جمعہ, جون 5, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

چونا پتھر کی ای- انیلامی: جموں کشمیر کے لیے پائیدار ترقی کا فریم ورک

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-11-26
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

بات چیت ہی مسائل کا حل:

جموں و کشمیر کی تاریخ ایسے مواقع سے بھری پڑی ہے جو کبھی مکمل طور پر بروئے کار نہ لائے جا سکے۔ یہ وہ خطہ ہے جسے قدرت نے غیر معمولی حسن، پانی، جنگلات اور معدنی دولت سے نوازا، مگر دہائیوں تک بدامنی، سیاسی عدم استحکام، انتظامی کمزوریاں اور غیر شفافیت نے اسے ترقی کی دوڑ میں پیچھے رکھا۔ ایسے میں سات چونا پتھر کے بلاکس کی پہلی ای نیلامی کا آغاز محض ایک حکومتی تقریب نہیں بلکہ ایک ایسے دور کی ابتدا ہے جس میں جموں و کشمیر پہلی بار ملک کے معدنی نقشے پر نمایاں طور پر جگہ پا رہا ہے۔
یہ اقدام اس وسیع تر وڑن کا حصہ ہے جس نے گزشتہ چند برسوں میں جموں و کشمیر کے سماجی و معاشی ڈھانچے میں ایک نئی جہت پیدا کی ہے، اور اس سوچ کے مرکز میں وزیر اعظم نریندر مودی کی وہ مسلسل دلچسپی اور سنجیدگی موجود ہے جو خطے کی ہمہ جہت ترقی کو ایک قومی ترجیح کے طور پر دیکھتی ہے۔
ای نیلامی کا آغاز یونین وزیر جی کشن ریڈی، وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی موجودگی میں کیا ۔ ان کاکہنا تھا کہ مرکز کا کردار صرف ہینڈ ہولڈنگ اور پالیسی سپورٹ تک محدود ہے اور معدنیات سے حاصل ہونے والی تمام رائلٹی اور پریمیم براہ راست ریاست کے پاس جائے گا۔ ایسی یقین دہانیاں دراصل اعتماد سازی کا وہ عمل ہیں جن کی جموں و کشمیر کو برسوں سے ضرورت تھی۔
جموں و کشمیر کے معدنی وسائل کی تاریخ کا جائزہ لیں تو واضح ہوتا ہے کہ یہ شعبہ مسلسل نظر انداز ہوتا رہا۔ لائسنسوں کے نظام کی بندر بانٹ، جیولوجیکل تحقیق کی کمی، پالیسی کی عدم موجودگی اور سیاسی بے توجہی نے معدنیات کو کبھی حقیقی قوت بننے ہی نہ دیا۔ آج جب جیولوجیکل سروے آف انڈیا نے تین برسوں میں ۱۳ بڑے سروے مکمل کیے، جن میں تانبے، سونے، لائگنائٹ اور دیگر معدنی ذخائر کی نشاندہی شامل ہے، تو یہ وہ بنیاد ہے جس پر ایک نئے دور کی عمارت کھڑی کی جا رہی ہے۔ چونا پتھر کے سات بلاکس کی ای نیلامی نہ صرف اس سمت میں پہلا قدم ہے بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب جموں و کشمیر کو اْس سرمایہ کاری، تحقیق اور وسائل کا حق مل رہا ہے جس سے وہ دہائیوں تک محروم رہا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے جموں و کشمیر کی ترقی کو صرف سیاسی استحکام تک محدود نہیں رکھا بلکہ معاشی مضبوطی کو مرکزِ نگاہ بنایا ہے۔ چاہے وہ انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبے ہوں، جیسے سرنگیں، موٹرویز، ریلوے لائنیں اور بجلی کے پروجیکٹس؛ یا سرمایہ کاری کو راغب کرنے والی صنعتی پالیسی؛ یا سیاحت، ہارٹی کلچر اور ہینڈلوم کی عالمی سطح پر برانڈنگ…ہر قدم میں ایک منظم اور مسلسل پالیسی جھلکتی ہے۔ معدنیات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا فیصلہ اسی مشن کا حصہ ہے۔ یہ وہ وڑن ہے جو جموں و کشمیر کو محض انتظامی یونٹ نہیں بلکہ ملک کی مجموعی ترقی کا فعال حصہ بنانے کی کوشش ہے۔
ای آکشن کے ذریعے شفافیت کو یقینی بنانا وزیر اعظم مودی کے مجموعی طرز حکمرانی کے مطابق ہے۔ سپریم کورٹ کی۲۰۱۴ کی ہدایات کے بعد ملک میں کان کنی کے میدان میں جو اصلاحات ہوئیں، وہ دراصل شفافیت اور مسابقت کے اس نظام کی علامت ہیں جسے مودی حکومت نے ’’ریفارم، پرفارم، ٹرانسفارم‘‘ کے اصول کے تحت مضبوط کیا۔ ملک بھر میں ایک ہزار سے زائد کان کنی کے بلاکس کی شفاف نیلامیوں میں کوئی بڑا تنازع سامنے نہ آنا اسی حکمرانی کی صداقت کا ثبوت ہے۔ اب یہی ماڈل جموں و کشمیر میں نافذ ہو رہا ہے، جہاں پہلی بار کان کنی کے شعبے کو سائنسی، ڈیجیٹل اور شفاف بنیادوں پر استوار کیا جا رہا ہے۔
