سرینگر؍۱۸جولائی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے۲۰ جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر نیشنل کانفرنس کی جانب سے جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے کے حق میں مجوزہ احتجاج میں شرکت کے لیے اپنی شرط عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج کے ایجنڈے میں آرٹیکل۳۷۰ کی بحالی، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور جماعت اسلامی پر عائد پابندی کے خاتمے کے مطالبات بھی شامل کیے جائیں۔
پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ پارٹی نے اس معاملے پر تفصیلی غور و خوض کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ صرف ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے کے لیے ہونے والے احتجاج میں شامل ہونا مناسب نہیں ہوگا۔
محبوبہ نے کہا’’اپنے سینئر ساتھیوں سے تفصیلی مشاورت کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ ایسے احتجاج میں شرکت مناسب نہیں ہوگی جس کا واحد اور بنیادی مقصد صرف ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ ہو‘‘۔
پی ڈی پی صدر نے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو لکھے گئے دو صفحات پر مشتمل خط میں کہا کہ پی ڈی پی صرف اسی صورت میں جنتر منتر کے احتجاج میں شریک ہوگی جب آرٹیکل۳۷۰ کی بحالی، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور جماعت اسلامی پر پابندی کے خاتمے کو احتجاج کے مرکزی ایجنڈے میں شامل کیا جائے۔
سابق وزیر اعلیٰ نے اپنے خط میں لکھا ’’صرف ریاستی درجے کی بحالی کے لیے مشترکہ احتجاج کرنا جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے غیر قانونی خاتمے کو جائز قرار دینے کے مترادف ہوگا اور اسے۵؍ اگست کے اقدام کی تائید کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جو ہماری اجتماعی تاریخ کا تاریک ترین دن ہے‘‘۔
واضح رہے کہ نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے روز‘۲۰ جولائی کو جنتر منتر پر ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے کے حق میں ہونے والے احتجاج میں جموں و کشمیر کی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو شرکت کی دعوت دی ہے۔
محبوبہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات کو صرف ریاستی درجے کی بحالی تک محدود کرنا ’سنگین ناانصافی، عوام کے ساتھ بے وفائی اور ان کی امنگوں سے غداری‘ کے مترادف ہوگا۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ خصوصی حیثیت کی بحالی سے کم کسی بھی مطالبے پر اکتفا کرنا ’’ہمارے حقوق اور وقار کے سامنے شرمناک ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہوگا، جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی‘‘۔انہوں نے کہا کہ یہ ’ادھورا مطالبہ‘ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اس بیانیے کو تقویت دیتا ہے جس کے تحت آرٹیکل۳۷۰ کے مسئلے کو پس منظر میں دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
محبوبہ نے کہا کہ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں عوام نے نیشنل کانفرنس کو جو واضح مینڈیٹ دیا، وہ صرف ریاستی درجے کی بحالی کے لیے نہیں تھا۔ ان کے مطابق اگر معاملہ صرف یہی ہوتا تو بی جے پی اور اس کی حامی جماعتوں کو کہیں زیادہ انتخابی کامیابی حاصل ہوتی۔
سابق وزیرا علیٰ نے مزید کہا کہ اگرچہ لداخ کی طرز پر آل پارٹی پلیٹ فارم قائم کرنے کی ان کی سابقہ تجویز پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، تاہم وہ ایک بار پھر فاروق عبداللہ اور وزیراعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کرتی ہیں کہ وہ اس سلسلے میں پہل کریں۔
پی ڈی پی صدر نے تجویز دی کہ پہلا قدم تمام سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں پر مشتمل ایک آل پارٹی اجلاس بلانا ہونا چاہیے، تاکہ جموں و کشمیر کے عوام کو درپیش مختلف مسائل پر غور کیا جا سکے اور ان کے حل کی راہ نکالی جا سکے۔
محبوبہ نے کہا کہ ایک بامعنی سیاسی عمل کا آغاز اسی وقت ممکن ہے جب بنیادی مسائل، بشمول سیاسی قیدیوں کی رہائی اور جماعت اسلامی سمیت سماجی و سیاسی تنظیموں پر عائد پابندیوں کے خاتمے جیسے معاملات پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاستی درجے کی بحالی کو بھی ایک وقتی اقدام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اس کے لیے مسلسل سیاسی کوششوں اور سرگرم رابطوں کی ضرورت ہے، جس کی قیادت وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو کرنی چاہیے۔
موصوفہ نے کہا کہ ایسی سنجیدہ سیاسی کوشش جموں و کشمیر کے مایوس عوام کے لیے امید کی ایک نئی کرن ثابت ہو سکتی ہے اور انہیں یہ یقین دلائے گی کہ موجودہ تاریکی کے بعد روشنی کی امید اب بھی باقی ہے۔
۔۔۔۔۔۔ایجنسیاں









