ہفتہ, جولائی 18, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

یوم آزادیٔ صحافت :

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-05-03
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

صحافت کو ان ’صحافیوں ‘ سے آزاد کیجئے

آج ۳ مئی کو دنیا بھر میں آزادیٔ صحافت کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن اس عہد کی تجدید کا دن ہوتا ہے کہ سچ بولنے، حقائق کو بے خوفی سے پیش کرنے اور عوام تک درست معلومات پہنچانے کے عمل کو مضبوط بنایا جائے۔ مگر آج جب ہم اس دن کو دیکھتے ہیں تو ایک تلخ حقیقت ہمارے سامنے کھڑی نظر آتی ہے—صحافت کی آزادی کے نام پر اس کے غلط استعمال کا بڑھتا ہوا رجحان۔ یہ وہ پہلو ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

گزشتہ چند برسوں میں سوشل میڈیا کے بے تحاشہ پھیلاؤ نے معلومات کی ترسیل کو آسان تو بنایا، لیکن اس کے ساتھ ایک نیا بحران بھی پیدا کر دیا۔ اب ہر وہ شخص جس کے ہاتھ میں موبائل فون ہے، خود کو صحافی سمجھنے لگا ہے۔ نہ اسے صحافتی اصولوں کا ادراک ہے، نہ زبان و بیان کی نزاکت کا شعور، اور نہ ہی حالات کی حساسیت کا اندازہ۔ نتیجتاً ایک ایسا ماحول بن چکا ہے جہاں خبر اور سنسنی، ذمہ داری اور لاپرواہی، سچ اور افواہ کے درمیان فرق مٹتا جا رہا ہے۔

صحافت محض خبر دینے کا نام نہیں بلکہ ایک ذمہ دارانہ عمل ہے، جس میں توازن، غیر جانبداری اور انسانی ہمدردی بنیادی اصول ہوتے ہیں۔ مگر آج کے اس ڈیجیٹل دور میں یہ اصول اکثر نظر انداز ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر حساس واقعات کی رپورٹنگ میں جو رویہ اختیار کیا جا رہا ہے، وہ نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ انسانی اقدار کے بھی خلاف ہے۔

پلوامہ کے معصوم بچے کا حالیہ واقعہ اس کی ایک افسوسناک مثال ہے۔ ایک چار سالہ بچہ تیز بہاؤ میں بہہ گیا، اور کئی دنوں کی مسلسل کوششوں کے بعد اس کی لاش برآمد ہوئی۔ یہ لمحہ یقیناً اس کے اہل خانہ کے لیے غم اور صدمے کا تھا، مگر اسی وقت کچھ افراد نے اس سانحے کو بھی اپنی نام نہاد صحافت کا ذریعہ بنا لیا۔ بچے کی لاش کو کیمرے میں قید کر کے بغیر کسی احساس کے نشر کیا گیا، گویا انسانی دکھ اور تکلیف بھی اب محض ’مواد‘ بن چکی ہے۔

یہ طرز عمل نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ صحافت کے بنیادی اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ صحافت کا مقصد دکھ کو بڑھانا نہیں بلکہ اس کو سمجھنا اور معاشرے کو حساس بنانا ہوتا ہے۔ مگر جب دکھ کو ہی نمائش بنا دیا جائے، تو یہ پیشہ اپنی روح کھو دیتا ہے۔

کشمیرپولیس کی جانب سے جاری کی گئی ہدایت بھی اسی تناظر میں اہم ہے، جس میں سوشل میڈیا صارفین اور میڈیا اہلکاروں سے اپیل کی گئی کہ وہ اس طرح کے حساس مواد کو شیئر نہ کریں۔ یہ ایک ضروری قدم تھا، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں ہر بار قانون کی مداخلت کا انتظار کرنا چاہیے؟ کیا صحافتی برادری کے اندر خود احتسابی کا کوئی نظام نہیں ہونا چاہیے؟

اصل مسئلہ یہی ہے کہ صحافت کا پیشہ اب غیر تربیت یافتہ افراد کے ہاتھوں میں تیزی سے جا رہا ہے۔ نہ کوئی ادارہ جاتی تربیت، نہ اخلاقی رہنمائی، اور نہ ہی کسی ضابطۂ اخلاق کی پابندی۔ نتیجہ یہ کہ ’مشروم گروتھ‘ کی طرح ایسے افراد سامنے آ رہے ہیں جو صرف توجہ حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔

