اب اپنے وزیر اعلیٰ ‘عمرعبداللہ اتنے بھی بزی… اتنے بھی مصروف تو نہیں ہیںکہ انہیں ایک جھوٹی بات‘ ایک افواہ ‘ ایک غلط فہمی کو دور کرنے میں ایک ہفتہ لگ جائے … نہیں ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ وزارت اعلیٰ کی کرسی پر بیٹھنے والا بے کار ہو تا ہے‘ اس کا کوئی کام دھندہ نہیں ہو تا ہے… نہیں ہم ایسانہیں کہہ رہے ہیں لیکن عمرعبداللہ کے حوالے سے ہم ایسا کہہ سکتے ہیں اور… اور اس لئے کہہ سکتے ہیں کہ … کہ یہ عمرعبداللہ ہی ہیں جو کہتے رہتے ہیں ان کے پاس اختیارات نہیں ہیں… جب اختیارات نہیں ہوں گے تو… تو کوئی کام بھی نہیں ہو گا… جب کام نہیں ہو گا تو… تو آرام ہی آرام ہو گا… جب آرام ہو گا تو…تو وقت ہی وقت ہو گا… ہر ایک جھوٹی بات‘ ہرایک افواہ ‘ ہرایک غلط فہمی کو دور کرنے کا وقت … لیکن پھر بھی وزیر اعلیٰ نے بجلی میں ۲۰ فیصد اضافے کی جھوٹی بات ‘غلط فہمی اور افواہ کو دور کرنے میں ہفتہ بھر لگایا … وزیرا علیٰ ۷x۲۴ دنیا سے جڑے رہتے ہیں… بات بات اور ہر ایک بات پر اپنی بات سامنے رکھتے ہیں… بغیر کوئی وقت ضائع کئے… لیکن… لیکن نہ جانے کیوں جب اُن باتوں کی وضاحت ضروری ہو تی ہے… جن باتوں کا تعلق جموںکشمیر کے لوگوں سے ہو تا ہے تو… تو اپنے وزیر اعلیٰ …بیس تیس برس‘جب لوگوں تک اپنی بات پہنچانے کیلئے اظہار کے ذرائع محدود تھے‘ پیچھے چلے جاتے ہیں…اور بجلی میں ۲۰ فیصد اضافے کی بات پر بھی ایسا ہی ہو ا… یقینا وزیرا علیٰ نے اب صفائی دی ہے… لیکن صفائی کیلئے ان جناب نے جو وقت لیا… ایک طویل وقت لیا … اس سے تو لگتا ہے کہ صاحب کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے… کچھ تو ہے… انہیں اس بات کو رد کرنے میں اسے ‘جھوٹ‘ غلط فہمی اور افواہ قرار دینے میں ایک منٹ بھی نہیں لگتا ہے… لیکن ان جناب نے انتظار کیا … اس بات کا انتظار کہ… کہ لوگ اس پر کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں… لیکن جب مخالفانہ ردعمل سامنے آیا … جو شدید تھا تو… تو وزیرا علیٰ نے اپنی چپی توڑ دی… لیکن … لیکن یہ نہیں کہا… بالکل بھی نہیں کہا کہ آخر یہ جھوٹی‘غلط فہمی اور افواہ آئی کہاں سے … ان کی میز سے نہ سہی لیکن…لیکن کسی میز پر تو اس نے جنم لیا نا…کس مقصد سے لیا‘ وزیر اعلیٰ صاحب نے اس پر چپی سادھ لی ۔ ہے نا؟




