’میں آپ کے خاندان کا ایک فرد بن کر آپ کے سامنے کھڑا ہوں‘منشات سے پاک جموں کشمیر میرا بھی خواب ہے ‘
۱۱؍اپریل سے شروع نشہ مکت جموںکشمیر میں اب تک ایک ہزار منشیات کے سمگلروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے : ایل جی سنہا
ایجنسیز
کولگام؍ یکم جون
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کو ’’نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان‘‘ کو ایک جذباتی اور عوامی جہت دیتے ہوئے خود کو ’’آپ کے خاندان کا ایک فرد‘‘ قرار دیا اور منشیات کے استعمال اور منشیات فروشی کے خلاف جاری جدوجہد میں انتظامیہ کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے لارو بس اسٹینڈ پر ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ۵۱روز قبل شروع کی گئی منشیات مخالف مہم اب جموں و کشمیر میں ایک عوامی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس میں خاندانوں، نوجوانوں، تعلیمی اداروں، مذہبی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کی فعال شرکت دیکھنے کو مل رہی ہے۔
سنہا نے کہا، ’’میں آپ کے خاندان کے ایک فرد کی حیثیت سے آپ کے سامنے کھڑا ہوں تاکہ ایک محفوظ، پُرامن اور نشہ سے پاک جموں و کشمیر کے آپ کے خواب اور جدوجہد میں آپ کا ساتھ دے سکوں۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ مہم اب صرف سرکاری محکموں یا قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ معاشرے کے ہر طبقے کی شمولیت کے ساتھ ایک اجتماعی سماجی مشن بن چکی ہے۔انہوں نے کہا، ’’جموں و کشمیر کے عوام کے تعاون سے ایک ایسی تحریک نے جنم لیا ہے جس نے ہر گلی، ہر گھر اور ہر دل کو ایک مشترکہ مقصد کے تحت متحد کر دیا ہے، اور وہ مقصد ہمارے دیہات اور شہروں کو منشیات سے پاک بنانا ہے۔‘‘
مہم کے آغاز کا حوالہ دیتے ہوئے سنہا نے کہا کہ جو کام ایک ’’چھوٹی سی چنگاری‘‘ کے طور پر شروع ہوا تھا، وہ اب ایک ایسی سماجی تحریک میں تبدیل ہو چکا ہے جو عوامی اتحاد برقرار رہنے کی صورت میں جموں و کشمیر کا مستقبل بدل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’آج میں پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ امید، حوصلے اور عزم کی ایک نئی چنگاری پورے جموں و کشمیر میں روشن ہو چکی ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر نے کئی دہائیوں تک دہشت گردی اور تشدد کا سامنا کیا ہے، جبکہ منشیات کی لعنت نوجوان نسل کے لیے ایک اور سنگین خطرے کے طور پر ابھری ہے۔انہوں نے کہا، ’’جموں و کشمیر برسوں تک دہشت گردی کے ناقابلِ تصور حملوں کا شکار رہا ہے۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ کس طرح منشیات آہستہ آہستہ ہمارے نوجوانوں کو اپنی گرفت میں لے کر معاشرے کو کمزور کر رہی تھیں۔‘‘
سنہا نے یاد دلایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے۲۰۲۰میں ’’نشہ مکت بھارت ابھیان‘‘ کا آغاز کیا تھا، جس کے بعد۲۰۲۱سے جموں و کشمیر میں نوجوانوں کو دہشت گردی اور منشیات کے دوہرے خطرے سے بچانے کے لیے کوششیں تیز کر دی گئیں۔انہوں نے کہا، ’’ہم نے دہشت گردی اور منشیات کے ان سائے کو ختم کرنے کی کوشش کی جو ہمارے نوجوانوں کو تقسیم کر رہے تھے۔ آج وہ زنجیریں ایک ایک کرکے ٹوٹ رہی ہیں جنہوں نے نوجوانوں کو نشے کی تاریکی میں قید کر رکھا تھا۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ گزشتہ۵۰ دنوں کے دوران جموں و کشمیر پولیس، سیکورٹی ایجنسیوں اور سول انتظامیہ نے ’’پورے حکومت اور پورے معاشرے‘‘ کے نقطۂ نظر کے تحت منشیات مخالف کارروائیوں کو تیز کیا۔انہوں نے کہا، ’’عوام کے تعاون سے ہم متعدد منشیات نیٹ ورکس کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ منشیات کے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی جاری ہے۔‘‘
