کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ہمارے راہل بابا اب کچھ زیادہ ہی ہوا میں اُڑنے لگے ہیں؟ مانا کہ جناب کا حصص آج کل بلند ہو رہا ہے، ہمیں اس بات کا اعتراف ہے، لیکن صاحب! اس کا یہ مطلب تو ہرگز نہیں ہوا……. اور بالکل بھی نہیں ہوا……. کہ راہل بابا ہوا میں اُڑنے اور آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ نہیں صاحب، یہ اچھی بات نہیں ہے، اور اس لیے نہیں ہے کہ جو جتنا زیادہ بلندی پر ہوتا ہے، اتنا ہی اسے نیچے گرنے کا خطرہ بھی ہوتا ہے، اور بندہ جتنی اونچائی سے گرتا ہے، اتنی ہی زیادہ تکلیف اٹھاتا ہے……. قسم اللہ میاں کی!راہل بابا لوک سبھا میں تقریر کے دوران کسی’اینگری ینگ مین‘ کی طرح لگ رہے تھے۔ جوش میں بھی تھے، اور شاید اسی جوش میں یہ جناب ہوش بھی گنوا بیٹھے، جب انہوں نے مودی سرکار کے دو نمبری……. یعنی نمبر ٹو، امیت بھائی شاہ کے استعفے کا مطالبہ کر ڈالا۔اللہ توبہ، میری توبہ! ہمیں یقین نہیں آ رہا…….اُس پر یقین نہیں آ رہا جو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ اور اپنے کانوں سے سن رہے ہیں۔ ہمیں یقین نہیں آ رہا کہ یہ کیا…….کیا ہمیں یہ دن بھی دیکھنا پڑ رہا ہے کہ راہل بابا، امیت بھائی شاہ کے استعفے کا مطالبہ کریں۔یہ مطالبہ کر کے راہل بابا نے واقعی سرخ لکیر پار کی ہے، اور سو فیصد کی ہے۔ اس لیے کہ امیت بھائی شاہ، پردھان منتری…….معاف کیجیے، دھرمیندر پردھان نہیں ہیں، جنہیں بلی کا بکرا بنایا گیا…….یہ امیت بھائی شاہ ہیں… امیت شاہ! اور راہل بابا انہی کا استعفیٰ چاہتے ہیں۔نہیں صاحب! ہمیں کہنے دیجیے……. یہ کہنے دیجیے کہ یہ مطالبہ کر کے راہل بابا نے اپنے قد سے بڑی بات کی ہے۔ یقیناً راہل بابا بھی چھوٹے نہیں ہیں، اس لیے ہم انہیں’چھوٹا منہ، بڑی بات‘ والا طعنہ نہیں دے سکتے، لیکن اتنے بڑے بھی نہیں ہیں کہ امیت بھائی شاہ کے استعفے کا مطالبہ کریں۔ یہ اتنے بڑے نہیں ہیں۔ ہاں، البتہ اتنا ضرور ہے کہ راہل بابا خود کو اتنا بڑا، یا اس سے بھی زیادہ بڑا، سمجھتے ہوں تو صاحب، ہم اس میں کچھ نہیں کہہ سکتے، اور نہ ہی کچھ کر سکتے ہیں۔لیکن……. لیکن ایک بات تو ضرور کہہ سکتے ہیں۔ راہل بابا سے کہہ سکتے ہیں کہ جناب، لوٹ آئیے……. آسمان سے نیچے، زمین پر آ جائیے……. اس سے پہلے کہ آپ آسمان سے نیچے گر جائیں، یا آپ کو آسمان سے نیچے گرا دیا جائے۔راہل بابا! آپ سمجھ گئے نا؟ ہے نا؟



