’ہاؤس لسٹنگ آپریشنز کا آغاز‘عوام مردم شماروں سے تعاون کرے‘
ایجنسیز
جموں؍ یکم جون
جموں و کشمیر نے مردم شماری۲۰۲۷کے تحت خود اندراج (سیلف اینومریشن) کے مرحلے میں ملک کے تمام مرکزی زیر انتظام علاقوں میں پہلی اور ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ملا کر مجموعی طور پر آٹھویں پوزیشن حاصل کی ہے۔
اب تک۶ء۶۷لاکھ سے زائد گھرانوں نے سرکاری سیلف اینومریشن پورٹل کے ذریعے رضاکارانہ طور پر اپنی مردم شماری کی تفصیلات جمع کرائی ہیں۔
یہ بات چیف پرنسپل مردم شماری افسر اور ڈائریکٹر مردم شماری آپریشنز جموں و کشمیر و لداخ، امیت شرما (آئی اے ایس) نے آج یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔
سیلف اینومریشن مرحلے کی کامیاب تکمیل اور یکم جون سے ہاؤس لسٹنگ آپریشنز(ایچ ایل او) کے آغاز کے بعد امیت شرما نے جموں و کشمیر اور لداخ کے تمام باشندوں سے اپیل کی کہ وہ ماہ بھر جاری رہنے والی مردم شماری مہم کے دوران ان کے گھروں کا دورہ کرنے والے مردم شماروں اور سپروائزروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔
شرما نے سیلف اینومریشن مرحلے کے ردعمل کو انتہائی حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہاؤس لسٹنگ آپریشنز کے آغاز سے قبل جموں و کشمیر میں۶لاکھ۶۷ہزار۵۱۷ اور لداخ میں۷۰۰۹گھرانوں نے سرکاری پورٹل کے ذریعے خود اندراج مکمل کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جموں و کشمیر کے تمام اضلاع میں عوام نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا، جبکہ پلوامہ، جموں اور کولگام اضلاع میں خاص طور پر حوصلہ افزا شرکت دیکھنے میں آئی۔
چیف پرنسپل مردم شماری افسر نے لداخ کے لیہہ اور کرگل اضلاع کے شہریوں کی شرکت کو بھی سراہا اور سیلف اینومریشن مرحلے کی کامیاب تکمیل میں ضلعی انتظامیہ، پرنسپل مردم شماری افسران، فیلڈ عملے، میڈیا اداروں اور عوام کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔
مردم شماری۲۰۲۷ کی تیاریوں کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے امیت شرما نے کہا کہ دونوں مرکزی زیر انتظام علاقوں میں ہاؤس لسٹنگ بلاکس کی حد بندی اور جیو ٹیگنگ کا کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ جموں و کشمیر میں۲۳ہزار۶۰۰ سے زائد اور لداخ میں۵۶۷ہاؤس لسٹنگ بلاکس کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔
شرما نے بتایا کہ ماسٹر ٹرینرز، فیلڈ ٹرینرز، مردم شماروں اور سپروائزروں کے لیے جامع تربیتی پروگرام بھی مکمل کیے جا چکے ہیں تاکہ تمام اضلاع اور دور دراز علاقوں میں مردم شماری کے عمل کو یکساں اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیا جا سکے۔انہوں نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر میں۲۷ ہزار سے زائد مردم شماری کٹس روانہ کی جا چکی ہیں جبکہ لداخ میں تقریباً۸۰۰ کٹس تقسیم کی گئی ہیں، تاکہ فیلڈ عملہ ہاؤس لسٹنگ آپریشنز کے آغاز کے لیے مکمل طور پر تیار ہو۔
عوام سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے امیت شرما نے کہا کہ ہاؤس لسٹنگ آپریشنز مردم شماری۲۰۲۷کا ایک اہم مرحلہ ہے، جس کے تحت رہائشی حالات اور مکانات سے متعلق معلومات جمع کی جائیں گی۔ انہوں نے درست معلومات فراہم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مؤثر منصوبہ بندی اور عوامی فلاح و بہبود کی اسکیموں کی تیاری میں مدد ملے گی۔
شرما نے یقین دلایا کہ مردم شماری کے دوران جمع کی جانے والی تمام معلومات مردم شماری ایکٹ۱۹۴۸کے تحت مکمل طور پر خفیہ رکھی جاتی ہیں اور صرف شماریاتی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی فرد کی ذاتی معلومات قانون کے تحت محفوظ ہوتی ہیں اور انہیں کسی ادارے یا ایجنسی کے ساتھ شیئر نہیں کیا جا سکتا۔
چیف پرنسپل مردم شماری افسر نے مزید بتایا کہ دور دراز علاقوں، سرحدی بستیوں، قبائلی، خانہ بدوش اور موسمی نقل مکانی کرنے والی آبادیوں کی مکمل شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کوئی بھی گھرانہ یا فرد مردم شماری کے عمل سے محروم نہ رہ جائے۔
اس موقع پر اپنے افتتاحی خطاب میں ڈائریکٹر پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) جموں، نہا جلالی نے کہا کہ مردم شماری۲۰۲۷بھارت کی پہلی مکمل ڈیجیٹل مردم شماری ہوگی، جس میں موبائل پر مبنی ڈیٹا اکٹھا کرنے کے نظام اور ذات پات کی مردم شماری کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے مضبوط ادارہ جاتی تیاریوں اور جدید ڈیٹا انفراسٹرکچر کا انتظام کیا گیا ہے۔
چیف پرنسپل مردم شماری افسر نے مزید کہا کہ ہاؤس لسٹنگ اور ہاؤسنگ آپریشنز کے دوران عمارتوں، گھرانوں، رہائشی حالات، خاندانی ساخت اور رہائش کے انتظامات سے متعلق معلومات جمع کی جائیں گی تاکہ پالیسی سازی اور ترقیاتی منصوبہ بندی میں مدد مل سکے۔
نہا جلالی نے مردم شماری کے کامیاب انعقاد کے لیے عوامی بیداری اور میڈیا کے کردار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں مرکزی زیر انتظام علاقوں میں جاری آگاہی مہمات قابلِ ستائش ہیں۔ انہوں نے میڈیا اداروں سے اپیل کی کہ وہ مردم شماری۲۰۲۷سے متعلق مستند معلومات کی فراہمی میں اپنا تعاون جاری رکھیں۔
اس موقع پر ڈپٹی چیف پرنسپل مردم شماری افسر منمیت سنگھ لومبا اور پی آئی بی کے میڈیا و کمیونیکیشن افسر ذاکر نذیر بھی موجود تھے۔










