ایک بار پھر شمالی کشمیر کے کپوارہ ضلع کے کیرن سیکٹر سے وہی پرانی کہانی دہرائی گئی۔ لائن آف کنٹرول پر دراندازی کی کوشش، دہشت گردوں کی ہلاکت، اور فوج کا بروقت ردِعمل۔ بھارتی فوج نے ایک مرتبہ پھر نہ صرف اپنی پیشہ ورانہ مہارت بلکہ اپنی مستقل چوکسی کا ثبوت دیا۔ دو دہشت گرد مارے گئے، مگر اصل سوال وہی پرانا ہے … آخر پاکستان اپنی حرکتوں سے باز کیوں نہیں آتا؟
پاکستان کو بارہا سمجھایا گیا، بارہا متنبہ کیا گیا کہ دہشت گردی کے کھیل کا انجام سوائے تباہی کے کچھ نہیں، لیکن اسلام آباد کی طاقت کے مراکز خصوصاً اس کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے لیے شاید یہ سبق سیکھنا ممکن نہیں۔ بھارت کے صبر کا امتحان بار بار لیا جا رہا ہے، اور ہر بار ہمارے سپاہی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ مگر اس بار بھی یہ بات دہرانا ضروری ہے کہ دہشت گردی کی یہ آگ صرف کشمیر کے امن کے لیے نہیں، پورے خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہے۔
کپوارہ کا واقعہ اس حقیقت کو ایک بار پھر واضح کرتا ہے کہ پاکستان کے رویّے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ آپریشن سندور کے بعد، جب بھارتی فوج نے دہشت گرد گروہوں کو ان کے ٹھکانوں تک جا کر ختم کیا، تو دنیا نے دیکھ لیا کہ بھارت نہ صرف اپنی سرزمین کی حفاظت کر سکتا ہے بلکہ دشمن کے منصوبوں کو ان کے مرکز میں ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسا آپریشن تھا جس نے پاکستان کے تمام پراکسی نیٹ ورکس کو واضح پیغام دیا… کہ بھارت اب صرف دفاعی نہیں، جارحانہ دفاعی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔
مگر افسوس کہ پاکستان کے اربابِ اختیار نے اس سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ وہاں کی پالیسی اب بھی وہی ہے: سرحد پار دہشت گرد بھیجنا،نام نہاد علیحدگی پسند جذبات کو بھڑکانا، اور کشمیر کے امن کو سبوتاڑ کرنے کی کوشش کرنا۔ دراصل اسلام آباد اور راولپنڈی کے طاقتور حلقوں کو کشمیر کا بدلتا ہوا منظر ہضم نہیں ہو رہا۔ وہ نہیں چاہتے کہ وادی میں ترقی ہو، نوجوان روزگار حاصل کریں، اور خواتین و مرد امن کے ساتھ زندگی گزاریں۔ ان کے نزدیک ایک پرامن کشمیر اْن کے بیانیے کی موت ہے، کیونکہ وہ اپنی داخلی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے ہمیشہ کشمیر کا کارڈ استعمال کرتے آئے ہیں۔
آج جب جموں و کشمیر میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر تیزی سے ہو رہی ہے اور لوگ خوف کے سائے سے باہر نکلنے لگے ہیں، پاکستان اور آئی ایس آئی کی جھنجھلاہٹ فطری ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ کشمیر امن و ترقی کا چہرہ بنے، کیونکہ ایک مستحکم اور خوشحال کشمیر پاکستان کے من گھڑت دعووں کو زمین بوس کر دیتا ہے۔
