ُ ُسنا ہے اُن کے در پر جانے سے مسئلے حل ہوتے ہیں… اور اس لئے ہوتے ہیں کہ وہاں نہ صرف ان مسئلوں کو سنا جاتا ہے… ان کی شنوائی ہوتی ہے… بلکہ ان مسئلوں کو حل کرنے کی کوشش بھی ہو تی ہے… ایسی کوشش جس سے مسئلہ حل ہوں ۔ اسی لئے تو اب دن بہ دن اس در پر جانے والوںکی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے…کہ لوگ جوق در جوق ان کی طرف جا رہے ہیں… اور ہاں یہ بھی سچ ہے کہ اتنی بڑ تعداد میں لوگوں کو آتے دیکھ کر صاحب… بڑے صاحب خوش نہیں بلکہ بہت زیادہ خوش ہو رہے ہیں… اس لئے بھی ہو رہے ہیں کیونکہ جو کنفیوژن تھا… کچھ دیر کیلئے ہی سہی ‘ لیکن اللہ میاں کی قسم کنفیوژن تھا… اس کنفیوژن کی وجہ سے لوگوں نے اس در پر آناجانا… دستک دینا چھوڑ تو نہیں دیا تھا … لیکن ہاں ساتھ میں ایک اور در پر بھی دستک دینے لگے تھے… اس امیداور یقین کے ساتھ کہ … کہ شاید اب اس درپر جانے سے بھی ان کی بگڑی بات بن جائیگی … لیکن لوگوں کو کیا معلوم تھا کہ وہاں بات بنتی نہیں بلکہ مزید بگڑ جاتی ہے… اوراگر کسی کو اپنی بات کو بگاڑنے کا اتنا ہی شوق ہے تو… تو وہ ایک بار آزما کر تو دیکھ لے… وہاں جا کر تو دیکھ لے ‘خود ان کو ان کی غلطی کا احساس ہو جائیگا جیسے بہت سارے لوگوں کو ہوا ہے… اور اسی لئے انہوں نے واپس اُس در پر دستک دی ہے… دستک دے رہے ہیں جس در پر وہ گزشتہ پانچ برسوں سے دیتے آئے ہیں… ہمار ا مشورہ ہے… صاحب… چھوٹے صاحب ‘ جن کی شکایت رہتی ہے کہ انکے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ہے… ان کے ہاتھ بالکل خالی ہیں…ہمارا نہیں مشورہ ہے کہ …کہ ان کے ہاں مسائل کا انبار ہے‘ہمالیہ ہے … ان کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہو رہا ہے… ان کے مسائل بڑھ رہے ہیں… اس لئے بڑھ رہے ہیں کیونکہ یہ لوگوں کے مسائل کم نہیں کرپا رہے ہیں… ہمارا ان کو مشورہ ہے کہ اگر عام لوگوں کی بات… بڑے صاحب کے در پر جانے سے بن جاتی ہے… پھریہ تو عام نہیں بلکہ چھوٹے صاحب ہیں…کیوں نہ یہ بھی ایک آدھ بار بڑے صاحب کے در پر دستک دیں… حاضرہو کرحاضری دیں … کیا معلوم کہ ان کے مسائل بھی… جی ہاں ان کے مسائل بھی حل ہو جائیں ۔ ہے نا؟




