بڈگام اور نگروٹہ کے حالیہ ضمنی انتخابات نے جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ اقتدار میں آنا جتنا مشکل ہے، اسے برقرار رکھنا اس سے کہیں زیادہ دشوار ہوتا ہے۔ نیشنل کانفرنس، جو گزشتہ برس شاندار کامیابی کے ساتھ حکومت میں آئی تھی، صرف ایک سال کے اندر ہی عوامی بے اطمینانی کے ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک ضمنی انتخاب میں شکست بھی دور رس اثرات رکھتی ہے۔ بڈگام کی نشست، جس پر گزشتہ سال این سی کے نائب صدر اور موجودہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھرپور جیت درج کی تھی، اب پی ڈی پی نے اپنے نام کر لی۔ یہ ہار کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ عوام کے ذہنی اور سیاسی رجحانات میں آتی تبدیلیوں کا عکاس ہے۔
اگرچہ یہ شکست صرف کشمیر کے ایک حلقے میں ہوئی ہے، مگر اس کے جھٹکے پورے کشمیر کے ساتھ جموں تک بھی محسوس کیے جائیں گے۔ نگروٹہ میں بی جے پی نے اپنی نشست آسانی سے بچا لی، جو این سی کے لیے مزید تشویش کا پہلو ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکمران جماعت نہ کشمیر میں مطمئن ہے اور نہ ہی جموں میں کوئی مضبوط پیغام دے پا رہی ہے۔ عوام کی توقعات جس تیزی سے این سی کی حکومت سے وابستہ تھیں، وہ اسی رفتار سے مایوسی میں بدلتی دکھائی دے رہی ہیں۔
این سی کی ایک سالہ کارکردگی پہلے ہی سوالات کی زد میں تھی۔ انتخابی وعدوں پر پیش رفت نہ ہونے کا شکوہ بڑھتا جا رہا تھا، اور عوامی مسائل…خصوصاً بجلی، پانی، روزگار اور انتظامی نااہلی…روز بروز نمایاں ہو رہے تھے۔ بڈگام کے ضمنی انتخاب نے ان تمام شکوؤں کو حقیقت میں بدل دیا ہے۔ لوگ صرف یہ نہیں کہ این سی سے ناراض تھے، بلکہ انہوں نے اپنی ناراضی ووٹ کے ذریعے ظاہر بھی کر دی۔ یہ وہ لمحہ ہے جب حکمران جماعت کو گہرائی سے سوچنا چاہیے کہ آخر وہ کون سے عوامل تھے جو ایک سال کے اندر ہی عوامی اعتماد کو اس حد تک کمزور کر گئے۔
اس شکست کے پس منظر میں ایک اور اہم عنصر بھی سامنے آیا ہے۔نیشنل کانفرنس کے اندرونی اختلافات۔ آغا روح اللہ جیسے قدآور لیڈر کا اپنے ہی امیدوار کی انتخابی مہم سے لا تعلق رہنا اور حکومت کی کارکردگی پر کھل کر تنقید کرنا ظاہر کرتا ہے کہ پارٹی کے اندر متحدہ موقف سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ روح اللہ نے گزشتہ کئی ماہ سے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ ریزرویشن سب کمیٹی کی سفارشات پر عمل نہیں کر رہی، بجلی کے بحران کو حل کرنے میں ناکام رہی، اور ریاستی درجہ بحالی کے معاملے میں شفافیت کا کوئی مظاہرہ نہیں کیا۔ بڈگام کی ہار نے ان کے مؤقف کو تقویت دی ہے، اور اب یہ توقع رکھنا غلط نہ ہوگا کہ وہ آنے والے دنوں میں اپنی تنقید مزید سخت کر دیں گے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پی ڈی پی کی کامیابی محض خوش قسمتی نہیں۔ عوام نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ جذبات کے بجائے کارکردگی پر ووٹ دیتے ہیں۔ گزشتہ سال اسمبلی انتخابات میں پی ڈی پی کو تقریباً سیاسی حاشیے پر دھکیل دیا گیا تھا، مگر ایک سال بعد اسی جماعت نے بڈگام میں این سی کے مضبوط ترین قلعے کو گرا دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی فضا تیزی سے بدل رہی ہے اور عوام اب کسی بھی جماعت کو صرف وعدوں پر نہیں، بلکہ عملی اقدامات پر جانچنے لگے ہیں۔
این سی کے لیے اس نتیجے میں ایک واضح پیغام پوشیدہ ہے۔ حکمرانی محض بیانات سے نہیں چلتی۔ عوامی مسائل کو نظر انداز کر کے یا انتخابی وعدوں کو ٹال کر حکومتیں زیادہ دیر تک ساکھ برقرار نہیں رکھ سکتیں۔ پارٹی کے اندرونی اختلافات، مبہم پالیسیاں، اور عوامی ضروریات سے بے توجہی وہ عوامل ہیں جو کسی بھی حکومت کو بہت جلد کمزور کر دیتے ہیں۔ اگر این سی نے اس وقت بھی صورتحال کی سنگینی کو محسوس نہ کیا تو آج کی یہ ہار کل کسی بڑے سیاسی نقصان میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پی ڈی پی کا عروج اور زوال اس حقیقت کی زندہ مثال ہے کہ جموں و کشمیر کی سیاست میں عوام بہت جلد کسی بھی جماعت کو اوپر اٹھا سکتے ہیں اور اتنی ہی تیزی سے زمین پر لا سکتے ہیں۔ آج بڈگام میں جو کچھ این سی کے ساتھ ہوا ہے، وہ چار سال بعد پورے خطے میں دہرایا بھی جا سکتا ہے، اگر حکمران جماعت نے وقت رہتے سمت درست نہ کی۔ عوام کو وعدوں سے زیادہ عمل چاہیے۔ ترقیاتی منصوبے، انتظامی شفافیت، بنیادی سہولیات اور عوامی مشاورت‘یہ وہ چار ستون ہیں جن پر کوئی بھی حکومت اپنا اعتماد برقرار رکھ سکتی ہے۔
این سی کے پاس اب بھی وقت ہے، مگر یہ وقت نہایت محدود ہے۔ اگر وہ عوامی مسائل کے حل کی طرف سنجیدہ قدم نہیں بڑھاتی، پارٹی کے اندر اتحاد بحال نہیں کرتی، اور انتخابی وعدوں کو عملی جامہ نہیں پہناتی، تو آج کی یہ شکست کل اس کے لیے بہت زیادہ بھاری پڑ سکتی ہے۔ سیاسی تاریخ بار بار یہ سبق دیتی رہی ہے کہ عوامی ناراضی جب ایک بار جڑ پکڑ لے تو پھر کوئی لفاظی یا انتخابی مہم اسے بدل نہیں سکتی۔
بڈگام کا نتیجہ این سی کے لیے انکار کی نہیں، اعتراف کی گھڑی ہے۔ وقت ہے کہ حکمران جماعت اس وارننگ کو محض ایک انتخابی حادثہ سمجھ کر نظرانداز نہ کرے، بلکہ اسے اپنے طرزِ حکمرانی میں بنیادی اصلاحات کے آغاز کا نقطہ بنائے۔ کیونکہ اگر آج این سی نے خود کو درست نہ کیا، تو آنے والے برسوں میں وہی انجام اس کا بھی ہو سکتا ہے جو گزشتہ برس پی ڈی پی کا ہوا تھا۔ عوام یاد رکھتے ہیں، پرکھتے ہیں، اور وقت آنے پر فیصلہ بھی سناتے ہیں‘اور اب این سی کے لیے فیصلہ کی گھڑی پہلے سے کہیں زیادہ قریب محسوس ہو رہی ہے۔