یہ صورتحال صرف صحافت کے لیے نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے خطرناک ہے۔ کیونکہ جب معلومات کا ذریعہ ہی غیر معتبر ہو جائے، تو عوام کے فیصلے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ جھوٹی یا غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ نہ صرف خوف و ہراس پھیلاتی ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔

اس کے برعکس، حقیقی صحافت ایک ذمہ داری ہے‘ایک ایسا فریضہ جس میں عوام کے اعتماد کو قائم رکھنا سب سے اہم ہوتا ہے۔ ایک سچا صحافی وہ ہوتا ہے جو خبر دیتے وقت انسانی وقار، رازداری اور اخلاقیات کا مکمل خیال رکھے۔ وہ جانتا ہے کہ ہر تصویر، ہر لفظ اور ہر خبر کا معاشرے پر اثر پڑتا ہے۔

آج کے دن ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ آزادیٔ صحافت کا مطلب کیا ہے؟ کیا یہ آزادی بغیر کسی حد کے ہونی چاہیے؟ یا اس کے ساتھ ذمہ داری بھی لازم ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ آزادی اور ذمہ داری ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ اگر آزادی کو ذمہ داری سے جدا کر دیا جائے تو وہ انتشار میں بدل جاتی ہے۔

لہٰذا، آج کے دن اگر کوئی عہد کرنا چاہیے تو وہ یہی ہے کہ ہم صحافت کو اس کے اصل اصولوں پر واپس لائیں۔ اس کے لیے چند اہم اقدامات ناگزیر ہیں۔

سب سے پہلے، صحافتی تربیت کو فروغ دینا ہوگا تاکہ نئے آنے والے افراد کو پیشے کی اخلاقیات اور اصولوں سے آگاہ کیا جا سکے۔ دوسرا، میڈیا اداروں کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا اور غیر ذمہ دارانہ مواد کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی۔ تیسرا، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی ایسے مواد کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے جو انسانی وقار کو مجروح کرتا ہو۔

اس کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی۔ ہر خبر کو بغیر تصدیق کے آگے بڑھانا، یا سنسنی خیز مواد کو دیکھنا اور شیئر کرنا، اس مسئلے کو مزید بڑھاتا ہے۔ ایک باشعور معاشرہ ہی ذمہ دار صحافت کو فروغ دے سکتا ہے۔

آخر میں، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ صحافت کی آزادی ایک قیمتی نعمت ہے، مگر اس کا تحفظ اسی وقت ممکن ہے جب اسے ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ اگر ہم نے اس پہلو کو نظر انداز کیا تو وہ دن دور نہیں جب آزادیٔ صحافت خود ہی اپنی ساکھ کھو بیٹھے گی۔

آج، عالمی یوم آزادیٔ صحافت کے موقع پر، ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم صحافت کو ان نام نہاد عناصر سے آزاد اور پاک کریں گے جو اس پیشے کو بدنام کر رہے ہیں، اور اسے ایک بار پھر سچ، دیانت اور انسانی ہمدردی کا مظہر بنائیں گے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

سبق سیکھنے کی ضرورت ؟

Next Post

مئی کیلئے سول سیکریٹریٹ جموں میں  وزراء اور مشیر کی دستیابی کا روسٹر جاری

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

2026-07-16
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

2026-07-15
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

ریاستی درجے کی بحالی:

2026-07-12
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پائیدار سیاحت :

2026-07-11
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

تعلیمی اداروں میں قابلِ اعتراض لٹریچر

2026-07-09
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر آخر سبز کیوں نہیں؟

2026-07-08
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

جَل جیون مشن:

2026-07-07
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

وادی میں نجی طبی مراکز: نگرانی کہاں ہے؟

2026-07-05
Next Post
بانہال میں یونیورسٹی کیمپس کے قیام کا پرائیویٹ ممبر بل منظور

مئی کیلئے سول سیکریٹریٹ جموں میں  وزراء اور مشیر کی دستیابی کا روسٹر جاری

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.