نہیں صاحب ایسا بھی التجا نے کیا کہا تھا جواپنے گورے گورے بانکے چھورے وزیر اعلیٰ‘ عمرعبداللہ آپے سے باہر ہو گئے …….نہیں صاحب انہیں خود پر کنٹرول رکھنا چاہئے تھا اور ……. اور اس لئے رکھنا چاہئے تھاکہ میڈم ……. میڈم محبوبہ کی بیٹی ہے تو ابھی ایک بچی ہی …….بچپنے میں ‘لڑکپن میں ہوتا ہے ‘ کبھی کبھی ایسا ہو تا ہے کہ آپ اپنے قد سے بڑی بات کرتے ہیں ……. جسے چھوٹا منہ بڑی بات کہتے ہیں ……. اب اگر وزیر اعلیٰ کو لگتا ہے کہ میڈم جی کی بچی نے بھی ایسا ہی کیا …….اور چھوٹے منہ بڑی بات کی ہے تو ……. تو اس میں برا منانے کی کوئی بات نہیں ہے …….بالکل بھی نہیں ہے ۔اور سچ پوچھئے تو ہمیں یقین تھا اور سو فیصد تھا کہ وزیر اعلیٰ صاحب میڈم جی کی بچی کو واقعی میں بچی سمجھ کر معاف کریں گے ……. لیکن ان جناب نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا ……. الٹا انہیں ڈانٹ پلائی ‘ یہ کہہ کر پلائی کہ کیا’ اب مجھے اسے سکھا نا پڑے گا ؟‘……. نہیں وزیر اعلیٰ صاحب آپ کو انہیں سکھانا نہیں پڑے گا ‘ اور اس لئے نہیں سکھانا پڑے گا کہ ……. کہ ہمیں لگتا ہے کہ میڈم جی کی بچی سے زیادہ آپ کو کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے ……. اشد ضرورت ہے ۔اور اس لئے ضرورت ہے کہ اگر آپ نے سیکھا ہو تا ……. یہ سیکھا ہو تا کہ …….کہ بچوں کی باتوں پر برا نہیں منانا چاہئے تو……. تو اچھا ہو تا ۔ لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا‘ بالکل بھی نہیں کیا ……. اور اس بات کا ثبوت دیا کہ اصل میں آپ کو سیکھنے کی ضرورت ہے ۔ وزیر اعلیٰ صاحب !ویسے بھی ایک بات کا تو آپ نے جواب دیا ہی نہیں …….اُس ایک بات کا جو میڈم جی کی بچی نے آپ سے پوچھی یا نہیں ‘ لیکن ……. لیکن ہم ضرور پوچھنا چاہتے ہیں اور ……. اور وہ بات یہ ہے کہ اگر اردو زبان کو محکمہ مال سے بے دخل کرنے کی فائل آپ کی میز پر پڑی ہے اور ……. اورآپ کاکہنا ہے کہ آپ نے اس فائل پر دستخط کئے ہیں اور نہ کرنے کا کوئی ارادہ رکھتے ہیں تو …….تو وزیرا علیٰ صاحب !پھر لوگوں سے ……. جموںکشمیر کی جنتا سے اردو کو محکمہ مال یا کسی اور محکمے سے بے دخل کرنے کی’تجویز ‘پر ان کی رائے لینے کا کیا مطلب ہے ؟بس یہ ایک بات ہمیں بتایئے ‘معاف کیجئے بتایئے نہیں سکھایئے۔صرف یہ ایک بات ‘ اس سے کم اور نہ زیادہ ۔ہے نا؟



