(ایجنسیاں)
نئی دہلی؍۳۱جولائی
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور ان کی علیحدہ رہائش اختیار کر چکی اہلیہ پائل عبداللہ نے باہمی رضامندی سے اپنی شادی ختم کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔
جمعرات کو سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ دونوں فریقین نے آئین کے آرٹیکل۱۴۲کے تحت درخواست دائر کرتے ہوئے اپنی شادی تحلیل کرنے کی استدعا کی ہے۔
سینئر وکیل کپل سبل نے جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آلوک آرادھے پر مشتمل بنچ کو بتایا کہ دونوں فریقین نے ’آزادی کو قبول کر لیا ہے‘۔ انہوں نے عدالت سے کہا، ’’آرٹیکل۱۴۲ کے تحت درخواست دائر کی جا چکی ہے، عدالت طلاق کی منظوری دے سکتی ہے۔‘‘
عدالت کو بتایا گیا کہ طلاق کی مشترکہ درخواست۲۲ جولائی کو دائر کی گئی تھی۔ اس پر جسٹس نرسمہا نے کہا کہ عدالت اس کے مطابق حکم جاری کرے گی۔
کپل سبل نے مزید بتایا کہ دونوں فریقین ایک دوسرے کے خلاف دائر تمام مقدمات واپس لینے پر بھی متفق ہو گئے ہیں۔ جسٹس نرسمہا نے کہا کہ اس تمام اتفاق رائے کو عدالتی حکم کا حصہ بنایا جائے گا۔
عمر عبداللہ نے دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس میں انہیں طلاق دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے معاملہ مصالحت کی غرض سے سپریم کورٹ میڈی ایشن سینٹر بھی بھیجا تھا۔
عمر عبداللہ اور پائل عبداللہ کی شادی یکم ستمبر۱۹۹۴ کو ہوئی تھی۔ دونوں۲۰۰۹ سے الگ رہ رہے ہیں اور ان کے دو بیٹے ہیں۔
عمر عبداللہ نے فیملی کورٹ میں ترک تعلق اور ذہنی اذیت کی بنیاد پر طلاق کی درخواست دائر کی تھی، تاہم فیملی کورٹ نے۳۰؍ اگست۲۰۱۶ کو یہ کہتے ہوئے ان کی درخواست مسترد کر دی تھی کہ وہ یہ ثابت نہیں کر سکے کہ ان کی ازدواجی زندگی ناقابلِ اصلاح حد تک ٹوٹ چکی ہے۔
اس فیصلے کو عمر عبداللہ نے دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، تاہم دسمبر۲۰۲۳ میں جسٹس سنجیو سچدیوا اور جسٹس وکاس مہاجن پر مشتمل ڈویژن بنچ نے بھی فیملی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔
بعد ازاں معاملہ سپریم کورٹ پہنچا، جہاں دونوں فریقین نے باہمی رضامندی سے شادی ختم کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل۱۴۲ کے تحت طلاق کی درخواست دائر کی، جس پر عدالت جلد حکم جاری کرے گی۔










