نئی دہلی؍۱۴ستمبر
وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس کے کامیاب اختتام کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ رکن ممالک نے دہشت گردی کے خلاف کارروائی، بالخصوص پہلگام دہشت گرد حملے کی مذمت، کے معاملے پر ایک اہم اتفاقِ رائے حاصل کیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تقسیم کے باوجود برکس ممالک نے نئی دہلی اعلامیے کے ذریعے سرحد پار دہشت گردی کے خلاف واضح اور دوٹوک موقف اختیار کیا اور۲۲؍ اپریل۲۰۲۵ کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی صاف الفاظ میں مذمت کی۔
شنکر نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر برکس کا اتفاقِ رائے خاص طور پر قابلِ ذکر رہا۔ ان کے مطابق برکس نے واضح کیا کہ ہر قسم کی دہشت گردی ایک مجرمانہ عمل ہے اور اس نے۲۲؍ اپریل۲۰۲۵ کے پہلگام حملے کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔
جے شنکر نے کہا کہ برکس ممالک نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر، بشمول سرحد پار دہشت گردی، کی مذمت کی، دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر زور دیا اور اس کے انسداد میں دوہرے معیار کو مسترد کیا۔
وزیر خارجہ کے مطابق سربراہی اجلاس میں وزیراعظم نریندر مودی کے بین الاقوامی تعلقات سے متعلق ’’مکالمہ، سفارت کاری اور ترقی‘‘ کے نقطۂ نظر کی عالمی سطح پر پذیرائی دیکھنے کو ملی۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط قیادت کے تحت کثیر ملکی سطح پر اتفاقِ رائے اب بھی ممکن ہے۔
جے شنکر نے کہا کہ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ یہ اتفاقِ رائے ممکن نہیں ہوگا، لیکن ایسا ہوا اور وہ بھی نئی دہلی میں وزیراعظم مودی کی قیادت میں ہوا۔
۲۲ ؍اپریل۲۰۲۵ کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردوں نے سیاحوں کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں۲۶؍افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ بھارت نے اس حملے کے پیچھے پاکستان سے منسلک عناصر کو ذمہ دار قرار دیا تھا۔ اس کے جواب میں بھارت نے۷ مئی۲۰۲۵ کو آپریشن سندور کے تحت پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تھا۔
جے شنکر کا بیان ہفتے کو برکس ممالک کی جانب سے منظور کیے گئے نئی دہلی اعلامیے۲۰۲۶کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ اعلامیے میں جموں و کشمیر میں اپریل۲۰۲۵ کے دہشت گرد حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی کی حمایت کی گئی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ برکس ممالک۲۲؍ اپریل۲۰۲۵ کو جموں و کشمیر میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی ’’سخت ترین الفاظ میں‘‘ مذمت کرتے ہیں، جس میں۲۶؍ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔
رکن ممالک نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کے خلاف اپنی وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کی سرحد پار نقل و حرکت، دہشت گردی کی مالی معاونت اور دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کیے جانے سمیت مختلف خطرات کا ذکر کیا۔ اعلامیے میں دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس اور اس کے انسداد میں دوہرے معیار کو مسترد کرنے کی بات بھی کہی گئی۔
برکس ممالک نے اقوام متحدہ کے تحت بین الاقوامی دہشت گردی کے خلاف جامع کنونشن کو جلد حتمی شکل دینے اور اسے منظور کرنے پر بھی زور دیا۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی جانب سے نامزد دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مشترکہ کارروائی کی اپیل کی گئی۔
اعلامیے میں غیر قانونی مالیاتی بہاؤ، منی لانڈرنگ، سائبر فراڈ اور سرحد پار جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے ذریعے شدت پسند سرگرمیوں کی مالی معاونت پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
چین کی جانب سے بھارت سے متعلق دہشت گردی کے خلاف زبان پر اتفاق کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے، اگرچہ اعلامیے میں پاکستان کا براہِ راست نام نہیں لیا گیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیراعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات کی توقع تھی۔ اس کے برعکس حالیہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاسوں میں پہلگام حملے پر مشترکہ اتفاقِ رائے حاصل نہیں ہوسکا تھا۔
نئی دہلی اعلامیے میں چین اور روس نے، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان ہیں، برازیل اور بھارت کی اس خواہش کی حمایت کا اعادہ کیا کہ انہیں اقوام متحدہ سمیت سلامتی کونسل میں زیادہ اہم کردار ادا کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔
برکس رہنماؤں نے سلامتی کونسل میں اصلاحات کے عزم کا بھی اعادہ کیا اور اسے زیادہ جمہوری، نمائندہ، مؤثر اور فعال بنانے کے لیے ترقی پذیر ممالک کی زیادہ نمائندگی کی حمایت کی۔
بھارت نے اپنی۲۰۲۶ کی برکس صدارت کے تحت۱۲؍ اور۱۳ستمبر کو نئی دہلی میں۱۸ ویں برکس سربراہی اجلاس کی میزبانی کی، جس کے اختتام پر رکن ممالک نے نئی دہلی اعلامیے کو متفقہ طور پر منظور کیا۔
۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )









