ہفتہ, جولائی 18, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

عمر عبداللہ حکومت:

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-06-02
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

کیا عوامی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام ہو رہی ہے؟

جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی حکومت قائم ہوئے ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، لیکن اس دوران حکومتی کارکردگی، انتظامی صلاحیت اور عوامی مسائل کے حل کے حوالے سے سوالات کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایسے وقت میں جب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے۳  جون کو اپنی جماعت کے تمام اراکین اسمبلی اور حکومت کی حمایت کرنے والے آزاد ممبران کا ایک اہم اجلاس طلب کیا ہے، سیاسی حلقوں میں مختلف نوعیت کی قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں۔ اپوزیشن اسے حکومت کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی کا مظہر قرار دے رہی ہے جبکہ حکمران جماعت اسے محض حکمرانی اور عوامی مسائل کا جائزہ لینے کے لیے بلایا گیا اجلاس قرار دے رہی ہے۔

متعلقہ

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

حقیقت کیا ہے، اس کا فیصلہ تو آنے والے دنوں میں ہوگا، لیکن اس سے انکار ممکن نہیں کہ موجودہ صورتحال میں عوام کے ذہنوں میں حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے سنجیدہ سوالات پیدا ہو چکے ہیں۔ اگر حکومت کے اندر سب کچھ معمول کے مطابق ہے تو پھر آخر ایسی کیا ضرورت پیش آئی کہ ایک ماہ کے اندر اندر پارٹی قیادت کو دوبارہ تمام اراکین اسمبلی کو طلب کرنا پڑا؟ اگرچہ نیشنل کانفرنس کے رہنما اس اجلاس کو معمول کی مشاورت قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن سیاسی مبصرین اسے عام اجلاس تصور کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما کا دعویٰ ہے کہ نیشنل کانفرنس کی حکومت اندرونی طور پر کمزور ہو رہی ہے اور بعض اراکین اسمبلی اپنی ہی جماعت سے مطمئن نہیں ہیں۔ ممکن ہے یہ دعویٰ سیاسی مقاصد کے تحت کیا جا رہا ہو، لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ایسی قیاس آرائیوں کو جنم دینے والی وجوہات کیا ہیں؟ کسی بھی مستحکم اور فعال حکومت کے بارے میں اس نوعیت کی باتیں اس شدت سے اس وقت سامنے نہیں آتیں جب عوام حکومتی کارکردگی سے مطمئن ہوں۔

عمر عبداللہ نے سنیل شرما کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن کو اجلاس کے مقاصد کا علم نہیں اور وہ محض قیاس آرائیاں کر رہی ہے۔ بلاشبہ اپوزیشن کا کام حکومت پر تنقید کرنا ہے اور اس کے بعض دعووں میں سیاسی رنگ بھی شامل ہو سکتا ہے، لیکن حکومت صرف اس بنیاد پر اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی کہ تنقید اپوزیشن کی جانب سے آ رہی ہے۔ اصل سوال حکومت کی کارکردگی کا ہے اور اس حوالے سے عوامی سطح پر پائی جانے والی بے چینی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

جموں و کشمیر کے عوام نے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں بڑی توقعات کے ساتھ ایک منتخب حکومت کو اقتدار سونپا تھا۔ لوگوں کو امید تھی کہ ایک منتخب حکومت آنے کے بعد انتظامی مشینری زیادہ متحرک ہوگی، ترقیاتی منصوبوں میں تیزی آئے گی، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور عام آدمی کو درپیش مسائل کے حل کی جانب سنجیدہ پیش رفت ہوگی۔ لیکن آج ڈیڑھ سال بعد اگر عوام سے رائے لی جائے تو بڑی تعداد یہی کہتی نظر آتی ہے کہ ان کی روزمرہ زندگی میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی ہے۔

روزگار کا بحران بدستور موجود ہے۔ ہزاروں نوجوان سرکاری ملازمتوں کے منتظر ہیں۔ مختلف محکموں میں خالی اسامیاں برسوں سے پُر نہیں ہو سکیں۔ ترقیاتی منصوبوں کی رفتار سست ہے۔ دیہی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی صورتحال کئی مقامات پر اب بھی تشویشناک ہے جبکہ شہری علاقوں میں بھی عوام کو پانی، بجلی، ٹریفک اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر حکومت واقعی مؤثر انداز میں کام کر رہی ہے تو پھر عوامی سطح پر مایوسی کیوں بڑھ رہی ہے؟

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نیشنل کانفرنس کی حکومت مسلسل ریاستی درجہ کی بحالی کے مسئلے کو اپنی مشکلات کی ایک بڑی وجہ قرار دیتی رہی ہے۔