چونا پتھر بلاکس کی ای نیلامی تین اضلاع:اننت ناگ، راجوری اور پونچھ‘کیلئے معاشی تبدیلی کا نیا دروازہ کھولے گی۔ اس نیلامی کے نتیجے میں براہ راست روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جبکہ ٹرانسپورٹ، مارکیٹنگ، تعمیرات، سپلائی چین، چھوٹے کاروبار اور مقامی ٹھیکیداری جیسے شعبے بالواسطہ طور پر فائدہ اٹھائیں گے۔ مقامی سطح پر معاشی سرگرمیوں میں جو نئی لہر پیدا ہوگی، وہ نہ صرف روزگار دینے میں مدد کرے گی بلکہ ریاستی خزانے کو بھی رائلٹی اور دیگر محصولات کی شکل میں ایک مستحکم آمدنی فراہم کرے گی۔ یہ وہ ماڈل ہے جس سے خطے کی ترقی گاؤں اور قصبوں تک پہنچتی ہے۔
اس پیش رفت کی سیاسی علامت بھی کم اہم نہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی بارہا یہ خواہش ظاہر ہوتی رہی ہے کہ جموں و کشمیر کی ترقی کو کسی بھی قیمت پر ترجیح دی جائے۔ ان کا یہ فیصلہ کہ معدنیات سے حاصل ہونے والی آمدنی مکمل طور پر ریاست کے پاس جائے گی، اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ وہ جموں و کشمیر کو خود کفیل بنانے کے لیے حقیقی مالی اختیارات دینے کے حامی ہیں۔ یہ ایک ایسی سوچ ہے جو صرف انتظامی تبدیلی نہیں لاتی بلکہ لوگوں میں اعتماد پیدا کرتی ہے کہ مرکز ان کی ترقی کا سچا شراکت دار ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں جموں و کشمیر میں جس رفتار سے ترقیاتی کام ہوئے‘امن میں بہتری، سیاحت میں ریکارڈ اضافہ، سرمایہ کار کانفرنسوں کی کامیابی، بنیادی ڈھانچے میں غیر معمولی توسیع، اور اب معدنیات کے شعبے میں نئی شروعات‘یہ سب ایک مربوط، ہم آہنگ اور سنجیدہ سیاسی عزم کا نتیجہ ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جموں و کشمیر پہلی بار اس گہرے احساس کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے کہ اس کی ترقی محض وعدوں یا بیانات میں نہیں بلکہ عملی اقدامات میں ڈھل رہی ہے۔
ای آکشن کا یہ قدم نہ صرف جغرافیائی اہمیت رکھتا ہے بلکہ اس کے دور رس نتائج آئندہ برسوں میں سامنے آئیں گے۔ یہ اقدام وزیر اعظم نریندر مودی کی اس سوچ کی تائید کرتا ہے کہ جموں و کشمیر کا مستقبل اسی وقت محفوظ ہوگا جب اسے مالیاتی خود مختاری، صنعتی فروغ، شفاف نظام اور معیاری سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ خطہ آج ایک ایسے راستے پر گامزن ہے جو اسے نہ صرف ترقی یافتہ بلکہ خود اعتماد اور مستحکم خطہ بنانے کی جانب لے جا رہا ہے۔
معدنیات کی ای نیلامی اسی وڑن کی عملی شکل ہے‘ایک ایسا قدم جو نہ صرف آج کے لیے اہم ہے بلکہ آنے والی دہائیوں میں جموں و کشمیر کی معاشی بنیادوں کو مضبوط کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ یقین اب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکا ہے کہ جموں و کشمیر کی ترقی اور خوشحالی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور اس سفر میں ہر قدم ایک نئی امید کا دروازہ کھولتا ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

۲۰ فیصد اضافہ:عمر نے چپی وتوڑ لی

Next Post

حکومت نے ۲۰۲۶کے ایوارڈز کیلئے نامزدگیاں طلب کر لیں

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

2026-06-04
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بات چیت ہی مسائل کا حل:

2026-06-03
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عمر عبداللہ حکومت:

2026-06-02
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

حج انتظامات اور جموں و کشمیر :  آخر عازمین کے مسائل کب ختم ہوں گے؟

2026-05-31
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عید الاضحیٰ، قربانی کے جانور اور حکومتی بے حسی

2026-05-30
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عید الاضحی :آج کے دن بھی کچھ لوگ خوشیوں سے محروم ہیں!

2026-05-27
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بڈگام کی بیٹی اور ہمارا زخمی معاشرہ

2026-05-26
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

قربانی کے جانوروں کی من مانی قیمتیں

2026-05-24
Next Post
سوشل میڈیا پر سرکارکی تنقید

حکومت نے ۲۰۲۶کے ایوارڈز کیلئے نامزدگیاں طلب کر لیں

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.