مجرموں کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جانی چاہیے:وزیر داخلہ
نئی دہلی/۱۶ستمبر
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے منشیات کی اسمگلنگ سے متعلق بین الاقوامی گروہوں اور مفرور مجرموں پر کڑی کاروائی کے لیے ان کے اخراج اور حوالگی کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔
شاہ نے منگل کے روز ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی منشیات روک تھام فورسز کے دوسرے قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ کو فروغ دینے والے اور غیر ملکی زمین پر سرگرم افراد کو جلد ہی ہندوستانی قانون کے دائرے میں لایا جانا چاہیے ۔ انہوں نے مرکزی انویسٹی گیشن بیورو (سی بی آئی) کی کوششوں کی تعریف کی اور مربوط اور اجتماعی کاروائی کی اپیل کی، اور کہا کہ منشیات پر قابو پانے سے نہ صرف اس کے غلط استعمال پر روک لگتی ہے بلکہ دہشت گردی اور منظم جرائم کے لیے فنڈز جمع کرنے کے راستے بھی بند ہوتے ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا’’اب وقت آ گیا ہے کہ ان لوگوں کو قانون کے دائرے میں لایا جائے جو بیرون ملک بیٹھ کر ہمارے ملک میں منشیات کا کاروبار چلاتے ہیں۔ سی بی آئی نے اس کے لیے بہت اچھا کام کیا ہے ۔ میں تمام فورسز کے سربراہان سے اپیل کرتا ہوں کہ سی بی آئی کی مدد سے مفروروں کی حوالگی کی ترتیب یقینی بنائیں۔ یہ نہ صرف منشیات بلکہ دہشت گردی اور دیگر گروہوں میں بھی مددگار ثابت ہوگا‘‘۔
شاہ نے کہا کہ مجرموں کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جانی چاہیے ، لیکن ان کے اخراج کے عمل کے حوالے سے زیادہ عملی اور جامع نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ اس کے لیے ایک معیاری آپریشنل طریقہ کار (ایس او پی) تیار کر رہی ہے ۔
مرکزی وزیر داخلہ نے منشیات کی اسمگلنگ پر حکومت کی سخت کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے سطح پر کام کرنے والے افراد کی گرفتاریوں کے ذریعے ملک میں سرگرم پورے منشیات کے نیٹ ورک کو تباہ کرنے کی سمت میں کام کیا جا رہا ہے ۔
شاہ نے کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ کے بعد اسے تین سطحوں پر لوگوں تک پہنچایا جاتا ہے ۔ ملک میں داخلے کے پوائنٹس پر سرگرم اسمگلر یہ منشیات وصول کرتے ہیں اور مختلف ریاستوں میں تقسیم کرنے کے لیے ذمہ دار سنڈیکیٹ اور مقامی نیٹ ورک تک پہنچاتے ہیں، آخر میں یہ پان کی دوکانوں اور گلی محلے کے ذریعے چھوٹے پیکٹ (پُڑیا) بنا کر فروخت کیے جاتے ہیں۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ منشیات کا مسئلہ براہِ راست دہشت گردی اور دیگر منظم جرائم کے مالی معاونت سے جڑا ہوا ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے کثیر جہتی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے ۔
شاہ نے کہا’’منشیات کے خلاف اس جنگ میں ہمیں تین طرفہ حکمت عملی کے تحت قدم اٹھانے ہوں گے ۔ منشیات کی سپلائی چین کے لیے ہمارا بے رحم نقطہ نظر ہونا چاہیے ، ڈیمانڈ ریڈکشن میں ایک اسٹریٹجک نقطہ نظر ہونا چاہیے اور ہارم ریڈکشن میں انسانی نقطہ نظر ہونا چاہیے ۔ ہمیں انہی تینوں نقطہ نظر کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا‘‘۔
منشیات کے مسئلے سے نمٹنے کی حکومت کی پالیسیوں کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا’’یو پی اے حکومت کے دور میں۴۰ہزار کروڑ روپے کی منشیات ضبط کی گئی تھی، جبکہ این ڈی اے حکومت کے گزشتہ ۱۰سالوں میں ایک لاکھ۶۵ہزار کروڑ روپے کی منشیات ضبط کی گئی ہیں، جو ایک بہت بڑی کامیابی ہے ۔‘‘










