جموں؍۱۴ستمبر
جموں ڈویژن میں پہلی مرتبہ ایک ہی ڈویژن کے اندر ریل کے ذریعے سیمنٹ کی ترسیل کا آغاز ہوگیا ہے۔ اس سلسلے میں پہلی کھیپ شہید کیپٹن سنیل کمار چودھری کٹھوعہ ریلوے اسٹیشن سے اننت ناگ گڈز شیڈ روانہ کی گئی، جسے جموں ڈویژن میں اندرونی مال برداری کے ایک نئے باب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
جموں ڈویژن کے بزنس ڈیولپمنٹ یونٹ کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں۱۴ ستمبر کو کٹھوعہ سے سیمنٹ کی پہلی کھیپ روانہ ہوئی۔ اس کھیپ میں تقریباً۱۳۲۰ تھیلے سیمنٹ شامل تھے، جن کا مجموعی وزن تقریباً۶۶ ٹن تھا۔ یہ مال ایک بی سی این ویگن میں لادا گیا تھا۔
یہ کھیپ گنپتی سیمنٹ، کٹھوعہ کی جانب سے بک کی گئی۔ ریلوے حکام کے مطابق یہ پہلی مرتبہ ہے کہ جموں ڈویژن کے اندر ہی ایک مقام سے دوسرے مقام تک سیمنٹ جیسے سامان کی اندرونی ترسیل ریل کے ذریعے کی گئی ہے۔ اس سے قبل کٹھوعہ اور دیگر علاقوں سے وادی کشمیر تک سیمنٹ سمیت تعمیراتی سامان سڑک کے ذریعے پہنچایا جاتا تھا۔
ریلوے کے مطابق کٹھوعہ سے اننت ناگ کے درمیان یہ نیا مال برداری راستہ کشمیر وادی میں تعمیراتی سامان کی نسبتاً سستی، محفوظ اور تیز تر فراہمی میں مدد دے گا۔ اس سے ریلوے کی مال برداری آمدنی میں بھی اضافہ متوقع ہے اور سڑک کے مقابلے میں ماحول دوست نقل و حمل کو فروغ ملے گا۔
جموں ڈویژن کے سینئر ڈویژنل کمرشل منیجر اُچت سنگھل نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ریل مال برداری کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل قائم ہوا ہے۔ ان کے مطابق اس سے قبل کٹھوعہ اور اننت ناگ جیسے بڑے ریلوے مراکز پر سیمنٹ صرف بیرونی علاقوں سے آنے والی کھیپ کے طور پر موصول ہوتا تھا، تاہم مسلسل کوششوں اور بہتر لاجسٹکس کے نتیجے میں پہلی مرتبہ یہاں سے سیمنٹ کی بیرونی ترسیل بھی شروع ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ جموں و کشمیر کا صنعتی شعبہ بھارتی ریلوے پر اعتماد کا اظہار کر رہا ہے اور مقامی صنعتیں اور کاروباری ادارے تیزی سے ریل نیٹ ورک سے جڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس سے خطے کی اقتصادی سرگرمیوں کو بھی نئی رفتار ملے گی۔
ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں جموں ڈویژن کا بزنس ڈیولپمنٹ یونٹ مزید تاجروں، صنعت کاروں اور اداروں کو ریل مال برداری سے جوڑنے کی کوشش کرے گا تاکہ ریلوے کاروباری طبقے کے لیے زیادہ اقتصادی، قابل اعتماد اور ماحول دوست نقل و حمل کا ذریعہ بن سکے۔
کٹھوعہ سے اننت ناگ تک سیمنٹ کی یہ پہلی اندرونی ریل ترسیل ایسے وقت میں ہوئی ہے جب جموں و کشمیر میں ریل رابطے کو مسافروں کے ساتھ ساتھ تجارتی اور صنعتی سرگرمیوں کیلئے بھی زیادہ مؤثر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔
۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)









