شہر سرینگر میںلوگ ان دنوں ایک ایسے مسئلے سے نبرد آزما ہیں جو بظاہر روزمرہ زندگی سے جڑا ہوا معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ براہ راست صحت عامہ، شہری نظم و نسق اور سماجی اعتماد سے تعلق رکھتا ہے۔ شہر میں گلے سڑے اور ناقص گوشت کی فروخت نے عوام میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے اور لوگ زور دے رہے ہیں کہ سرینگر میونسپلٹی کے ذبح خانے دوبارہ فعال کیے جائیں تاکہ صاف، محفوظ اور معیاری گوشت کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ گوشت صرف ایک خوراک نہیں بلکہ یہاں کی ثقافت، معیشت اور روزگار سے بھی جڑا ہوا ہے، اس لیے اس کی کوالٹی پر سوال اٹھنا کسی بھی شہری کے لیے باعثِ پریشانی ہے۔
گزشتہ ایک ماہ کے دوران پولیس اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی مشترکہ کارروائیوں نے درجنوں مقامات سے گلے سڑے گوشت کی بھاری مقدار ضبط کی۔ کئی غیر رجسٹرڈ فروشندے گرفتاری سے بچنے کے لیے خود ہی ناقص گوشت پھینکتے پائے گئے۔ یہ مناظر عارضی طور پر لوگوں کو مطمئن تو کرتے ہیں کہ شاید انتظامیہ حرکت میں آ گئی ہے، مگر سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ جب تک ایک منظم نظام موجود نہ ہو، کیا صرف چھاپے اس مسئلے کا مستقل حل ہو سکتے ہیں؟ بظاہر جواب نفی میں ہے کیونکہ عوام کو صرف ناقص گوشت ضبط ہونے کی خبر نہیں چاہیے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے گھروں تک پہنچنے والا گوشت صحت کے لحاظ سے سو فیصد محفوظ ہو۔
یہاں پر ماضی کا ذکر ناگزیر ہے۔ کبھی وادی کے ہر ضلع اور تحصیل میں میونسپل سلاٹر ہاؤسز(ذبح خانے) قائم تھے جہاں قصاب اپنے مویشی لاتے اور ویٹرنری انسپکٹر ان کا طبی معائنہ کرتے۔ جو جانور صحت مند ثابت ہوتے انہیں ذبح کرنے کی اجازت ملتی اور گوشت پر سرکاری مہر ثبت کی جاتی تاکہ صارف کو یقین ہو کہ یہ گوشت مکمل طور پر معائنہ شدہ ہے۔ بیمار یا کمزور جانور فوراً مسترد کر دیے جاتے۔ اس نظام نے دہائیوں تک عوام کو مطمئن رکھا اور شہریوں کو کبھی اس بات کی فکر نہیں رہی کہ ان کے دسترخوان پر آنے والا گوشت غیر معیاری یا خطرناک ہو سکتا ہے۔ لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ شہر کی گلیوں میں ریڑھی والے اور غیر رجسٹرڈ دکاندار کھلے عام گوشت فروخت کر رہے ہیں جس پر نہ کوئی طبی مہر ہے اور نہ ہی کوئی سرکاری نگرانی۔
اس خلا نے ایک خطرناک رجحان کو جنم دیا ہے جہاں منافع کی لالچ میں بیمار جانور بھی ذبح کر کے مارکیٹ میں لائے جا رہے ہیں۔ عوامی خدشات صرف اندازے پر مبنی نہیں ہیں بلکہ گزشتہ کئی چھاپوں میں ضبط شدہ گوشت نے ان اندیشوں کو درست ثابت کیا ہے۔ شہری اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ یہ صرف غفلت کا نتیجہ نہیں بلکہ بعض سرکاری اہلکاروں کی ملی بھگت بھی شامل ہے، ورنہ یہ غیر قانونی کاروبار اتنے برسوں تک کیسے پھل پھول سکتا تھا۔
یہ معاملہ محض ذائقے یا ذاتی پسند کا نہیں بلکہ براہ راست صحت عامہ سے جڑا ہوا ہے۔ ناقص گوشت کے استعمال سے فوڈ پوائزننگ، ہیضہ، ٹائیفائیڈ اور دیگر مہلک بیماریاں پھیل سکتی ہیں۔ سری نگر جیسے شہر میں جہاں ہسپتال پہلے ہی دباؤ میں ہیں، وہاں اس قسم کی وبائیں قابو سے باہر ہو سکتی ہیں۔ اس لیے یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ایک بڑے سماجی بحران کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے۔
دنیا کے کئی بڑے شہروں نے اس مسئلے کو جدید خطوط پر حل کیا ہے‘جہاں تمام گوشت صرف سرکاری طور پر منظور شدہ سلاٹر ہاؤسز کے ذریعے ہی مارکیٹ تک پہنچتا ہے، اور ہر کلو گوشت پر ایک بار کوڈ ہوتا ہے جسے اسکین کر کے خریدار جان سکتا ہے کہ یہ گوشت کہاں اور کس تاریخ کو ذبح کیا گیا۔
سری نگر میں بھی اب یہی راستہ باقی رہ گیا ہے۔ چھاپے مارنا اور گوشت ضبط کرنا وقتی علاج ہے لیکن دیرپا حل صرف اسی وقت نکلے گا جب ذبح خانے دوبارہ فعال کیے جائیں اور اس نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ ان سلاٹر ہاؤسز میں سی سی ٹی وی نگرانی ہو، جدید ویٹرنری آلات مہیا کیے جائیں، اور گوشت پر سرکاری مہر یا بار کوڈ لگایا جائے تاکہ صارف کو مکمل اعتماد حاصل ہو۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ جو اہلکار ملی بھگت میں ملوث ہوں ان کے خلاف مثال قائم کرنے والی کارروائیاں کی جائیں تاکہ عوام کو یقین ہو کہ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے نہ کہ غیر قانونی کاروبار کرنے والوں کے ساتھ۔
عوامی شعور بیدار کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ شہریوں کو بتایا جانا چاہیے کہ غیر معائنہ شدہ گوشت کے استعمال کے کیا نقصانات ہیں۔ اگر لوگ خود ایسے فروشندوں کا بائیکاٹ کریں تو غیر معیاری گوشت کی مانگ خود بخود ختم ہو جائے گی۔ یہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے جس میں حکومت اور عوام دونوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
آخرکار یہ یاد رکھنا چاہیے کہ شہریوں کی صحت اور جان سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ اگر حکومت انہیں صاف اور محفوظ خوراک فراہم نہیں کر سکتی تو یہ ناکامی صرف ایک ادارے کی نہیں بلکہ پورے نظام کی قرار پائے گی۔ سری نگر کے عوام برسوں سے دیکھتے آ رہے ہیں کہ جب قصائی خانے فعال تھے تو گوشت کی کوالٹی پر سوال اٹھانا ہی بے معنی تھا۔ آج جب ناقص گوشت کی فروخت روز بروز بڑھ رہی ہے اور چھاپوں کے باوجود کوئی پائیدار حل نظر نہیں آ رہا، تو واحد راستہ یہی ہے کہ پرانے مگر مؤثر نظام کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔۔ اس سے نہ صرف عوام کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ صحت عامہ پر منڈلانے والے سنگین خطرات بھی کم ہو جائیں گے۔ اب وقت آگیا ہے کہ انتظامیہ سنجیدگی دکھائے اور سری نگر کے شہریوں کو وہی یقین اور تحفظ واپس دے جس کے وہ کبھی عادی تھے۔





