(ایجنسیاں)
راولاکوٹ؍۲۸ جولائی
پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کے علاقے راولاکوٹ میں پیر کی شام عوامی حقوق لانگ مارچ کے شرکاء پر پاکستانی سیکورٹی فورسز کی مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم۱۴؍افراد ہلاک اور تقریباً دو درجن دیگر زخمی ہونے کا دعویٰ عینی شاہدین نے کیا ہے۔
جاری کردہ ایک ویڈیو بیان میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے مرکزی رکن امتیاز اسلم نے کہا کہ احتجاجی قافلہ چنار چوک پہنچنے کے بعد ڈی چوک کی جانب بڑھ رہا تھا، تاہم رات کے قیام کے لیے مقبول بھٹ شہید چوک، راولاکوٹ میں رک گیا۔
امتیاز اسلم نے دعویٰ کیا ’’آج پاکستانی فورسز نے ہمارے نہتے نوجوانوں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں۱۴ نوجوان جاں بحق ہوئے۔ ان میں تحریک کے بانی عمر نذیر کشمیری کے چھوٹے بھائی عثمان نذیر بھی شامل ہیں۔ دیگر ہلاک شدگان میں کھائی گلہ، کوٹلی، تتہ پانی، بنجا۔بسپور، چھوٹا گلہ اور حویلی کے افراد شامل ہیں، جبکہ دو بلوچ کارکن بھی مارے گئے ہیں۔ تقریباً دو درجن افراد زخمی ہوئے ہیں‘‘۔
انہوں نے بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کریں اور الزام عائد کیا کہ حکام احتجاجیوں پر مظالم ڈھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا’’ہم اپنا مارچ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بیرونِ ملک مقیم کشمیری پاکستانی سفارت خانوں اور اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے سامنے احتجاج کریں اور لانگ مارچ کے شرکاء سے اظہارِ یکجہتی کریں‘‘۔
امتیاز اسلم نے مزید کہا کہ میرپور اور مظفرآباد ڈویژن کے عوام بھی احتجاجی مظاہرے کریں۔ ان کے مطابق علاقے میں انٹرنیٹ اور موبائل خدمات معطل ہونے کی وجہ سے رابطہ کاری میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ کی مشکلات کے باعث آئندہ چند روز تک مارچ پیدل جاری رکھا جائے گا اور امید ظاہر کی کہ تین سے چار دن میں قافلہ مظفرآباد پہنچ جائے گا۔
ایک اور عینی شاہد نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین سفید جھنڈے اٹھائے پُرامن انداز میں راولاکوٹ کے چاندنی چوک پہنچے تھے۔
انہوں نے کہا’’ہمارا آغاز ہی سے یہ مؤقف رہا ہے کہ ہماری پاکستان، پاکستانی فوج یا پاکستانی عوام سے کوئی جنگ نہیں ہے۔ ہم صرف اپنے حقوق کے لیے پُرامن احتجاج کر رہے ہیں، لیکن آج جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے‘‘۔
عینی شاہد نے بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ احتجاجیوں کی آواز عالمی سطح پر پہنچائیں۔ ان کے مطابق علاقے میں مکمل مواصلاتی بلیک آؤٹ نافذ ہے اور انٹرنیٹ و موبائل خدمات بند ہیں۔
دوسری جانب، ہلاکتوں اور فائرنگ سے متعلق یہ تمام دعوے عینی شاہدین اور احتجاجی قیادت کی جانب سے کیے گئے ہیں، جبکہ اس خبر کے فائل کیے جانے تک پاکستانی حکام کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا تھا۔