پاکستان کی اس ہٹ دھرمی کے مقابلے میں بھارت نے ہمیشہ تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ لیکن تحمل کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ اب ضرورت ہے کہ ہم اپنے سرحدی نظام کو مزید مضبوط کریں۔ کنٹرول لائن اور بین الاقوامی سرحد پر چوکسی اور نگرانی کے نظام میں اضافہ ناگزیر ہے۔ جدید سینسر، ڈرون نگرانی، رات میں دید رکھنے والے آلات، اور مقامی انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مزید فعال بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ فوج کی کارروائیاں قابلِ تعریف ہیں، مگر اس کے ساتھ سول اور تکنیکی اداروں کو بھی متحرک رہنا ہوگا تاکہ دراندازی کی کوشش اپنے آغاز میں ہی ناکام بنا دی جائے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ دراندازی کی زیادہ تر کوششیں سردیوں کے آغاز میں ہوتی ہیں، جب برف باری سے پہلے دہشت گرد’لانچنگ پیڈز‘ سے بھارتی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان موسموں میں نگرانی کے دائرے کو مزید سخت کرنا ضروری ہے۔ اسی کے ساتھ، مقامی آبادی کا تعاون بھی اہم ہے، کیونکہ سرحدی دیہاتوں کے باسی ہی سب سے پہلے مشکوک سرگرمیوں کو محسوس کرتے ہیں۔ انہیں اعتماد میں لینا، تربیت دینا اور جدید مواصلاتی ذرائع سے جوڑنا دراندازی کے انسداد میں بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے۔
بھارت کو اب اپنی پالیسی میں دو سطحوں پر کام کرنا ہوگا ‘ دفاعی حکمتِ عملی اور سفارتی دباؤ۔ دفاعی محاذ پر دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی میں کوئی نرمی نہیں ہونی چاہیے۔ جو بھی شخص یا گروہ سرحد پار کے آقاؤں کے اشاروں پر کام کر رہا ہے، اسے قانون کے مطابق سخت ترین سزا ملنی چاہیے۔ دوسری طرف، عالمی برادری کے سامنے پاکستان کے کردار کو مسلسل بے نقاب کرنا بھی ضروری ہے۔ جب تک دنیا کے بڑے دارالحکومتوں میں یہ احساس نہیں جاگے گا کہ پاکستان ریاستی سطح پر دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے، تب تک وہ اپنی روش نہیں بدلے گا۔
پاکستان کی موجودہ معاشی اور سیاسی حالت پہلے ہی تباہ کن ہے۔ اس کے باوجود وہ اپنے شہریوں کے لیے روزگار اور روٹی ڈھونڈنے کے بجائے کشمیر میں خون بہانے کے منصوبے بنا رہا ہے۔ یہ نہ صرف غیر ذمہ دارانہ بلکہ خودکشی کے مترادف طرزِعمل ہے۔ اگر اسلام آباد نے اب بھی اپنی پالیسی نہ بدلی تو وقت دور نہیں جب بین الاقوامی سطح پر اسے ایک مکمل طور پر ناکام ریاست قرار دیا جائے گا۔
بھارت نے ہر دور میں امن کا ہاتھ بڑھایا، مگر جواب میں گولی، بم اور خون ملا۔ اب بات صرف امن کی خواہش سے آگے بڑھ چکی ہے۔ اب امن کی حفاظت کے لیے فیصلہ کن اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ فوج اپنی ذمہ داری نبھا رہی ہے، مگر حکومتِ ہند کو بھی ایک مربوط حکمتِ عملی ترتیب دینی چاہیے، جس میں سرحدی سیکورٹی کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام اور نوجوانوں کی شمولیت بھی شامل ہو۔ کیونکہ پاکستان کی دہشت گردی کا اصل ہدف یہی ہے … نوجوانوں کے ذہنوں کو زہر آلود کرنا اور انہیں قومی دھارے سے کاٹنا۔
یہ وقت ہے کہ ہم اپنی کامیابیوں کو مستحکم کریں، دشمن کے پروپیگنڈے کا جواب ترقی اور امن سے دیں، اور دنیا کو دکھائیں کہ نیا کشمیر دہشت گردی نہیں، ترقی کی علامت ہے۔پاکستان کو اگر آپریشن سندور سے سبق نہیں ملا، تو شاید اسے ایک اور تلخ سبق ملنے والا ہے ‘ اس بار پہلے سے زیادہ سخت، پہلے سے زیادہ واضح۔بھارت امن چاہتا ہے، لیکن اگر کوئی ہاتھ امن کے بجائے بندوق اٹھائے گا، تو بھارت اسے سرحد کے اْس پار بھی چین سے نہیں رہنے دے گا۔





