تو صاحب کہا جارہا ہے کہ وزیر اعلیٰ‘عمرعبداللہ کے بجٹ میں کچھ نہیں ہے …….بالکل بھی نہیں ہے ۔اب یقیناً یہ ایسی بات ہے جو عمرصاحب اور ان کے ساتھی ماننے کو تیار نہیں ہوں گے ……. بالکل بھی نہیں ہوں گے ۔ حتیٰ کہ اپنے گورے گورے بانکے چھورے وزیر اعلیٰ نے تویہاں تک کہا ہے کہ یہ بجٹ جموںکشمیر کی ترقی اور خوشحالی کا روڈ میپ ہے‘ نقش راہ ہے ۔ ایسے میں جب اپوزیشن اس بجٹ کو خالی اور بنجر قرار دے تو صاحب ہم تو کنفیوژن کا شکار ہو ہی جائیں گے اور ……. اور اس لئے ہو جائیں گے کہ کون سچ کہتا ہے اور کون نہیں‘ ہمیں نہیں معلوم‘ ہمیں نہیں خبر ۔یقینا ًسرکار …….عمرعبداللہ کی سرکار بجٹ کو اچھا قرار دے گی جبکہ اپوزیشن اسے خراب …….نہ سرکاری بجٹ کو خراب کہہ سکتی ہے اور نہ اپوزیشن اسے اچھا …….بجٹ کے حوالے سے دونوں کا ردعمل فطری ……. عین فطری ہے …….اس لئے ہمیں دونوں سے کوئی شکوہ ہے اور نہ شکایت ہے ۔لیکن صاحب ایک بات تو ہے یا ایک بات تو اس بجٹ میں ہو گی اور وہ یہ کہ اس میں یقیناًکوئی بات ہو گی …….اب ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ صرف کاغذ کا پلندہ ہوگا اور نہیں کچھ ہو گا۔یقیناًاس میں کچھ ہو گا ‘ ایسا کچھ جس پر کام کیا جا سکتا ہے ……. جسے عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے اور …….اور اللہ میاں کی قسم ہم سرکار …….عمرعبداللہ کی سرکار سے صرف اتنی سی توقع رکھتے ہیں ……. اور امید بھی کہ بجٹ میں جو کچھ بھی ‘ جیسا بھی ہے ‘ وہ اسے عملائے …….اسے عملانے کی کوشش کرے کہ ……. کہ کہنے والوں کا کہنا ہے کہ عام طور پر بجٹ کاغذ کا پلندہ ہی ثابت ہوتا ہے‘ کچھ اور نہیں کہ ……. کہ اس پر لکھی گئیں سطروں کوپڑھنے پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے ……. اس سے آگے بڑھنے کی کبھی کوئی کوشش نہیں کی جاتی ہے ……. بالکل بھی نہیں کی جاتی ہے کہ اگر سیاہ روشنائی سے لکھی گئیں ان سطروں کو عملی جامہ پہنایا جائے ……. عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی جائے تو……. تو اپنے جموںکشمیر میں یقینا ًدودھ اور شہد کی نہریں بہنا شروع تو نہیں ہوں گی لیکن ……. لیکن اتنا ضرور ہے کہ لوگوں کی زندگی میں ایک روشنی سی آئےگی ‘ خوشحالی آئے گی ان کی زندگی کا معیار بہتر ہو جائےگا اور……. اور سو فیصد ہو جائےگا ۔ ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔




