ہفتہ, ستمبر 5, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

پی ڈی پی کاجنتر منتر پر این سی کے مجوزہ اجلاس میں مشروط آمادگی کا اظہار

۳۷۰کی بحالی، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور جماعت اسلامی پر پابندی ختم کرنا بھی ایجنڈے میں شامل کرنے کا مطالبہ

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-07-20
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
محبوبہ کا این سی پر جنوبی کشمیر کو نظر انداز کرنے کا الزام
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

سرینگر؍۱۸جولائی

                پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے۲۰ جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر نیشنل کانفرنس کی جانب سے جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے کے حق میں مجوزہ احتجاج میں شرکت کے لیے اپنی شرط عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج کے ایجنڈے میں آرٹیکل۳۷۰ کی بحالی، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور جماعت اسلامی پر عائد پابندی کے خاتمے کے مطالبات بھی شامل کیے جائیں۔

                پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ پارٹی نے اس معاملے پر تفصیلی غور و خوض کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ صرف ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے کے لیے ہونے والے احتجاج میں شامل ہونا مناسب نہیں ہوگا۔

متعلقہ

سرینگرو جموں ماسٹر پلان میں مجوزہ ترمیم پر غور

یومِ اساتذہ:ملک میں ہر سال ۵ستمبر کو یوم اساتذہ کیوں منایا جا تا ہے

                محبوبہ نے کہا’’اپنے سینئر ساتھیوں سے تفصیلی مشاورت کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ ایسے احتجاج میں شرکت مناسب نہیں ہوگی جس کا واحد اور بنیادی مقصد صرف ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ ہو‘‘۔

                پی ڈی پی صدر نے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو لکھے گئے دو صفحات پر مشتمل خط میں کہا کہ پی ڈی پی صرف اسی صورت میں جنتر منتر کے احتجاج میں شریک ہوگی جب آرٹیکل۳۷۰ کی بحالی، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور جماعت اسلامی پر پابندی کے خاتمے کو احتجاج کے مرکزی ایجنڈے میں شامل کیا جائے۔

                سابق وزیر اعلیٰ نے اپنے خط میں لکھا ’’صرف ریاستی درجے کی بحالی کے لیے مشترکہ احتجاج کرنا جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے غیر قانونی خاتمے کو جائز قرار دینے کے مترادف ہوگا اور اسے۵؍ اگست کے اقدام کی تائید کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جو ہماری اجتماعی تاریخ کا تاریک ترین دن ہے‘‘۔

                واضح رہے کہ نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے روز‘۲۰ جولائی کو جنتر منتر پر ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے کے حق میں ہونے والے احتجاج میں جموں و کشمیر کی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو شرکت کی دعوت دی ہے۔

                محبوبہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات کو صرف ریاستی درجے کی بحالی تک محدود کرنا ’سنگین ناانصافی، عوام کے ساتھ بے وفائی اور ان کی امنگوں سے غداری‘ کے مترادف ہوگا۔

                پی ڈی پی صدر نے کہا کہ خصوصی حیثیت کی بحالی سے کم کسی بھی مطالبے پر اکتفا کرنا ’’ہمارے حقوق اور وقار کے سامنے شرمناک ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہوگا، جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی‘‘۔انہوں نے کہا کہ یہ ’ادھورا مطالبہ‘ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اس بیانیے کو تقویت دیتا ہے جس کے تحت آرٹیکل۳۷۰ کے مسئلے کو پس منظر میں دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

                محبوبہ نے کہا کہ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں عوام نے نیشنل کانفرنس کو جو واضح مینڈیٹ دیا، وہ صرف ریاستی درجے کی بحالی کے لیے نہیں تھا۔ ان کے مطابق اگر معاملہ صرف یہی ہوتا تو بی جے پی اور اس کی حامی جماعتوں کو کہیں زیادہ انتخابی کامیابی حاصل ہوتی۔

                سابق وزیرا علیٰ نے مزید کہا کہ اگرچہ لداخ کی طرز پر آل پارٹی پلیٹ فارم قائم کرنے کی ان کی سابقہ تجویز پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، تاہم وہ ایک بار پھر فاروق عبداللہ اور وزیراعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کرتی ہیں کہ وہ اس سلسلے میں پہل کریں۔

                پی ڈی پی صدر نے تجویز دی کہ پہلا قدم تمام سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں پر مشتمل ایک آل پارٹی اجلاس بلانا ہونا چاہیے، تاکہ جموں و کشمیر کے عوام کو درپیش مختلف مسائل پر غور کیا جا سکے اور ان کے حل کی راہ نکالی جا سکے۔

                محبوبہ نے کہا کہ ایک بامعنی سیاسی عمل کا آغاز اسی وقت ممکن ہے جب بنیادی مسائل، بشمول سیاسی قیدیوں کی رہائی اور جماعت اسلامی سمیت سماجی و سیاسی تنظیموں پر عائد پابندیوں کے خاتمے جیسے معاملات پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے۔

                سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاستی درجے کی بحالی کو بھی ایک وقتی اقدام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اس کے لیے مسلسل سیاسی کوششوں اور سرگرم رابطوں کی ضرورت ہے، جس کی قیادت وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو کرنی چاہیے۔

                موصوفہ نے کہا کہ ایسی سنجیدہ سیاسی کوشش جموں و کشمیر کے مایوس عوام کے لیے امید کی ایک نئی کرن ثابت ہو سکتی ہے اور انہیں یہ یقین دلائے گی کہ موجودہ تاریکی کے بعد روشنی کی امید اب بھی باقی ہے۔

۔۔۔۔۔۔ایجنسیاں

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں ہنگامہ آرائی کے آثار ‘ حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

Next Post

’جموں کشمیر کو علم و ادب اور تحقیق کا قومی مرکز بنانا ہمارا ہدف‘

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

۷۹واں یومِ آزادی:وزیر اعلیٰ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے
اہم ترین

سرینگرو جموں ماسٹر پلان میں مجوزہ ترمیم پر غور

2026-09-04
یومِ اساتذہ:ملک میں ہر سال ۵ستمبر کو یوم اساتذہ کیوں منایا جا تا ہے
اہم ترین

یومِ اساتذہ:ملک میں ہر سال ۵ستمبر کو یوم اساتذہ کیوں منایا جا تا ہے

2026-09-04
لداخ کے تمام۷ ؍ اضلاع میں خودمختار پہاڑی ترقیاتی کونسلوں کے قیام کی منظوری
اہم ترین

لداخ کے تمام۷ ؍ اضلاع میں خودمختار پہاڑی ترقیاتی کونسلوں کے قیام کی منظوری

2026-09-04
  آئی جی پی کشمیر کا ضلع اننت ناگ میں سکیورٹی صوتحال کا جائزہ
اہم ترین

  آئی جی پی کشمیر کا ضلع اننت ناگ میں سکیورٹی صوتحال کا جائزہ

2026-09-04
 سنہا کی دہلی میں مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری سے ملاقات
اہم ترین

 سنہا کی دہلی میں مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری سے ملاقات

2026-09-04
یاسین ملک کے خلاف سزائے موت کی این آئی اے کی اپیل پر دہلی ہائی کورٹ 22 اپریل کو سماعت کرے گی
اہم ترین

 یاسین ملک کاپاکستانی اہلیہ سے طلاق کا فیصلہ

2026-09-04
بانڈی پورہ میں لشکر طیبہ کے دو جنگجو معاونین گرفتار:پولیس
اہم ترین

ریاسی کے جنگلات میں ’’جنگی نوعیت‘‘ کا اسلحہ و گولہ بارود برآمد، گرینیڈ اور 184 کارتوس ضبط

2026-09-04
اے سی بی کی کارروائی کے بعد فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کے چار اہلکار معطل
اہم ترین

طویل غیر مجاز غیر حاضری پر ڈاکٹر  کو ملازمت سے برطرف کردیا

2026-09-04
Next Post
نشہ مکت جموں کشمیر کیلئے ۱۰۰  روزہ مہم

’جموں کشمیر کو علم و ادب اور تحقیق کا قومی مرکز بنانا ہمارا ہدف‘

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.