ریاستی درجے کی بحالی کیلئےجدوجہد مسلسل جاری رہے گی‘ہر جمہوری پلیٹ فارم پر عوام کی آواز بلند کریں گے :وزیر اعلیٰ
عمر عبداللہ کا گاندربل میں ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مسائل کا جائزہ ‘ تعمیراتی کام مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت
(ندائے مشرق خبر)
گاندربل؍۳۰جولائی
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ ایک احتجاج سے کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوگا اور ریاستی درجے کی بحالی کے لیے پارٹی کی مہم ایک دن کا پروگرام نہیں بلکہ مسلسل جاری رہنے والی سیاسی جدوجہد ہے۔
اپنے آبائی حلقہ انتخاب گاندربل میں مختلف ترقیاتی کاموں کا جائزہ لینے کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس یہ جانتے ہوئے دہلی میں احتجاج کے لیے گئی تھی کہ صرف ایک مظاہرہ کرنے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔
عمرعبداللہ نے کہا’’ہم دہلی اس بات کو بخوبی جانتے ہوئے گئے تھے کہ پہلے ہی احتجاج سے ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ جموں و کشمیر کے عوام سے ریاستی درجے کی بحالی کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن وہ وعدہ آج تک پورا نہیں کیا گیا‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے۵؍ اگست کا انتظار نہیں کیا بلکہ اس سے پہلے ہی ہر دستیاب جمہوری پلیٹ فارم پر ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ اٹھایا۔
عمرعبداللہ نے کہا’’ہم نے قانون ساز اسمبلی میں قرارداد منظور کی تاکہ عوام کی آواز اور مینڈیٹ باضابطہ طور پر نئی دہلی تک پہنچ سکے۔ صرف ایک احتجاج یا علامتی سیاسی مظاہرہ نتائج نہیں دے سکتا۔ ہم۵؍اگست کا انتظار کرتے ہوئے خاموش نہیں بیٹھے بلکہ اسمبلی سمیت ہر دستیاب پلیٹ فارم کو استعمال کیا تاکہ نئی دہلی کو یہ سمجھایا جا سکے کہ جموں و کشمیر کے عوام حقیقت میں کیا چاہتے ہیں‘‘۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر (پی او کے) کی صورتحال سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے وہاں تشدد اور شہری ہلاکتوں کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا’’ہم سب اس صورتحال پر فکر مند ہیں۔ ہم صرف یہی امید کر سکتے ہیں کہ وہاں بھی امن قائم ہو۔‘‘
اس سے پہلے وزیر اعلیٰ نے گاندربل کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے مختلف عوامی پروگراموں میں شرکت کی، اہم ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا اور ضلع کو درپیش عوامی مسائل سے براہِ راست آگاہی حاصل کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔
اپنے دورے کے آغاز میں وزیر اعلیٰ نے نیو بس اڈہ روڈ کی زیر تعمیر سڑک کا معائنہ کیا، جو علاقے میں ٹریفک کی بھیڑ کم کرنے کے لیے ایک اہم بنیادی ڈھانچہ جاتی منصوبہ ہے۔ انہوں نے منصوبے کی بروقت تکمیل پر زور دیتے ہوئے متعلقہ ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ کام کی رفتار تیز کی جائے تاکہ سڑک جلد از جلد عوام کے لیے کھولی جا سکے۔
بعد ازاں وزیر اعلیٰ نے ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کی جس میں ضلع میں جاری اہم ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت اور عوامی مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں سڑکوں کے رابطے، آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے، سیلابی تحفظ، سیوریج، ٹھوس فضلہ (سالڈ ویسٹ) کے انتظام، اراضی کے حصول اور دیگر عوامی فلاحی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے آغاز میں ڈپٹی کمشنر گاندربل نے ضلع کے ترجیحی ترقیاتی مسائل پر مفصل پریزنٹیشن پیش کرتے ہوئے حکومت کی فوری مداخلت کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے مختلف سڑکوں کی توسیع، پاری بل تکنواری پل تک رابطہ سڑک کے لیے اراضی کے حصول، آبپاشی نہروں اور پاور کینال کے پشتوں کی مضبوطی، سنٹرل یونیورسٹی آف کشمیر تک بہتر سڑک رابطے، سیاحتی ڈھانچے کی ترقی اور مانسبل میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) کے قیام کی ضرورت کو اجاگر کیا۔
ڈپٹی کمشنر نے رنگ روڈ فیز۲ی توسیع سے متاثرہ دکانداروں کی بازآبادکاری، اہم رابطہ سڑکوں کی تعمیر، انٹیگریٹڈ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پلانٹ کے قیام اور دیگر عوام دوست منصوبوں کا معاملہ بھی وزیر اعلیٰ کے سامنے رکھا۔
تمام منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد وزیر اعلیٰ نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ وہ باہمی اشتراک سے تمام رکاوٹیں دور کریں، زیر التوا منظوریوں کو جلد مکمل کریں اور تمام جاری و مجوزہ منصوبوں کو مقررہ مدت میں پایۂ تکمیل تک پہنچائیں۔انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر کو ہر ممکن حد تک کم کیا جائے اور مختلف محکمے باہمی رابطے کو مزید مضبوط بنائیں تاکہ ترقی کے ثمرات بلا تاخیر عوام تک پہنچ سکیں۔
وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت جموں و کشمیر میں متوازن اور جامع ترقی کے لیے پرعزم ہے، جس کا مقصد بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا، شہری سہولیات میں بہتری لانا اور مؤثر و مربوط طرز حکمرانی کے ذریعے عوام کے حقیقی مسائل کا حل یقینی بنانا ہے۔
دورے کے دوران وزیر اعلیٰ نے ڈاک بنگلہ گاندربل میں مختلف عوامی وفود اور افراد سے بھی ملاقات کی اور ان کے مسائل و مطالبات بغور سنے۔یہ وفود صفاپورہ، نونر، منی گام، لار، شیر پتھری، شالہ بگھ، وسکورہ، وکورہ، مانسبل، گٹلی باغ، بیہامہ، رنگیل، سلورہ، وائل، بٹوینہ اور دیگر دیہات سے تعلق رکھتے تھے۔
وفود نے پینے کے صاف پانی کی فراہمی، آبپاشی کی سہولیات، نہروں کی صفائی، تعلیمی و طبی اداروں کی اپ گریڈیشن، صحت مراکز میں عملے کی کمی، کھیل کے میدانوں اور اسپورٹس انفراسٹرکچر کی ترقی، سیاحتی سہولیات اور دیگر مقامی ترقیاتی مسائل وزیر اعلیٰ کے سامنے رکھے۔
وزیر اعلیٰ نے تمام وفود کے مسائل تحمل سے سنے اور متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ اٹھائے گئے معاملات کا جائزہ لے کر مقررہ مدت میں مناسب کارروائی کی جائے۔انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ ان کے جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور حکومت عوام دوست، شفاف اور جوابدہ طرز حکمرانی کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔










