رمضان المبارک کا چاند طلوع ہوتے ہی دنیا بھر کے مسلمانوں کی زندگی کی رفتار بدل جاتی ہے۔ یہی وہ مہینہ ہے جب انسان اپنے اندر جھانکنا سیکھتا ہے، اپنے نفس سے مکالمہ کرتا ہے اور زندگی کے اصل مقصد کو محسوس کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
جموں و کشمیر میں بھی آج اس بابرکت مہینے کا پہلا روزہ رکھا جا رہا ہے۔ وادی کی فضاؤں میں روحانیت کی وہی مانوس خوشبو پھیل گئی ہے مساجد آباد، بازار روشن اور گھروں میں سحر و افطار کی تیاریاں‘ مگر اس ظاہری رونق کے پیچھے ایک گہرا پیغام پوشیدہ ہے جسے سمجھنا اس مہینے کا اصل تقاضا ہے۔
رمضان صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں۔ اگر روزہ محض کھانے پینے سے رکنے کا نام ہوتا تو یہ عبادت جسمانی مشقت سے زیادہ کچھ نہ رہتی۔ دراصل روزہ انسان کو خواہشات کی غلامی سے آزادی سکھاتا ہے۔ یہ انسان کے اندر ضبط، صبر، برداشت اور احساسِ ذمہ داری پیدا کرتا ہے۔ وہ شخص جو پانی سامنے رکھ کر بھی نہ پیئے، وہ دراصل اپنے نفس کو بتا رہا ہوتا ہے کہ زندگی محض خواہشات کی پیروی نہیں بلکہ اصولوں کی پابندی ہے۔
یہ مہینہ انسان کو دوسروں کے دکھ کا احساس دلاتا ہے۔ جب پیاس لگتی ہے تو پیاسے کا درد سمجھ آتا ہے، جب بھوک لگتی ہے تو غریب کا حال محسوس ہوتا ہے۔ اسی لیے رمضان کا فلسفہ انفرادی عبادت سے زیادہ اجتماعی ہمدردی پر مبنی ہے۔ زکوٰۃ اور صدقات کا نظام بھی اسی سوچ کو مضبوط بناتا ہے کہ معاشرہ صرف امیروں کے لیے نہیں بلکہ سب کے لیے ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں کمزور کو سہارا دیا جائے اور ضرورت مند کو عزت کے ساتھ جینے کا حق ملے۔
بدقسمتی سے ہم نے اس مہینے کو رسموں میں تو زندہ رکھا ہے مگر اس کے مزاج کو اپنی زندگی میں پوری طرح جگہ نہیں دی۔ عبادت گاہیں آباد ہوتی ہیں مگر دلوں میں سختی باقی رہتی ہے۔ تلاوت بڑھ جاتی ہے مگر رویے نہیں بدلتے۔ حالانکہ رمضان کا اصل پیغام انسان کو بہتر انسان بنانا ہے ایسا انسان جو دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرے، مشکل نہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں معاشرہ اور حکومت دونوں کی ذمہ داری شروع ہوتی ہے۔
جموں و کشمیر میں ہر سال رمضان کے آغاز کے ساتھ ایک مسئلہ شدت اختیار کر لیتا ہے گراں بازاری۔ اشیائے خوردنی کی قیمتیں اچانک بڑھ جاتی ہیں، سبزیوں سے لے کر پھلوں تک اور گوشت سے لے کر دالوں تک ہر چیز عام آدمی کی پہنچ سے دور ہونے لگتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جس مہینے میں دنیا بھر کے مسلم معاشروں میں قیمتیں کم کی جاتی ہیں، اسی مہینے میں یہاں قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک میں رمضان شروع ہونے سے پہلے حکومتیں خصوصی مارکیٹ کنٹرول مہم چلاتی ہیں۔ تاجر خود بھی منافع کم کر دیتے ہیں کیونکہ وہ اسے عبادت کا حصہ سمجھتے ہیں۔ وہاں رمضان تجارت کا نہیں برکت کا مہینہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر کشمیر میں صورتحال اکثر اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ یہاں رمضان بعض عناصر کے لیے منافع کمانے کا سیزن بن جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف معاشرتی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ رمضان کے فلسفے کی کھلی نفی بھی ہے۔
گزشتہ روز وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے رمضان انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس یقیناً ایک مثبت قدم ہے، مگر کشمیر کے عوام اب محض اجلاسوں سے آگے عملی نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ ماضی کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ ہدایات جاری ہوتی ہیں، بیانات دیے جاتے ہیں، مگر بازار میں عام آدمی کو ریلیف نظر نہیں آتا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ انتظامات کاغذوں تک محدود نہ رہیں بلکہ زمینی سطح پر نافذ ہوں۔
سب سے پہلے قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے موثر نظام قائم کیا جائے۔ محض اعلانات جاری کرنا کافی نہیں، مستقل مانیٹرنگ ضروری ہے۔ بازاروں میں روزانہ بنیادوں پر ٹیمیں تعینات ہوں، ذخیرہ اندوزی پر سخت کارروائی ہو، اور خلاف ورزی کرنے والوں کو صرف جرمانہ نہیں بلکہ قابلِ عبرت سزا دی جائے۔ جب تک قانون کی عملداری نظر نہیں آئے گی تب تک بازار کا رویہ تبدیل نہیں ہوگا۔
دوسرا اہم پہلو اشیائے ضروریہ کی دستیابی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ سحر و افطار کے اوقات میں دودھ، سبزیاں اور دیگر بنیادی چیزیں کم پڑ جاتی ہیں یا اچانک مہنگی ہو جاتی ہیں۔ حکومت کو سپلائی چین پر مکمل نظر رکھنی ہوگی تاکہ مصنوعی قلت پیدا نہ ہو سکے۔
تیسری اور سب سے اہم ذمہ داری تاجروں کی ہے۔ رمضان صرف عبادت گزاروں کے لیے نہیں بلکہ تاجروں کے لیے بھی امتحان ہے۔ نفع کمانا غلط نہیں مگر ضرورت مند کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔ اگر روزہ انسان کو صبر سکھاتا ہے تو تجارت کو بھی اعتدال سکھانا چاہیے۔
کشمیر ایک مذہبی اور حساس معاشرہ ہے۔ یہاں کے لوگ رمضان کی حرمت کو دل سے مانتے ہیں۔ مساجد میں رش، تراویح میں ذوق اور شب بیداریوں کی روایت اس کا ثبوت ہیں۔ ایسے معاشرے میں گراں بازاری کا بڑھنا محض معاشی مسئلہ نہیں بلکہ اخلاقی تضاد بھی ہے۔ ایک طرف لوگ عبادت میں مصروف ہوں اور دوسری طرف روزمرہ ضروریات ان کے لیے مشکل بنا دی جائیں یہ رمضان کی روح کے خلاف ہے۔
حکومت، انتظامیہ، تاجر اور عوام سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ رمضان دراصل اجتماعی اصلاح کا مہینہ ہے۔ اگر اس مہینے میں بھی ہم نے اپنے رویے نہ بدلے تو پھر تبدیلی کی امید کب رکھی جائے؟
یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی دوسروں کو آسانی دینے میں ہے۔ کسی بھوکے کو کھانا کھلانا صرف ثواب نہیں بلکہ انسانیت کی تکمیل ہے۔ اسی طرح کسی روزہ دار کو مہنگائی کے بوجھ سے بچانا بھی عبادت ہی کی ایک شکل ہے۔
لہٰذا ضروری ہے کہ حکومت اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنائے، بازار کو نظم میں لائے اور عام آدمی کو حقیقی ریلیف فراہم کرے۔ تاکہ جب لوگ افطار کے وقت دسترخوان پر بیٹھیں تو ان کے دل میں شکر کے ساتھ سکون بھی ہو اور وہ محسوس کریں کہ رمضان واقعی رحمتوں اور آسانیوں کا مہینہ ہے، آزمائشوں کا نہیں۔
اگر ایسا ہو گیا تو یہ صرف انتظامی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ رمضان کے فلسفے کی حقیقی تعبیر ہوگی۔ یہی اس مقدس مہینے کا تقاضا بھی ہے اور ہماری اجتماعی ذمہ داری بھی۔



