سری نگر؍۱۴ ستمبر
جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا۱۰روزہ خزاں اجلاس۲۱ ستمبر سے شروع ہونے جا رہا ہے اور اپوزیشن جماعتوں نے عمر عبداللہ حکومت کو روزگار میں آؤٹ سورسنگ، بڑھتی بے روزگاری اور انتخابی وعدے پورے نہ کرنے سمیت مختلف معاملات پر گھیرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ حزب اختلاف کے تیور دیکھتے ہوئے اجلاس کے ہنگامہ خیز رہنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
جموں و کشمیر اسمبلی میں اہم اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی نیشنل کانفرنس حکومت ہر محاذ پر ناکام رہی ہے۔
بی جے پی کے ترجمان الطاف ٹھاکر نے کہا کہ ان کی جماعت اسمبلی میں عوام سے متعلق مسائل پوری شدت کے ساتھ اٹھائے گی۔ ان کے مطابق سرکاری ملازمتوں میں آؤٹ سورسنگ میں مبینہ گھپلا جاری ہے، بدعنوانی پر قابو نہیں پایا جا سکا اور پنچایتی و شہری بلدیاتی اداروں کے انتخابات میں غیر ضروری تاخیر کی جا رہی ہے۔
ٹھاکر نے کہا کہ بی جے پی کے ارکان اسمبلی۲۰۲۴کے انتخابات کے دوران حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدوں کا بھی حساب مانگیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام سے۲۰۰ یونٹ مفت بجلی دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، جبکہ انتخابات کے بعد ترقیاتی کام بھی سست پڑ گئے ہیں۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے پلوامہ سے رکن اسمبلی وحید پرہ نے کہا کہ ان کی جماعت اسمبلی میں بے روزگاری، آؤٹ سورسنگ، ریزرویشن کی غیر متوازن پالیسی اور سرکاری محکموں میں کام کرنے والے یومیہ اجرت ملازمین کو مستقل کرنے جیسے معاملات کو ترجیح دے گی۔
وحید پرہ نے کہا کہ اجلاس کا دورانیہ محدود ہے، اس لیے ان کی جماعت زیادہ سے زیادہ عوامی مسائل اٹھانے کی کوشش کرے گی، بالخصوص ان انتخابی وعدوں کو جنہیں نیشنل کانفرنس نے حکمرانی اور سیاسی محاذ دونوں پر پورا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
دوسری جانب نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے کہا کہ ان کی جماعت اسمبلی میں اپنی حکومت کی کارکردگی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام سے متعلق مسائل حکومت کے لیے سب سے زیادہ اہم ہیں اور حکومت اپنے انتخابی وعدے پورے کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔
ڈار کا کہنا تھا کہ حکومت یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ تمام وعدے مکمل کر لیے گئے ہیں، تاہم وہ ان کی تکمیل کی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن سے بھی اسمبلی میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کی توقع ظاہر کی اور کہا کہ محض سنسنی پیدا کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔
عمران نبی ڈار نے کہا کہ پارلیمانی جمہوریت میں اپوزیشن کا کام عوامی مسائل پر سوال اٹھانا اور حکومت کا فرض ان کا جواب دینا ہے، اور نیشنل کانفرنس اپنی ذمہ داری پوری دیانت داری سے ادا کرے گی۔
اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر کی جانب سے جاری عارضی پروگرام کے مطابق۲۱ ستمبر کو اجلاس کا آغاز تعزیتی حوالوں سے ہوگا، جبکہ اگلے روز سرکاری امور زیر بحث آئیں گے۔
۲۴ ستمبر کو نجی ارکان کے بل پیش اور زیر بحث لائے جائیں گے، جبکہ۲۵ ستمبر کو نجی ارکان کی قراردادوں پر غور ہوگا۔۲۸ ستمبر کو دوبارہ نجی ارکان کے بل زیر بحث آئیں گے، جبکہ۲۹؍ اور۳۰ ستمبر کو سرکاری امور پر کارروائی ہوگی۔
خزاں اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب حکومت کو بے روزگاری، سرکاری بھرتیوں، آؤٹ سورسنگ، ترقیاتی رفتار اور انتخابی وعدوں کی تکمیل جیسے معاملات پر اپوزیشن کی سخت تنقید کا سامنا ہے۔ امکان ہے کہ ان ہی مسائل پر اسمبلی کے اندر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان گرما گرم بحث دیکھنے کو ملے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔
ایجنسیاں









