منگل, نومبر 3, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

ایل اے سی پر چینی فوجی تعیناتی میں۲۰۲۵کے دوران کمی آئی: وزارتِ دفاع

’دونوں ممالک میں مسلسل رابطوں سے شمالی سرحدوں پر استحکام میں مدد ملی، تاہم فوج کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہے‘

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-09-15
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
ایل اے سی پر چینی فوجی تعیناتی میں۲۰۲۵کے دوران کمی آئی: وزارتِ دفاع
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

نئی دہلی؍۱۴ستمبر

                وزارتِ دفاع کی ایک سالانہ رپورٹ کے مطابق متنازع لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے ساتھ گزشتہ سال چینی فوج کی تعیناتی میں نمایاں کمی آئی، جبکہ بھارت اور چین کے درمیان سیاسی، سفارتی اور فوجی سطح پر مسلسل رابطوں کے نتیجے میں شمالی سرحدوں پر مثبت پیش رفت اور استحکام پیدا ہوا۔

                وزارتِ دفاع نے اپنی سالانہ رپورٹ۲۰۲۵۔۲۶میں کہا ہے کہ ’’سال۲۰۲۵ کے دوران شمالی سرحدوں کے بالمقابل پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کی تعیناتی میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔‘‘

متعلقہ

وزیراعلیٰ کا ترقیاتی کاموں میں تیزی لانے پر زور

مرکز اور جموں و کشمیر میں بداعتمادی کیلئے این سی ذمہ دار:محبوبہ

                رپورٹ کے مطابق چینی پی ایل اے نے ایل اے سی کے ساتھ۱۰ مشترکہ عسکری بریگیڈ تعینات کر رکھی تھیں، جبکہ مزید ۱۰بریگیڈ سرحد سے دور روایتی تربیتی علاقوں میں موجود تھیں۔

                اس کا مطلب ہے کہ گزشتہ سال ایل اے سی کے ساتھ تقریباً۴۰ ہزار سے۵۰ ہزار چینی فوجی تعینات تھے، جبکہ اتنی ہی تعداد میں فوجی متعین تربیتی علاقوں میں موجود تھے۔۳۲۳ صفحات پر مشتمل رپورٹ میں اس سے ایک سال قبل ایل اے سی کے ساتھ تعینات چینی فوجیوں کی مجموعی تعداد نہیں بتائی گئی۔ تاہم، اکتوبر۲۰۲۴میں دونوں ملکوں کے درمیان تمام کشیدگی والے مقامات سے فوجیوں کی واپسی پر اتفاق سے قبل صرف لداخ کے شعبے میں ہی چینی فوجیوں کی تعداد۶۰ ہزار سے زیادہ ہونے کا اندازہ تھا۔ اس سے پہلے دونوں ملکوں کے درمیان چار سال سے زائد عرصے تک فوجی تعطل جاری رہا تھا جس کے باعث دوطرفہ تعلقات کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے تھے۔

                رپورٹ میں کہا گیا کہ ’’سیاسی، سفارتی اور فوجی سطح پر بھارت اور چین کے درمیان دوطرفہ روابط نے شمالی سرحدوں پر مثبت پیش رفت میں سہولت فراہم کی۔‘‘

                وزارتِ دفاع کے مطابق بھارت نے ایل اے سی کے تمام شعبوں میں اپنی فوجی تعیناتی مضبوط رکھی ہوئی ہے اور بھارتی فوج کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے۔

                یہ رپورٹ۳۱ مارچ۲۰۲۶ تک کے واقعات کا احاطہ کرتی ہے اور اس کے بعد اروناچل پردیش کے بالائی سوبان سری ضلع کے دور افتادہ علاقے تکسنگ میں بھارتی فوج اور پی ایل اے کے درمیان پیدا ہونے والی تازہ کشیدگی کو شامل نہیں کرتی۔

                دریں اثنا، بھارت نے ہفتے کے روز اس بات پر زور دیا کہ سرحدی علاقوں میں ’’امن اور سکون‘‘ چین کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھانے کی ’’بنیادی بنیاد‘‘ ہیں۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب وزیراعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ نے نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر ملاقات کی اور دوطرفہ تعلقات میں ’’مسلسل پیش رفت‘‘ کا خیرمقدم کیا۔

                شی جن پنگ سات برس بعد پہلی مرتبہ بھارت آئے اور برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔ ان کے دورے نے سرحد پر جاری کشیدگی کے باوجود بھارت اور چین کے تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے مودی کے ساتھ ملاقات کی راہ ہموار کی۔

                دونوں رہنماؤں کی اس سے قبل ملاقات ایک سال پہلے چین کے شہر تیان جن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی۔

                دونوں رہنماؤں کی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب اروناچل پردیش میں دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان ایک مرتبہ پھر کشیدگی پیدا ہوئی اور جولائی اور اگست کے دوران فوجیوں کے آمنے سامنے آنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

                ملاقات کے دوران سرحدی تنازع پر خصوصی نمائندوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات، سرحدی امور پر مشاورت اور رابطہ کاری کے طریقہ کار، یعنی ڈبلیو ایم سی سی، اور اعلیٰ سطحی فوجی کمانڈروں کے درمیان مذاکرات کے مختلف ادوار کا بھی جائزہ لیا گیا۔

                بھارت اور چین نے۶؍اور۷ستمبر کو اروناچل پردیش کے مشرقی علاقے میں فوجی کمانڈروں کی سطح پر مذاکرات کا پہلا دور بھی منعقد کیا۔ یہ ملاقات سرحدی معاملے پر بھارت اور چین کے خصوصی نمائندوں کے درمیان بیجنگ میں ہونے والے مذاکرات کے۲۵ویں دور کے چند روز بعد ہوئی۔

                سالانہ رپورٹ میں آپریشن سندور کا بھی تفصیلی ذکر کیا گیا ہے اور مئی۲۰۲۵میں پاکستان کے ساتھ چار روزہ فوجی تصادم سے حاصل ہونے والے اسباق کا جائزہ لیا گیا ہے۔

                رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’آپریشن کے بعد بھارت نے صلاحیتوں میں موجود خامیوں کا جامع جائزہ لیا، جس میں فوجی ڈھانچے کی ازسرنو تنظیم، مشترکہ کارروائی کی صلاحیت میں اضافہ اور نئی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کو مربوط کرنے پر واضح توجہ مرکوز کی گئی۔‘‘

                وزارتِ دفاع نے کہا کہ آپریشن سندور کے دوران مقامی صنعت کی جانب سے بغیر پائلٹ فضائی نظام، انسدادِ ڈرون نظام اور لوئٹرنگ میونیشنز جیسے مخصوص اور جدید ہتھیار فراہم کرنے میں موجود خامیاں نمایاں ہو کر سامنے آئیں۔

                رپورٹ کے مطابق آپریشن سندور نے مسلح افواج کے درمیان بہتر تال میل اور مشترکہ کارروائی کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔

                وزارتِ دفاع نے کہا کہ مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے اور تینوں افواج کے درمیان مکمل ہم آہنگی کے لیے تھیٹرائزیشن ناگزیر ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب تک اس ضمن میں۲۹ فیصد اہداف مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ۳۵فیصد مشترکہ فوجی نظریات اور اصول مرتب کیے گئے ہیں۔

                رپورٹ میں کہا گیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ مشترکہ کارروائی اور انضمام سے متعلق تمام اقدامات بروقت مکمل کیے جائیں۔ ان اقدامات کا مقصد عملی تیاری بڑھانا ہے، جس میں صلاحیتوں کی تعمیر، دیکھ بھال، انتظامی امور، افرادی قوت کا انتظام اور قانونی پہلو شامل ہیں۔

                مشترکہ کارروائی کی صلاحیت کو تھیٹر کمانڈز کے قیام کے لیے ایک بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔ ان کمانڈز کے تحت تینوں مسلح افواج کے اہلکاروں، وسائل اور عسکری صلاحیتوں کو ایک ہی کمانڈر کے ماتحت مربوط کیا جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

برکس اجلاس :’دہشت گردی پر اتفاقِ رائے قابلِ ذکر رہا‘

Next Post

ایڈوکیٹ جنرل کی تعیناتی پر حکومت کو نوٹس

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

۷۹واں یومِ آزادی:وزیر اعلیٰ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے
اہم ترین

وزیراعلیٰ کا ترقیاتی کاموں میں تیزی لانے پر زور

2026-11-02
محبوبہ کا این سی پر جنوبی کشمیر کو نظر انداز کرنے کا الزام
اہم ترین

مرکز اور جموں و کشمیر میں بداعتمادی کیلئے این سی ذمہ دار:محبوبہ

2026-11-02
پٹنی ٹاپ ہوٹل اراضی تجاوزات کیس میں۱۱کروڑ روپے کی جائیدادیں منسلک
اہم ترین

پٹنی ٹاپ ہوٹل اراضی تجاوزات کیس میں۱۱کروڑ روپے کی جائیدادیں منسلک

2026-11-02
’قومی زعفراب مشن  کے بعد زعفران کی پیداوار میں اضافہ ہوا ‘
اہم ترین

پانپور میں زعفران کی فصل کی کٹائی شروع، گزشتہ سال کے بھاری نقصان کے بعد بہتر پیداوار کی امید

2026-11-02
سنتور ہوٹل ملازموں کا سرینگر میں احتجاج
اہم ترین

دربار مو کا پہلا دن: ڈیلی ویجرز اور آشا ورکروں کا احتجاجی مارچ

2026-11-02
اسمبلی انتخابات سے قبل فوج کی دراندازی کا مقابلہ کرنے کی کوششوں میںاضافہ
اہم ترین

  ایل او سی کے نزدیک بارودی سرنگ  کے دھماکے میں فوجی پورٹر کا پاؤں ضائع

2026-11-02
شوپیاں گرینیڈ حملے میں ملوث تین افراد گرفتار، اسلحہ بر آمد:پولیس
اہم ترین

اننت ناگ میں مسجد پر پتھراؤ کے الزام میں چار افراد حراست میں

2026-11-02
اہم ترین

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں ۳ہزار معاملات میں کارروائی

2026-11-02
Next Post
حیدر پورہ جھڑپ:عامر ماگرے کے لواحقین کو ۵لاکھ روپے کا معاوضہ برقرار

ایڈوکیٹ جنرل کی تعیناتی پر حکومت کو نوٹس

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.