حکمرانی صرف اختیارات کا نام نہیں بلکہ ترجیحات، نگرانی اور انتظامی صلاحیت کا بھی نام ہے۔ عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران حکومت نے کون سے بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کیے؟ کون سی ایسی عوامی فلاحی اسکیم متعارف کرائی گئی جس نے لوگوں کی زندگیوں پر نمایاں اثر ڈالا؟ کون سے ایسے اقدامات کیے گئے جن سے نوجوانوں میں امید پیدا ہوئی؟ اگر ان سوالات کے جوابات واضح طور پر سامنے نہیں آ رہے تو حکومت کو اپنی کارکردگی کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا۔

۳ جون کو ہونے والا اجلاس اسی تناظر میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اجلاس میں وزراء اور اراکین اسمبلی کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا اور احتساب کے عمل کو مضبوط بنانے پر غور ہوگا۔ اگر واقعی ایسا ہوتا ہے تو یہ ایک مثبت قدم ہوگا، کیونکہ کسی بھی جمہوری نظام میں احتساب اور جوابدہی حکمرانی کے بنیادی ستون ہوتے ہیں۔ تاہم صرف اجلاس منعقد کر لینا کافی نہیں ہوگا۔ اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ اجلاس کے بعد کیا عملی اقدامات کیے جاتے ہیں۔

یہ امر بھی قابل غور ہے کہ متعدد اراکین اسمبلی خود اپنے حلقوں میں عوامی دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔ انہیں ترقیاتی کاموں، سرکاری محکموں کی کارکردگی اور عوامی شکایات کے حوالے سے سوالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگر منتخب نمائندے خود کو بے اختیار محسوس کریں یا ان کی باتوں پر انتظامیہ توجہ نہ دے تو اس کا اثر براہ راست حکومت کی مجموعی ساکھ پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض حلقوں میں پارٹی کے اندر بے چینی کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔

نیشنل کانفرنس کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اسے صرف اپوزیشن کے الزامات کا جواب نہیں دینا بلکہ عوامی اعتماد کو بھی برقرار رکھنا ہے۔ سیاسی بیانات، سوشل میڈیا پوسٹس اور جوابی حملے وقتی طور پر خبروں کی زینت تو بن سکتے ہیں، لیکن عوام آخرکار اپنے تجربات کی بنیاد پر حکومتوں کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اگر لوگوں کو روزگار، ترقی اور بہتر حکمرانی نظر آئے گی تو حکومت مضبوط ہوگی، لیکن اگر مسائل جوں کے توں رہے تو اپوزیشن کو تنقید کے لیے کسی اضافی مواد کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

جموں و کشمیر کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں کے سیاسی اور سیکورٹی چیلنجز کے بعد اب استحکام، ترقی اور خوشحالی کے خواہاں ہیں۔ وہ سیاسی کشمکش سے زیادہ عملی نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ حکومت کے لیے یہی سب سے بڑا امتحان ہے۔ عمر عبداللہ ایک تجربہ کار سیاست دان ہیں اور انہیں بخوبی اندازہ ہوگا کہ سیاسی استحکام کا اصل انحصار اسمبلی کے نمبروں پر نہیں بلکہ عوامی اعتماد پر ہوتا ہے۔

اس لیے۳جون کا اجلاس صرف ایک سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ نیشنل کانفرنس حکومت کے لیے ایک امتحان بھی ہے۔ اگر اس اجلاس کے نتیجے میں حکمرانی بہتر بنانے، ترقیاتی منصوبوں کو تیز کرنے، انتظامی خامیوں کو دور کرنے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ٹھوس فیصلے سامنے آتے ہیں تو یہ حکومت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ اجلاس بھی محض رسمی مشاورت تک محدود رہا تو عوامی بے چینی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

جموں و کشمیر کو اس وقت سیاسی بیانات سے زیادہ مؤثر حکمرانی کی ضرورت ہے۔ یہی وہ معیار ہے جس پر آنے والے دنوں میں عمر عبداللہ حکومت کو پرکھا جائے گا اور یہی وہ کسوٹی ہے جو طے کرے گی کہ موجودہ حکومت عوامی توقعات پر پورا اترنے میں کامیاب ہوئی یا نہیں۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

سنہا کا منشیات مخالف مہم کو جذباتی اور عوامی رنگ

Next Post

دُکھتی رگ پر ہاتھ

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

2026-07-16
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

2026-07-15
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

ریاستی درجے کی بحالی:

2026-07-12
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پائیدار سیاحت :

2026-07-11
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

تعلیمی اداروں میں قابلِ اعتراض لٹریچر

2026-07-09
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر آخر سبز کیوں نہیں؟

2026-07-08
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

جَل جیون مشن:

2026-07-07
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

وادی میں نجی طبی مراکز: نگرانی کہاں ہے؟

2026-07-05
Next Post
سازش۔۔۔۔۔۔۔؟

دُکھتی رگ پر ہاتھ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.