سرینگر: مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) نے پہلگام حملے کے بعد جموں و کشمیر کے بالائی علاقوں میں چھپے دہشت گردوں کی تلاش اور خاتمے کیلئے۶ہزار فٹ سے زائد بلندی پر۴۳عارضی آپریٹنگ بیس قائم کیے ہیں، سیکورٹی حکام نے بدھ کو بتایا۔
ان عارضی کیمپوں میں اہلکار چند روز قیام کرتے ہیں اور پہاڑی علاقوں میں موجود ’ڈھوکوں‘ (مٹی اور پتھر کی جھونپڑیوں) میں چھپے دہشت گردوں کے خلاف تلاشی اور کارروائیاں انجام دیتے ہیں۔
اب تک قائم۴۳کیمپوں میں سے۲۶کشمیر خطے جبکہ۱۷جموں خطے میں قائم کیے گئے ہیں۔ ہر کیمپ میں تقریباً۱۶سے۲۵؍اہلکاروں کے ساتھ مقامی پولیس کے جوان بھی تعینات رہتے ہیں۔
حکام کے مطابق اپریل۲۰۲۵ میں بیسران وادی پہلگام میں ہوئے دہشت گرد حملے کے فوراً بعد پہلگام‘ترال‘ہاروان محور پر بڑی تعداد میں ایسے کیمپ قائم کیے گئے تھے۔
سیکورٹی فورسز نے انہی میں سے ایک کیمپ سے کارروائی کرتے ہوئے جولائی میں پہلگام حملے میں ملوث تین دہشت گردوں کو ہلاک کیا تھا۔ اس کارروائی کو ’آپریشن مہادیو‘ نام دیا گیا تھا۔
یہ آپریشن۲۲مئی کو شروع کیا گیا تھا جو۲۲ اپریل کے حملے کے اگلے دن تیار کردہ سیکورٹی منصوبے کا حصہ تھا، جس میں۲۶سیاح مارے گئے تھے۔
سی آر پی ایف نے ان کیمپوں کیلئے خصوصی سازوسامان بھی حاصل کیا ہے جن میں ٹیکٹیکل بوٹس، سرمائی جیکٹس، سلیپنگ بیگز اور سیٹلائٹ فون شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اس وقت مرکز کے زیر انتظام علاقے میں تقریباً دو مقامی جبکہ قریب۱۰۰ غیر ملکی دہشت گرد سرگرم ہیں۔