سنہا نے کہا کہ انہوں نے اس مہم کے دوران نوجوانوں میں اعتماد اور حوصلے کا بڑھتا ہوا رجحان دیکھا ہے اور اب بہت سے نوجوان کھل کر منشیات کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’گزشتہ۵۱ دنوں میں میں نے نوجوانوں کی آنکھوں میں اعتماد دیکھا ہے۔ معاشرہ اس لعنت کے خلاف کھڑا ہو چکا ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے ضلعی انتظامیہ، تعلیمی اداروں، خواتین گروپوں، یوتھ کلبوں، سماجی تنظیموں، مذہبی رہنماؤں اور عوامی نمائندوں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ سب زمینی سطح پر منشیات کے خلاف بیداری پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’متعدد خاندان، اسکول، سماجی و مذہبی رہنما اور عوامی نمائندے منشیات کے خلاف متحد ہو چکے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کی تشکیل کردہ کمیٹیاں، خصوصاً خواتین کی کمیٹیاں اور یوتھ کلب، اس تحریک کو مضبوط بنانے میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔‘‘
منشیات کے مسئلے کے انسانی پہلو پر زور دیتے ہوئے سنہا نے کہا کہ منشیات کے عادی نوجوانوں کو مجرم نہیں بلکہ متاثرین سمجھا جانا چاہیے جنہیں عزت، ہمدردی اور بحالی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا، ’’منشیات کے عادی نوجوانوں کو باوقار زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ انہیں مجرم نہیں سمجھنا چاہیے۔ وہ درحقیقت اس لعنت کے شکار ہیں اور ان کے ساتھ عزت، شفقت اور دیکھ بھال کا رویہ اختیار کیا جانا چاہیے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے اعلان کیا کہ جموں و کشمیر میں بحالی مراکز کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دی جائے گی اور ہر ضلع میں جدید نشہ چھڑانے اور بحالی کے مراکز جلد از جلد قائم کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا، ’’بحالی مراکز کی تعداد اور صلاحیت میں اضافہ کیا جانا چاہیے اور ہر ضلع میں بہترین سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔‘‘
سنہا نے بتایا کہ انتظامیہ نے ملک بھر کے ماہرین سے مشاورت کے بعد ایک بحالی پالیسی بھی مرتب کی ہے تاکہ منشیات کے عادی افراد کو مناسب علاج، جذباتی مدد اور معاشرے میں دوبارہ شمولیت کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔انہوں نے کہا، ’’نشے سے متاثر افراد کی زندگی بچانے کے لیے جذباتی اور مادی دونوں طرح کی مدد ضروری ہے اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔‘‘
مہم کی اب تک کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ گزشتہ۵۰ دنوں کے دوران جموں و کشمیر میں منشیات مخالف کارروائیوں کے تحت۹۲۳ایف آئی آر درج کی گئیں جبکہ ایک ہزار سے زائد منشیات فروش گرفتار کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ۵۶سے زیادہ بڑے منشیات فروشوں کو احتیاطی اقدامات کے تحت حراست میں لیا گیا جبکہ کئی دیگر افراد کے خلاف بھی انتظامی کارروائی کی گئی۔
لیفٹیننٹ گورنر کے مطابق منشیات سے متعلق جرائم میں ملوث افراد کے۶۰۰سے زائد ڈرائیونگ لائسنس معطل کیے جا چکے ہیں جبکہ۱۲۴پاسپورٹ منسوخی کے معاملات بھی کارروائی کے لیے بھیجے گئے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’پولیس مسلسل منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔ یہ ایک مشکل اور طویل عمل ہے۔‘‘
سنہا نے تسلیم کیا کہ مختصر مدت میں جموں و کشمیر کو مکمل طور پر منشیات سے پاک بنانا ممکن نہیں، تاہم۱۰۰روزہ مہم کا مقصد عوامی بیداری پیدا کرنا اور معاشرے کی اجتماعی قوت کو منظم کرنا ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہم جانتے ہیں کہ صرف۱۰۰ دنوں میں جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک نہیں بنایا جا سکتا، لیکن یہ مہم اس لیے شروع کی گئی تاکہ بیداری پیدا ہو اور عوام، پولیس اور انتظامیہ مل کر اس لعنت کے خلاف متحد ہو جائیں۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے واضح کیا کہ جب تک جموں و کشمیر میں منشیات کے کاروبار میں ملوث ایک بھی گروہ موجود ہے، یہ مہم پوری شدت کے ساتھ جاری رہے گی۔انہوں نے کہا، ’’جب تک منشیات کے










