سرینگر ہوائی اڈے پر رن وے کی پابندیوں کے باعث حج عازمین کے سامان پر عائد پابندیاں ناگزیر:مرکز
ویب ڈیسک
سرینگر؍ یکم جون
جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مرکزی وزیر برائے شہری ہوا بازی رام موہن نائیڈو کو خط لکھ کر حج سے واپس آنے والے عازمین کے چیک اِن شدہ سامان کی بروقت اور محفوظ ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اپنے خط میں کہا کہ سری نگر ہوائی اڈے پر جاری مرمتی کاموں اور دیگر عملی مشکلات کے باعث واپس آنے والے حاجیوں کو شدید دشواریوں کا سامنا ہے کیونکہ ان کا سامان ان کے ساتھ ایک ہی پرواز میں نہیں لایا جا رہا۔
عمر عبداللہ نے نشاندہی کی کہ متعدد عازمینِ حج، خصوصاً معمر حاجیوں نے اس انتظام پر مایوسی کا اظہار کیا ہے جس کے تحت ان کا چیک اِن شدہ سامان سعودی عرب سے واپسی کی پروازوں کے ساتھ نہیں پہنچ رہا۔ اس کے بجائے سامان کو الگ راستے سے بھیجا جا رہا ہے اور بعد میں احمد آباد سے سڑک کے ذریعے جموں و کشمیر منتقل کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے سامان کی حوالگی میں تاخیر ہو رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس تاخیر کے باعث حاجیوں اور ان کے اہل خانہ کو خاصی پریشانی کا سامنا ہے، کیونکہ اس سے زم زم کا پانی، کھجوریں اور دیگر مذہبی تبرکات کی تقسیم متاثر ہو رہی ہے، جنہیں عموماً حج سے واپسی کے فوراً بعد رشتہ داروں، پڑوسیوں اور احباب میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
عمرعبداللہ نے زور دے کر کہا کہ یہ مسئلہ محض انتظامی یا لاجسٹک نوعیت کا نہیں بلکہ اس کا براہِ راست تعلق حج سے وابستہ مذہبی اور سماجی روایات سے ہے۔
وزیر اعلیٰ نے مرکزی وزارتِ شہری ہوا بازی سے فوری مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ایسے انتظامات کیے جائیں تاکہ عازمین کا سامان محفوظ طریقے سے اور انہی پروازوں کے ساتھ جموں و کشمیر پہنچ سکے جن کے ذریعے حاجی واپس آ رہے ہیں۔
عمر عبداللہ نے اپنے خط میں لکھا، ’’ان کے سامان کی بروقت اور محفوظ ترسیل نہ صرف حاجیوں اور ان کے اہل خانہ کو درپیش حقیقی مشکلات کو کم کرے گی بلکہ ان اشیاء کے تقدس اور جذباتی اہمیت کو بھی برقرار رکھے گی جو مذہبی اعتبار سے خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ اس معاملے پر جلد اور مثبت غور کیا جائے گا تاکہ وطن واپسی پر حج عازمین کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
دریں اثنا مرکزی وزارتِ اقلیتی امور (ایم او ایم اے) نے پیر کو سرینگر واپس آنے والے حج عازمین کے سامان پر عائد پابندیوں کے حوالے سے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات سرینگر ہوائی اڈے پر جاری رن وے کی مرمت اور دیگر عملی مجبوریوں کے باعث ناگزیر ہو گئے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں وزارت نے کہا کہ سرینگر ہوائی اڈے کے لیے جاری کردہ نوٹم اور رن وے کی جاری مرمتی سرگرمیوں کے نتیجے میں رن وے کی دستیاب لمبائی عارضی طور پر محدود ہو گئی ہے، جس کے باعث پروازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے طیاروں کے وزن (پے لوڈ) پر پابندیاں عائد کرنا ضروری ہو گیا۔
وزارت کے مطابق حج پروازوں کے شیڈول میں خلل سے بچنے اور عازمین کو کم سے کم پریشانی سے دوچار کرنے کے لیے سرینگر ایمبارکیشن پوائنٹ سے وابستہ اکاسا ایئر کی واپسی حج پروازوں کو احمد آباد کے راستے چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس انتظام کے تحت حج عازمین احمد آباد تک۳۵ کلوگرام چیک اِن سامان ساتھ لے جا سکیں گے۔ تاہم احمد آباد سے سرینگر کے مرحلے میں ہر عازم کو صرف۵کلوگرام چیک اِن سامان طیارے میں لے جانے کی اجازت ہوگی، جبکہ باقی۳۰ کلوگرام سامان الگ سے سڑک کے ذریعے سرینگر منتقل کیا جائے گا۔ ہاتھ کے سامان (کیبن بیگیج) کی مقررہ حد میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔
وزارت نے واضح کیا کہ ’’یہ انتظامات صرف ہوائی اڈے کی عملی مجبوریوں اور فضائی تحفظ کے تقاضوں کے پیش نظر کیے گئے ہیں۔‘‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ وزارتِ اقلیتی امور، حج کمیٹی آف انڈیا اور جموں و کشمیر حج کمیٹی تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ حج عازمین کی واپسی کو محفوظ، منظم اور سہل بنایا جا سکے۔
یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ چند روز کے دوران جموں و کشمیر کے متعدد حج عازمین نے سامان کی مقررہ حد میں کمی اور احمد آباد سے سرینگر تک سامان کی علیحدہ ترسیل پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
اس سے قبل جموں و کشمیر حج کمیٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر شجاعت احمد قریشی نے بھی کہا تھا کہ سامان سے متعلق پابندیاں سرینگر ہوائی اڈے پر جاری رن وے کی مرمت اور اپریل سے اکتوبر تک نافذ نوٹم کے باعث عائد کی گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ عام حالات میں ہر حج عازم کو۴۰ کلوگرام چیک اِن سامان اور۷ کلوگرام دستی سامان لے جانے کی اجازت ہوتی ہے، تاہم اس سال آپریشنل مجبوریوں کے باعث ایئر لائنز کو سرینگر آنے والی پروازوں میں وزن کی گنجائش کم کرنا پڑی۔
ڈاکٹر قریشی نے یقین دلایا کہ باقی سامان چند روز کے اندر محفوظ طریقے سے کشمیر پہنچا دیا جائے گا، جبکہ آبِ زم زم پہلے ہی سرینگر پہنچ چکا ہے اور اسے ہوائی اڈے پر عازمین میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔










