ہمیں الیکشن اچھے لگتے ہیں… بہت اچھے۔طرح طرح کی باتیں اور وعدے کئے جاتے ہیں… ایسے وعدے جنہیں پورا کرنے کی نیت کسی بھی جماعت کے امیدوار میں نہیں ہو تی ہے… نہیں ہو سکتی ہے کہ… کہ اگر سیاستدان بھی وعدے پوراکرنے لگے تو … تو صاحب ان میں اور عام اور غریب جنتا میں کیا فرق رہے گا… کوئی فرق نہیں رہے گا… بالکل بھی نہیں رہے گا ۔ لیکن آج ہم بات سیاستدانوں کے وعدوںکی نہیں کریں گے … ہمیں الیکشن اس لئے اچھے نہیں لگتے ہیں… الیکشن اس لئے اچھے لگتے ہیں کیوں کہ ان میں ساستدان … ہول سیل میں سیاستدان بے نقاب ہو جا تے ہیں… اور ہاں سیاسی جماعتیں بھی… انہیں بے نقاب کوئی اور نہیں کرتا ہے بلکہ یہ کام یہ خود انجام دتے ہیں… وزیراعلیٰ عمرعبداللہ بڈگام اور نگروٹہ میں پی ڈی پی اور بی جے پی کو بے نقاب کررہے ہیں جبکہ … یہ دو جماعتیں نیشنل کانفرنس کو…اور یوں لوگوں کے سامنے سبھی سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کی حقیقت آجاتی ہے… ان میں کوئی کنفیوژن نہیں رہتا ہے… لوگ اس ساری صورتحال کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرتے ہیں… اس بات کا فیصلہ کہ انہیں اپنا ووٹ اور اعتماد کس کو دینا ہے… اور … اور وہ ایسا ہی کرتے ہیں… جو ان سب میں سے انہیں سب سے کم گناہ کار اور سیاہ کار لگتا ہے وہ اس کو اپنا ووٹ دیتے ہیں اور اعتماد بھی … کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا ہے کہ کوئی سیاستدان ‘ کوئی امیدوار دودھ میں دھلا ہو… وہ صاف و پاک ہو… وہ جھوٹا نہیں ہو‘ وہ راشی نہ ہو‘ وہ فریبی نہ ہو ‘ وہ مکار نہ ہو…ایسا ہو ہی نہیں سکتا ہے… اور اس نہیں ہو سکتا ہے کہ وہ ہم میں سے ہی ہوتا ہے… وہ ہم میں سے ہی ہے… جب ہم بہ حیثیت ایک ٹیچر‘ ایک ملازم ‘ ایک تاجر‘ ایک بزنس مین‘ ایک پولیس اہلکار‘ ایک افسراور ایک صحافی … جب ہم ایسے ہوں … جھوٹے ‘ مکار ‘ دھوکہ بازی اور راشی تو… تو ہمارے سیاستدان ہم سے مختلف نہیں ہوں گے… کیوں کر ہوں گے کہ… کہ وہ بھی تو ہمارے اسی معاشرے کا حصہ ہیں…فرق یہ ہے کہ الیکشن پر وہ بے نقاب ہو جاتے ہیں… اور اسی لئے ہمیں الیکشن اچھے لگتے ہیں کہ… کہ یہ ایسا آئینہ ہے جس میں ہم اپنے آپ اور اپنے معاشرے کو دیکھ سکتے ہیں ۔ ہے نا؟




