوامی اعتماد کو مجروح کیا۔‘‘ کمیشن نے مزید کہا کہ اس کے مشن کو تشدد کے پیمانے اور سکیورٹی فورسز کے طرزِ عمل کے حوالے سے ایک دوسرے سے بالکل متضاد بیانات موصول ہوئے۔

                پی او کے قانون ساز اسمبلی کی۴۵ نشستوں کے انتخابات۲۷ جولائی سے۱۰؍ اگست تک تین مراحل میں منعقد ہوئے۔

                پابندی کا شکار جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی جون سے پی او کے میں متنازع۱۲ مہاجر نشستوں کے خلاف احتجاج کر رہی تھی۔ کمیٹی کا الزام ہے کہ مقتدر حلقے ان نشستوں کو اپنے سیاسی مفادات کے مطابق استعمال کرتے ہیں تاکہ پی او کے کی نام نہاد حکومت کی سربراہی کے لیے اپنی پسند کا وزیراعظم لایا جا سکے۔

                حکومت اور جے اے اے سی کے درمیان مذاکرات۳۰ مئی کو ناکام ہونے کے بعد حکومت نے۵جون کو انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت تنظیم پر پابندی عائد کر دی۔

                جے اے اے سی کے مطابق۲۷ جولائی کو انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران۴۰ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اس کا دعویٰ ہے کہ جون کے پہلے ہفتے سے اب تک تقریباً۴۰۰ مظاہرین مارے جا چکے ہیں۔ وفاقی حکومت نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

                ایچ آر سی پی نے مظاہرین کے خلاف ’’مہلک اور ضرورت سے زیادہ‘‘ طاقت کے استعمال کے الزامات پر خصوصی تشویش کا اظہار کیا۔ کمیشن کے مطابق اسے متعدد خاندانوں کی جانب سے ایسے بیانات موصول ہوئے جن میں الزام لگایا گیا کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں متعدد مظاہرین ہلاک یا شدید زخمی ہوئے۔

                رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ کشمیر پولیس کے سربراہ نے جون سے اب تک تقریباً۳۸ سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔

                کمیشن نے کہا، ’’ہم شہری ہلاکتوں کی مکمل تعداد یا ان کے حالات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکے، خاص طور پر اس لیے کہ ٹیم کو راولاکوٹ تک رسائی نہیں دی گئی، جو تشدد کے اہم مراکز میں سے ایک تھا۔‘‘

                ایچ آر سی پی نے جون سے اب تک ہونے والی تمام ہلاکتوں اور سنگین نوعیت کے زخمیوں کی آزاد، غیر جانب دار اور جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ طاقت کا استعمال قانونی، ضروری اور متناسب تھا یا نہیں۔

                رپورٹ میں سیاسی کارکنوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی اور احتیاطی حراست سے متعلق قوانین کے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔

                پی او کے میں ہونے والے انتخابات کے بارے میں ایچ آر سی پی نے کہا کہ سکیورٹی اہلکاروں کی بھاری تعیناتی، طویل عرصے تک مواصلاتی پابندیاں، بڑی سیاسی جماعتوں کا بائیکاٹ، مرحلہ وار ووٹنگ اور سات حلقوں میں انتخابات ملتوی کیے جانے سے انتخابی عمل کی ساکھ پر وسیع تر سوالات اٹھتے ہیں۔

                بھارت کا مؤقف ہے کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے پورے مرکز کے زیر انتظام علاقے بھارت کے اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصے ہیں۔ نئی دہلی یہ بھی کہتا ہے کہ پاکستان ان علاقوں کے بعض حصوں پر ’’غیر قانونی اور جبری قبضہ‘‘ کیے ہوئے ہے۔

                بھارت نے۴؍ اگست کو پی او کے میں ہونے والے نام نہاد مقامی انتخابات کو ’’مکمل ڈھونگ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسی ’’کھوکھلی‘‘ مشقیں خطے کی زمینی حقیقت کو چھپا نہیں سکتیں۔

                وزارت خارجہ نے پی او کے میں مظاہرین کے خلاف پاکستانی کارروائیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی برادری کو انسانی حقوق پر اسلام آباد کے ’’منافقانہ لیکچر‘‘ کی ’’کمزور تہہ‘‘ کے پیچھے موجود حقیقت کو دیکھنا چاہیے۔

                وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک باقاعدہ میڈیا بریفنگ میں کہا، ’’پی او کے میں ہونے والا یہ نام نہاد مقامی انتخاب مکمل ڈھونگ ہے۔ اصل حقیقت عوامی احتجاج اور پاکستانی فورسز کی جانب سے بے دریغ ہلاکتیں ہیں۔ ایسی کھوکھلی مشقیں حقیقت کو چھپا نہیں سکتیں۔‘‘

                ایچ آر سی پی نے مظاہرین، کارکنوں، صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کے خلاف مقدمات کے آزادانہ جائزے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ کمیشن نے کہا کہ ان افراد کے خلاف مقدمات واپس لیے جانے چاہئیں جنہیں صرف پرامن سیاسی سرگرمی یا قانونی اجتماع کی وجہ سے گرفتار یا مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔

                رپورٹ میں صحافت اور معلومات تک رسائی پر پابندیوں پر بھی تنقید کی گئی۔ اس کے مطابق صحافیوں کو گرفتاریوں، قانونی کارروائیوں، متاثرہ علاقوں تک رسائی پر پابندیوں اور اضافی سکیورٹی تقاضوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ طویل مواصلاتی بندش نے ہلاکتوں، زخمیوں، گرفتاریوں اور مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کی آزادانہ رپورٹنگ اور تصدیق کو شدید متاثر کیا۔

                کمیشن نے کہا، ’’مواصلاتی بندش کا دائرہ سیاسی سرگرمیوں سے کہیں آگے بڑھ گیا، جس سے بینکاری، تعلیم، تجارت، ٹرانسپورٹ، سرکاری انتظامیہ اور صحت عامہ کی خدمات متاثر ہوئیں۔‘‘

                پی او کے قانون ساز اسمبلی میں مجموعی طور پر۵۳ نشستیں ہیں۔ ان میں۴۵ براہِ راست منتخب ہوتی ہیں، جبکہ آٹھ نشستیں خواتین، ٹیکنوکریٹس اور علما کے لیے مخصوص ہیں۔

                ۴۵  براہِ راست منتخب نشستوں میں سے سات نشستوں پر انتخابات امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث نہیں ہو سکے۔ ان میں پونچھ کی پانچ اور سدھنوتی کی دو نشستیں شامل ہیں۔

                براہِ راست منتخب ہونے والے۳۸؍ ارکان نے بعد میں آٹھ مخصوص نشستوں کے لیے ہونے والے انتخابات میں حصہ لیا۔

                وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت والی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پاس موجودہ۴۶ رکنی ایوان میں۳۱ نشستیں ہیں، جبکہ وفاق میں اس کی اتحادی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے پاس۱۴ نشستیں ہیں۔ ایک نشست جیتنے والی عوامی دست و بازو پارٹی کے رکن نے بھی مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اتحاد کر لیا ہے۔

                مسلم لیگ (ن) کے بیرسٹر افتخار گیلانی کو مظفرآباد-III کی عام نشست پر پیپلز پارٹی کے امیدوار کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی، تاہم بعد میں وہ ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست پر منتخب ہو گئے اور اب انہیں پی او کے کا وزیراعظم منتخب کر لیا گیا ہے۔

                مسلم لیگ (ن)، خصوصاً پارٹی کے بانی چیئرمین نواز شریف، پی او کے کی حکومت کی سربراہی کے لیے ایک شکست خوردہ امیدوار کے انتخاب پر مختلف حلقوں، حتیٰ کہ اپنی جماعت کے اندر سے بھی، شدید تنقید کی زد میں ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔

 

(ندائے مشرق ویب ڈیسک )

 

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

سنہا کی انڈین ریڈ کراس سوسائٹی کی سالانہ جنرل میٹنگ کی صدارت

Next Post

’کوئی اختیار نہیں‘،ثالثی عدالت کا فیصلہ مسترد 

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

’کوئی اختیار نہیں‘،ثالثی عدالت کا فیصلہ مسترد 
اہم ترین

’کوئی اختیار نہیں‘،ثالثی عدالت کا فیصلہ مسترد 

2026-09-01
’بھارت کثرت میں وحدت کے اصول پر قائم‘
اہم ترین

سنہا کی انڈین ریڈ کراس سوسائٹی کی سالانہ جنرل میٹنگ کی صدارت

2026-09-01
اننت ناگ کے نوجوان کسان نے روپ وے بنا کر شعبہ باغبانی میں انقلاب برپا کیا
اہم ترین

’جموں و کشمیر میں سیب کی پیداواریت میں کمی‘ بادام کی کاشت سکڑ گئی‘

2026-09-01
ماہانہ وظیفے میں اضافہ ‘انٹرن ڈاکٹروں کی غیر معینہ ہڑتال شروع
اہم ترین

ماہانہ وظیفے میں اضافہ ‘انٹرن ڈاکٹروں کی غیر معینہ ہڑتال شروع

2026-09-01
بالائی علاقوں میں تازہ برفباری‘ میدانی علاقوں میں بارش
اہم ترین

 آئندہ۲۴سے۴۸ گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کا امکان

2026-09-01
رام بن میں پولیس اور فوج کی مشترکہ کارروائی میں جنگجوؤں کی خفیہ کمیشن گاہ تباہ
اہم ترین

شوپیاں میں دہشت گردوں  کا ٹھکانہ تباہ، اسلحہ و گولہ بارود برآمد

2026-09-01
سرینگر سڑک حادثے میں دو؍افراد ہلاک ‘ایک زخمی
اہم ترین

واتھورہ میں ٹرک کی زد میں  آکر۱۷ سالہ لڑکا جاں بحق

2026-09-01
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ   کا ’آئین اور شریعت کے تحفظ ‘  کیلئے ملک گیر تحریک کا اعلان
اہم ترین

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ  کا ’آئین اور شریعت کے تحفظ ‘ کیلئے ملک گیر تحریک کا اعلان

2026-09-01
Next Post
’کوئی اختیار نہیں‘،ثالثی عدالت کا فیصلہ مسترد 

’کوئی اختیار نہیں‘،ثالثی عدالت کا فیصلہ مسترد 

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.