چلئے صاحب، میڈم جی……. میڈم محبوبہ جی نے معافی مانگ لی ہے۔ ’بنتا ہے‘ پر معافی مانگ لی ہے۔ اور ہمیں امید ہے کہ ہم لوگ……. جو بڑے جذباتی ہیں……. میڈم جی کو معاف بھی کریں گے، اور اللہ میاں کی قسم، معاف کرنا ’بنتا ہے‘۔ اس لیے ’بنتا ہے‘ کیونکہ ہم بڑے جذباتی ہیں۔جس طرح ان کی ’بنتا ہے‘ والی بات پر ہم بھڑک اٹھے تھے، اسی طرح ہمیں یقین ہے کہ ہم لوگ ان کی معافی پر بھی ٹھنڈے پڑ جائیں گے۔ ہمارا مطلب ہے کہ ہمارے جذبات ٹھنڈے ہو جائیں گے، اور ہم بھول جائیں گے کہ میڈم جی نے کبھی ’بنتا ہے‘ والی بات بھی کہی تھی…….اسی طرح بھول جائیں گے جس طرح ہم ’دودھ ٹافی‘ والی ان کی بات بھول گئے تھے۔ہمارا جاننا اور ماننا ہے کہ ایسی باتوں کو بھول جانا ’بنتا ہے‘، کیونکہ ماضی میں اٹکے رہ جانے سے انسان صحیح راستے سے بھٹک جاتا ہے، اور سو فیصد جاتا ہے۔میڈم جی ایک سیاست دان ہیں، اور ہمیں یہ بات بھولنی نہیں چاہیے کہ سیاست دان معافیاں مانگتے نہیں پھرتے۔ اب اپنے پردھان……. دھرمیندر پردھان ہی کی بات لیجیے۔ انہوں نے اپنا سر دیا… نہیں صاحب، سر دھڑ والا سر نہیں‘ کہنے کا مطلب ہے کہ انہوں نے کرسی چھوڑ دی، مودی جی کی حکومت سے الوداع کہا، لیکن معافی نہیں مانگی……. بالکل بھی نہیں مانگی۔اور جب وہ استعفیٰ دینے کے بعد پہلی بار پارلیمنٹ پہنچے تو بی جے پی کے ارکانِ پارلیمنٹ نے ان کا ایسا والہانہ استقبال کیا جیسے یہ مودی جی کو کرسی سے اتار کر خود اس پر بیٹھ گئے ہوں۔ ان کے استقبال میں بھی ایک پیغام واضح تھا کہ جناب! ہم وزارت چھوڑ دیں گے، لیکن معافی نہیں مانگیں گے۔اور ایک ہماری میڈم جی ہیں، انہوں نے معافی مانگ لی۔ کرسی بھی چھوڑ ہی دیتیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت ان کے پاس کوئی کرسی نہیں ہے۔لیکن ہاں، معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ میڈم جی کا کہنا تھا کہ ’بنتا ہے‘ اصل میں ان کے منہ سے نکل گیا تھا، وہ دراصل ’بنتا ہے‘ نہیں بلکہ ’بہانہ ہے‘ کہنا چاہتی تھیں۔میڈم جی! آپ نے معافی مانگنے کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے معافی مانگ لی، اور اللہ میاں کی قسم، معافی مانگنے سے کوئی چھوٹا نہیں ہوتا، بلکہ اس کا قد بڑھ جاتا ہے۔ لیکن اب خود کو اور اپنی اس معافی کو یہ کہہ کر شرمندہ نہ کریں کہ میں اصل میں ’بنتا ہے‘ نہیں بلکہ ’بہانہ ہے‘ کہنا چاہتی تھی۔میڈم جی! یہ صرف ایک بہانہ ہے، اور معافی کے بعد یہ بہانہ بالکل بھی نہیں ’’بنتا ہے‘‘۔ ہے نا؟




