سرینگر؍۲۸ جولائی
وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے منگل کو کہا کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی کی متنازع ویڈیو کو گزشتہ پانچ دنوں سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ قرار دینے والے افراد کو بھی اظہارِ افسوس کرنا چاہیے، کیونکہ خود محبوبہ مفتی نے اب واضح کر دیا ہے کہ وہ بیان انہی کا تھا۔
سرینگر میں ایک تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اظہارِ افسوس اور معافی مانگنے میں واضح فرق ہوتا ہے اور محبوبہ مفتی نے معافی نہیں مانگی بلکہ صرف افسوس کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اصل سوال ان لوگوں سے ہے جنہوں نے گزشتہ پانچ دنوں تک یہ دعویٰ کیا کہ متنازع ویڈیو مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کی گئی تھی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’ان لوگوں کا کیا ہوگا جنہوں نے پانچ دن تک جھوٹ پھیلا کر اس معاملے کو دبانے کی کوشش کی؟ آج خود محبوبہ جی نے یہ کہہ کر ان دعوؤں کی تردید کر دی ہے کہ ویڈیو اے آئی سے تیار نہیں کی گئی تھی‘‘۔
عمر عبداللہ نے پی ڈی پی کے ایک رکن اسمبلی کے مؤقف پر بھی سوال اٹھایا، جنہوں نے مسلسل اس ویڈیو کو اے آئی سے تیار کردہ قرار دیا تھا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’ان کی اپنی پارٹی کی صدر نے ہی اس دعوے کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ وہ پانچ دن تک کہتے رہے کہ ویڈیو اے آئی سے بنائی گئی ہے، لیکن آج محبوبہ جی نے خود کہا کہ ایسا نہیں تھا۔ ان لوگوں کو بھی اظہارِ افسوس کرنا چاہیے۔ اگر وہ معافی نہیں مانگتے تو کم از کم افسوس کا اظہار ضرور کریں‘‘۔
پی ڈی پی کی جانب سے مجوزہ احتجاج اور دفعہ۳۷۰ کی بحالی کے مطالبے سے متعلق سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت مناسب وقت پر اپنے آئندہ لائحۂ عمل کا اعلان کرے گی۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال کے لیے پی ڈی پی خود ذمہ دار ہے کیونکہ اسی جماعت نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ اتحاد قائم کیا تھا۔
عمر عبداللہ نے کہا’’ہم آج جس صورتحال میں ہیں، اس کے ذمہ دار وہ خود ہیں۔ اگر انہوں نے بی جے پی کو حکومت میں شامل نہ کیا ہوتا تو آج حالات مختلف ہوتے۔ اگر اب انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے اور وہ اس کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں تو یہ ایک اچھی بات ہے۔‘‘










