نئی دہلی، 15 ستمبر (یو این آئی) کانگریس نے وقف ترمیمی قانون پر سپریم کورٹ کے حکم کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ان سیاسی جماعتوں اور مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے ارکان کی جیت ہے جنہوں نے پارلیمنٹ میں اس کی مخالفت کی اور مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں اپنی مخالفت کے خطوط پیش کئے ۔
کانگریس کے شعبہ ابلاغیات کے انچارج جے رام رمیش نے پیر کے روز کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم ان سیاسی پارٹیوں کی جیت ہے جنہوں نے پارلیمنٹ میں اس کی مخالفت کی اور ساتھ ہی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے ان ارکان کی بھی جیت ہے جنہوں نے اپنی مخالفت کی تجاویز کو تفصیل سے پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس قانون پر عدالت کے فیصلے سے واضح ہو گیا ہے کہ اگرچہ اس معاملے پر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان کی اختلافی تجاویز کو مسترد کر دیا گیا تھا لیکن آج وہ تمام اختلافات درست ثابت ہو گئے ہیں۔
مسٹر جے رام رمیش نے کہا کہ اس مسئلہ پر اپوزیشن پارٹیوں کے وکلاء نے دلیل دی تھی کہ اس قانون کے ذریعہ ایسا ڈھانچہ بنایا جارہا ہے کہ کوئی بھی اس کی حیثیت کو چیلنج کرسکتا ہے ۔ ایسے مقدمات کی وجہ سے وقف املاک کی حیثیت غیر یقینی رہے گی۔ اس قانون کو نافذ کرنے کے پیچھے کا مقصد ووٹروں کو متاثر کرنا اور تنازعہ کو زندہ رکھنا معلوم ہوتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں اس متنازعہ قانون کے تحت ضلع کلکٹر کو دیے گئے اختیارات پر روک لگا دی ہے اور موجودہ وقف املاک کو متوقع چیلنجوں سے بچایا ہے اور قواعد وضع ہونے تک پانچ سال کے مسلم ہونے کے ثبوت کی ضرورت کی شق پر روک لگا دی ہے ۔
مسٹر جے رام رمیش نے کہا، "ہم اس حکم کا خیرمقدم کرتے ہیں اور اسے انصاف، مساوات اور بھائی چارے کی آئینی اقدار کی فتح کے طور پر قبول کرتے ہیں۔”









