ہمیں لگتا ہے اور سو فیصد لگتا ہے کہ اپنے شرما جی …….سنیل شرما جی گورے گورے بانکے چھورے‘وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ کی کسی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنے کا ہنر رکھتے ہیں ……. زبردست ہنر کہ یہ جناب جب بھی عمرعبداللہ ‘ ان کی جماعت نیشنل کانفرنس اور ان کی حکومت کے بارے میں کچھ بھی بولتے ہیں ‘ اپنا منہ کھولتے ہیں تو وزیر اعلیٰ صاحب تلملا اٹھتے ہیں …….وہ غصے میں آتے ہیں ‘وہ غصے سے آگ بگولہ ہو تے ہیں‘ ان کے تن بدن میں آگ لگتی ہے اور …….اور پھر وہ اپنے منہ سے آگ اگلتے بھی ہیں ۔ جس انداز میں وزیر اعلیٰ صاحب پھر آگ اگل رہے ہیں تو اس سے اگر کوئی بات ثابت ہو تی ہے تو یہ ایک بات ثابت ہو تی کہ ……. کہ شرماجی سچ میں ان کی کسی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ رہے ہیں یا رکھنے میں کامیاب ہو رہے ہیں اور بار بار ہو رہے ہیں ۔شرما جی کاکہنا ہے کہ عمرعبداللہ کی حکومت کی نیا ڈوب رہی ہے‘ یہ ڈوبنے والی ہے اور ۳ جون کو گورے گورے بانکے چھورے وزیر اعلیٰ نے اپنے ممبران اسمبلی کی جو میٹنگ رکھی ہے وہ اسی ڈوبتی ہوئی نیا کو بچانے کی کوشش میں رکھی ہے ۔ اب صاحب کیا واقعی ایسا ہے ‘یہ تو ہم نہیں جانتے اور ……. اور بالکل بھی نہیں جانتے ہیں لیکن جس انداز میں عمرعبداللہ اور ان کے ساتھی شرما جی کی باتوں پر ردعمل ظاہر کررہےہیں اس سے تو صاحب یہ اندازہ ہو ہی جاتا ہے کہ صاحب این سی حکومت میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے اور بالکل بھی نہیں ہے ۔اور یہ بات شرماجی جانتے ہیںاور ہم بھی مانتے ہیں کہ عمرعبداللہ کی حکومت میں واقعی کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے اور اس لئے نہیں ہے کہ …….کہ اس حکومت میں کچھ ٹھیک ہو بھی نہیں سکتا ہے اور اس لئے نہیں ہو سکتا ہے کہ ……. کہ اگر عمرحکومت میں سب کچھ ٹھیک ہو گا تو صاحب یہ تو ان لوگوں کی ناکامی ہے اور سو فیصد ہے جو چاہتے ہیں ‘ جن کی کوشش ہے …….اوریہ کوشش ۲۴x۷ ہے کہ اس حکومت میں کچھ بھی ٹھیک نہ ہو اور اپنے گورے گورے بانکے چھورے خود بھی اس بات میں کثر نہیں چھوڑ رہے ہیں کہ ایسے لوگوں کی کوششیں کامیاب ہو ں اور …….اور لگتا ہے کہ ایسی کوششیں کامیاب ہو رہی ہیں کہ اگر ایسا نہیں ہو تا تو اپنے شرما جی وہ سب نہیں کہتے جو وہ کہہ رہے ہیں ……. وہ ایک بار پھر عمرعبداللہ کی کسی دکھتی رگ پر ہاتھ نہیں رکھ پاتے ‘ بالکل بھی نہیں رکھ پاتے ۔ ہے نا؟



