کشمیر ایک بار پھر شدید بارشوں، سیلابی ریلوں اور تباہی کے مناظر سے دوچار ہے۔ ہر مرتبہ کی طرح اس بار بھی محکمۂ موسمیات نے بروقت انتباہ جاری کیا، اسکول بند کیے گئے، ضلعی انتظامیہ اور بچاؤ کے اداروں کو الرٹ کیا گیا، اور لوگوں سے احتیاط برتنے کی اپیل کی گئی۔ ان تمام اقدامات کے باوجود پانی گھروں، بازاروں، سڑکوں اور کھیتوں میں داخل ہو گیا۔ سوال یہ ہے کہ جب پیشگی اطلاع موجود تھی تو پھر نقصان کیوں نہ روکا جا سکا؟ اس کا جواب صرف موسمیاتی تبدیلی میں نہیں بلکہ ہمارے اپنے طرزِ عمل، ناقص منصوبہ بندی اور برسوں سے جاری تجاوزات میں پوشیدہ ہے۔
بارشوں کے دوران بڈگام کے بیروہ علاقے میں نالہ سکھ ناگ کے کنارے تعمیر کی گئی دکانوں کی پوری قطار سیلابی ریلے میں بہہ گئی اور ایک شخص جان کی بازی بھی ہار گیا۔ اس سانحے کے بعد ضلع انتظامیہ نے متاثرہ مقام کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ نالے کے عین کنارے پر دکانیں تعمیر کرنے کی اجازت کس نے دی؟ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ یہ دکانیں کسی نجی شخص نے نہیں بلکہ خود میونسپل ادارے نے تعمیر کی تھیں۔ یعنی جس ادارے کی ذمہ داری تجاوزات روکنا تھی، وہی تجاوزات کا مرتکب نکلا۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ہمارے انتظامی نظام کی ایک سنگین خامی کی علامت ہے۔
کشمیر کی تاریخ گواہ ہے کہ جہلم، دودھ گنگا، سکھ ناگ، رمبی آرا، ویشو، سندھ اور دیگر دریاؤں اور ندی نالوں نے صدیوں تک وادی کی زندگی کو سنبھالے رکھا۔ ان کے کناروں پر قدرتی سیلابی میدان(فلڈ چینل) موجود تھے، جہاں اضافی پانی پھیل کر اپنا دباؤ کم کر لیتا تھا۔ویٹ لینڈ‘ جھیلیں اور آبی ذخائر پانی کو جذب کر کے بتدریج واپس چھوڑتے تھے۔ اس قدرتی نظام نے شدید بارشوں کو بھی بڑے پیمانے کی تباہی میں تبدیل نہیں ہونے دیا۔ لیکن گزشتہ چند دہائیوں میں انسان نے اس پورے نظام کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔
آبادی میں اضافے، بے ہنگم شہری توسیع اور قوانین پر کمزور عمل درآمد نے دریاؤں اور ندی نالوں کے کناروں پر وسیع پیمانے پر تجاوزات کو جنم دیا۔ رہائشی کالونیاں، تجارتی کمپلیکس، سڑکیں، حفاظتی دیواریں اور دیگر تعمیرات وہاں کھڑی کر دی گئیں جہاں کبھی پانی کا قدرتی راستہ تھا۔ متعدد مقامات پر جہلم کے کناروں کو بھر کر اس کی چوڑائی کم کر دی گئی، ندی نالوں میں ملبہ پھینکا گیا، دلدلی علاقوں کو پلاٹوں میں تبدیل کر دیا گیا اور سیلابی چینل سکڑتے چلے گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جب بارش ہوتی ہے تو پانی کے پاس بہنے کے لیے مناسب راستہ باقی نہیں رہتا۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ جہلم کی گنجائش پہلے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہو چکی ہے۔ اس کی معاون ندیوں اور نالوں کی حالت بھی مختلف نہیں۔ بیشتر نالے یا تو تجاوزات کی نذر ہو چکے ہیں یا ان میں کچرا اور ملبہ جمع ہونے سے ان کا بہاؤ محدود ہو گیا ہے۔ جب یہ معاون نالے اپنا پانی بروقت جہلم میں نہیں پہنچا پاتے تو پانی آبادیوں میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب معمول کی نسبت زیادہ بارش بھی سیلابی کیفیت پیدا کر دیتی ہے۔
تشویشناک امر یہ ہے کہ اس تباہی میں صرف عام شہری ہی ذمہ دار نہیں بلکہ کئی سرکاری ادارے بھی برابر کے شریک ہیں۔ جہاں تجاوزات روکنے کی ذمہ داری انہی اداروں پر عائد ہوتی ہے، وہیں متعدد مقامات پر انہی کی سرپرستی میں ایسی تعمیرات کی گئی ہیں جو آبی گزرگاہوں کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔ بیروہ کا واقعہ اس کی ایک واضح مثال ہے۔ اگر سرکاری ادارے خود قوانین کی خلاف ورزی کریں گے تو عام لوگوں سے قانون کی پابندی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟
ایک اور بڑا مسئلہ غیر منصوبہ بند نکاسیٔ آب کا نظام ہے۔ وادی کے کئی شہروں اور قصبوں میں زیر زمین ڈرینیج اس انداز سے بچھائی گئی کہ اس نے قدرتی پانی کے راستوں کو متاثر کیا۔ بارش کا پانی نہ نالوں تک پہنچ پاتا ہے اور نہ ہی تیزی سے خارج ہو پاتا ہے۔ دوسری جانب فلڈ چینلوں اور نکاسیٔ آب کی صفائی و کھدائی محض رسمی کارروائی بن کر رہ گئی ہے۔ ہر سال کروڑوں روپے خرچ ہونے کے دعوے کیے جاتے ہیں، مگر پہلی ہی شدید بارش ان دعوؤں کی حقیقت سامنے لے آتی ہے۔
یہ بھی درست ہے کہ موسمیاتی تبدیلی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ شدید بارشوں کے واقعات بڑھ رہے ہیں، گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں اور موسم کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن یہ کہنا کہ تمام تر تباہی صرف موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہے، حقیقت سے نظریں چرانے کے مترادف ہوگا۔ بارش قدرت کا عمل ہے، مگر اسے تباہی میں تبدیل کرنا انسان کا اپنا کیا دھرا ہے۔ اگر دریا اپنی اصل چوڑائی میں بہہ رہے ہوتے، اگر دلدلی علاقے محفوظ ہوتے، اگر فلڈ چینل فعال ہوتے اور اگر ندی نالے تجاوزات سے پاک ہوتے تو نقصان یقیناً موجودہ صورتحال سے کہیں کم ہوتا۔
جموں و کشمیر ہائی کورٹ بھی متعدد مرتبہ آبی ذخائر، دریاؤں اور ندی نالوں سے تجاوزات ہٹانے کے احکامات جاری کر چکی ہے، مگر ان پر مکمل اور مستقل عمل درآمد آج بھی ایک خواب دکھائی دیتا ہے۔ وقتی مہمات ضرور چلائی جاتی ہیں، مگر جیسے ہی توجہ ہٹتی ہے، تجاوزات دوبارہ جنم لینے لگتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عدالتی احکامات کو مستقل پالیسی کے طور پر نافذ کیا جائے اور کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کو قانون سے بالاتر نہ سمجھا جائے۔
معاشرے کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ بہت سی تجاوزات کا آغاز انفرادی سطح سے ہوتا ہے۔ کوئی شخص اپنے گھر کی دیوار نالے کی طرف بڑھا دیتا ہے، کوئی ملبہ پانی کے راستے میں پھینک دیتا ہے اور کوئی دلدلی زمین پر مکان تعمیر کر لیتا ہے۔ بظاہر یہ چھوٹے اقدامات محسوس ہوتے ہیں، مگر جب ہزاروں لوگ یہی طرزِ عمل اختیار کرتے ہیں تو پورا قدرتی نظام ناکارہ ہو جاتا ہے۔ اس لیے عوام کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ وقتی ذاتی فائدہ اجتماعی نقصان کا سبب بنتا ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت ایک جامع آبی تحفظ پالیسی مرتب کرے۔ تمام دریاؤں، ندی نالوں، جھیلوں، دلدلی علاقوں اور فلڈ چینلوں کا جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ازسرنو سروے کیا جائے، ان کی اصل حدود کو سرکاری ریکارڈ میں محفوظ کیا جائے اور ہر قسم کی نئی تعمیرات پر سخت پابندی عائد کی جائے۔ مصنوعی ذہانت، سیٹلائٹ تصاویر، ڈرون سرویلنس اور جغرافیائی معلوماتی نظام کے ذریعے تجاوزات کی مسلسل نگرانی کی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی اور متاثرہ خاندانوں کی منصفانہ بازآبادکاری بھی ضروری ہے تاکہ قانون پر عمل درآمد انسانی ہمدردی کے تقاضوں کے ساتھ ہو۔
قدرتی آفات کو مکمل طور پر روکنا انسان کے اختیار میں نہیں، لیکن ان سے ہونے والے نقصان کو ضرور کم کیا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم اس کے برعکس اپنے ہی ہاتھوں اپنے لیے تباہی کا سامان پیدا کر رہے ہیں۔ اگر ہم نے آج بھی اپنی روش نہ بدلی، تجاوزات ختم نہ کیں، آبی گزرگاہوں کو ان کی اصل حالت میں بحال نہ کیا اور سائنسی بنیادوں پر منصوبہ بندی نہ کی تو ہر نئی بارش کے ساتھ تباہی کا دائرہ مزید وسیع ہوتا جائے گا۔
کشمیر کی بقا کا تقاضا یہی ہے کہ ہم ترقی اور ماحولیات کے درمیان توازن قائم کریں۔ دریاؤں کو ان کا راستہ واپس دیں، دلدلی علاقوں کو بحال کریں، فلڈ چینلوں کو فعال بنائیں اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو وادی کو بار بار آنے والی تباہ کن سیلابی صورتحال سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ ورنہ ہر موسمی انتباہ کے ساتھ ایک نیا سانحہ ہمارا منتظر ہوگا، اور اس کی ذمہ داری صرف قدرت پر نہیں بلکہ ہم سب پر عائد ہوگی





