کوئی جا کے راہل بابا سے کہیں کہ آپ خود کو فضول تھکا رہے ہیں ‘ مار کھا رہے ہیں ‘اتنی مار کہ آپ کی ناک کٹتے کٹتے رہ گئی ‘ایسا نہ کریں کہ اس سب سے انہیں کچھ حاصل ہوگا نہیں ……. وہ تو بالکل بھی حاصل نہیں ہو گا جو یہ چاہتے ہیں ……. راہل بابا وفاقی وزیر تعلیم کا سر……. نہیں جناب آپ غلط مطلب نہ نکالیں‘کہنے کا مطلب ہے کہ راہل بابا وزیر تعلیم کا استعفیٰ چاہتے ہیں اور ایسا ہو گا نہیں …… کسی زمانے میں بھی نہیں ہو گا ……. اگر راہل بابا کااپنے جوتے کا دوسرا پاؤں بھی کھو دیں تب بھی وزیر تعلیم مستعفی نہیں ہوں گے ۔ اس لئے راہل بابا سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی یہ ساری کی ساری توانائی کہیں اور کسی اور اشو پر صرف کریں ‘ لیکن یہ توقع رکھنا کہ یہ جو کررہے ہیں ا س ڈر کر وفاقی وزیر تعلیم استعفیٰ دیں گے یا انہیں برطرف کیا جائے گا ‘ ایسا نہیں ہو گا ……. ایسا نہیں ہوتا ۔کم از کم ہمارے ملک میں نہیں ہو تا ہے اور اس لئے نہیں ہو تا ہے کہ یہاں ایسی کوئی روایت نہیں ہے ……. کسی خطا‘ کسی غلطی ‘ کسی لغزش پر وزراء استعفیٰ دیں ‘ ایسی کوئی مثال ہمارے سامنے نہیں ہے‘ بالکل بھی نہیں ہے ۔اور استعفیٰ …….وفاقی وزیر تعلیم استعفیٰ دیں بھی کیوں کہ اگر انہوں نے استعفیٰ دیا تو راہل بابا کی ناک کو کٹتے کٹتے رہ گئی لیکن ان کی ناک ضرور کٹ جائے گی …….ان کی عزت کا کچرا بن جائےگا ۔اس لئے ایسا نہیں ہو گا کہ ہم سر کٹا تو سکتے ہیں ‘ لیکن ناک نہیں ، بالکل بھی نہیں ۔اور یہ بھی سچ ہے کہ استعفیٰ دے کر یا استعفیٰ لے کر راہل بابا کو جیت کا احساس کیوں دلایا جائے ……. انہیں یہ سوچنے کا موقع کیوں دیں کہ راہل ہیں تو کچھ بھی ممکن ہے ……. جبکہ یہ نعرہ کسی اور کا ہے‘ کسی اور کیلئے ہے اور کسی اور کی ملکیت کا ہے ۔اس نعرے پر صرف انہی کا حق ہے ‘ کسی اور کانہیں ہو سکتا ہے ……. بالکل بھی نہیں ہو سکتا ہے ۔اچھا ہو گا ……. راہل بابا کیلئے اچھا ہو گا کہ وہ اپنی اس حد میںرہیں جو حد ان کیلئے مقرر کی گئی ہے ……. اس سے تجاوز کرنے کی حماقت بالکل بھی نہیں کریں کہ ……. کہ اگر انہوں نے دوبارہ ایسی حماقت کی تو ……. تو جوتا اترنے کے بعد کہیں ان کا کچھ اور بھی نہ اتر جائے یا اتارا جائے ۔ ہے نا؟



