سری نگر؍۱۴ ستمبر
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے آج جموں و کشمیر میں صحت کے شعبے میں جاری اصلاحات اور طبی خدمات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں وزیر صحت و طبی تعلیم سکینہ ایتو، وزیراعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، چیف سیکریٹری اٹل ڈولو، ایڈیشنل چیف سیکریٹری ٹو چیف منسٹر دھیرج گپتا اور محکمہ صحت و طبی تعلیم کے کمشنر سیکریٹری ایم راجو نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران مشاورتی کمیٹی کے مختلف ذمہ داران نے صحت کے شعبے سے متعلق تفصیلی پریزنٹیشنز پیش کیں۔ ان میں طبی بنیادی ڈھانچہ، طبی تعلیم، خصوصی طبی خدمات، ڈیجیٹل صحت، عوامی صحت اور انسانی وسائل کی ضروریات سمیت مختلف شعبوں کا جائزہ لیا گیا۔
اس موقع پر جموں و کشمیر میں طبی بنیادی ڈھانچے اور صحت خدمات کو بہتر بنانے کے لیے اب تک کی گئی پیش رفت کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ مزید بہتری کے لیے درکار وسائل اور ترجیحات پر بھی غور کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے گزشتہ تقریباً دو برس کے دوران طبی عملے کی کمی، بنیادی ڈھانچے اور طبی آلات سے متعلق خامیوں کو دور کرنے کے لیے محکمہ صحت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ محکمہ صحت نے گزشتہ تقریباً دو برس کے دوران بنیادی ڈھانچے اور طبی آلات کی کمی دور کرنے کے ساتھ ساتھ افرادی قوت سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے محکمہ کو ہدایت دی کہ دستیاب بجٹ اور مشاورتی کمیٹی کی رپورٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے نظام میں موجود اہم خلا کو ترجیحی بنیادوں پر پُر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں مجوزہ جامع اصلاحات کے لیے بڑی مالی ضرورت ہوگی، جبکہ تمام ضروری وسائل ایک ہی وقت میں دستیاب ہونا ممکن نہیں۔ اس لیے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ کون سے شعبوں کو فوری توجہ درکار ہے اور کن اقدامات کو مرحلہ وار نافذ کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے بنیادی اور ثانوی سطح کی طبی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ عام لوگوں کو ابتدائی سطح پر ہی بہتر علاج اور طبی خدمات دستیاب ہوسکیں۔
وزیراعلیٰ، جو اس وقت محکمہ خزانہ کا قلمدان بھی سنبھال رہے ہیں، نے محکمہ صحت کو مسلسل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ خزانہ کی جانب سے صحت کے شعبے میں جاری بہتری کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔
اجلاس میں سرکاری میڈیکل کالجوں، سکمز اور دیگر اعلیٰ سطحی اور ضلعی طبی اداروں کی کارکردگی اور ضروریات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس دوران مریضوں کی نگہداشت، بنیادی ڈھانچے، طبی آلات، طبی تعلیم اور خصوصی خدمات کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔
ملاقات میں کینسر کے علاج، طبی تعلیم اور میڈیکل نشستوں کی تعداد، ڈیجیٹل صحت خدمات، دندان سازی، غذائی اشیا کے تحفظ، ذہنی صحت اور منشیات سے نجات، جگر کی پیوند کاری، غذائی معاونت اور بزرگوں کی نگہداشت سمیت مختلف اہم شعبوں پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں ڈائریکٹر سکمز، جموں و کشمیر کے تمام سرکاری میڈیکل کالجوں کے پرنسپلز، پرنسپل سکمز میڈیکل کالج و اسپتال، مشن ڈائریکٹر نیشنل ہیلتھ مشن جموں و کشمیر، منیجنگ ڈائریکٹر جموں و کشمیر میڈیکل سپلائز کارپوریشن لمیٹڈ، کمشنر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ سری نگر سے باہر تعینات افسران نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ڈی آئی پی آر)









