سرینگر؍۱۸جولائی
پیر سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید ٹکراؤ کے امکانات ہیں۔ اس اجلاس کے دوران کئی اہم بل پیش کیے جانے کا امکان ہے، جن میں حد بندی سے متعلق وہ آئینی ترمیمی بل بھی شامل ہے جو گزشتہ اجلاس میں منظور نہیں ہو سکا تھا، اگرچہ اسے ابھی تک سرکاری قانون سازی کے ایجنڈے میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔
اپوزیشن اتحاد میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں اور اختلافات کے پس منظر میں شروع ہونے والا یہ اجلاس کئی اہم تنازعات کے سائے میں منعقد ہوگا، جن میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے پیر کو پارلیمنٹ کی طرف مارچ اور ایودھیا کے رام مندر میں عطیات کے مبینہ غبن کا معاملہ سرفہرست ہیں۔
اپوزیشن ان دونوں معاملات کو حکومت کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے، جبکہ ذرائع کے مطابق حکومت بھی اجلاس کے دوران جارحانہ حکمت عملی اختیار کرے گی اور اس کی اولین ترجیح مختلف بلوں کی منظوری حاصل کرنا ہوگی۔
سی جے پی، جو گزشتہ کئی دنوں سے جنتر منتر پر دھرنا دے رہی ہے، نے ہفتہ کے روز اپنے احتجاج میں اس وقت شدت پیدا کر دی جب پولیس نے سماجی کارکن سونم وانگچک کی۲۱ روزہ بھوک ہڑتال میں مداخلت کرتے ہوئے انہیں اسپتال منتقل کر دیا۔ اس کے بعد پارٹی نے مبینہ این ای ای ٹی پرچہ لیک معاملے پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کو مزید تیز کر دیا۔
اس ہفتے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کو آل پارٹی اجلاس بلانے کے مطالبے پر مشتمل خط کے بعد حد بندی اور خواتین کو ریزرویشن سے متعلق مجوزہ آئینی ترمیم پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تصادم کی فضا مزید گہری ہو گئی۔
بی جے پی کی قیادت والے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے حکمت عملی ساز آئینی ترمیمی بل کی منظوری کے لیے مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جبکہ کانگریس اس کے خلاف بھرپور سیاسی مہم چلانے کی تیاری کر رہی ہے۔
اگرچہ کانگریس کو یقین ہے کہ انڈیا اتحاد کی جماعتیں اس بل کی مخالفت جاری رکھیں گی، تاہم این سی پی (ایس پی) اور شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) سمیت بعض اپوزیشن جماعتوں نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ریاستوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے مناسب ضمانتیں فراہم کی گئیں تو وہ حکومت کی تجویز پر غور کر سکتی ہیں۔
اسی طرح ڈی ایم کے، جس نے اپریل کے خصوصی اجلاس میں آئین کی۱۳۱ ویں ترمیم کی سخت مخالفت کی تھی، نے بھی کہا ہے کہ وہ نئے مسودے کا جائزہ لینے کے بعد اپنا موقف واضح کرے گی۔ پارٹی کانگریس سے علیحدہ ہو چکی ہے اور پارلیمنٹ میں اپنی نشستوں کا الگ انتظام چاہتی ہے۔
حالیہ اسمبلی انتخابات میں انڈیا اتحاد کی کئی علاقائی جماعتوں کی ناکامی کے بعد سیاسی منظرنامے میں بھی نمایاں تبدیلی آئی ہے۔
حکومت ایک بار پھر آئین(۱۳۱ ویں ترمیم) بل‘۲۰۲۶ کو منظور کرانے کے لیے پُرعزم ہے اور اسے یقین ہے کہ اپوزیشن اس وقت منتشر ہے۔ حکومت کی پوزیشن اس وقت مزید مضبوط ہوئی جب ترنمول کانگریس کے۲۰ لوک سبھا ارکان اور شیو سینا (یو بی ٹی) کے۶؍ ارکان اپنی جماعتوں سے الگ ہو کر این ڈی اے کی حمایت میں آ گئے۔
یہ بل۲۰۲۹ کے عام انتخابات سے قبل لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے۳۳ فیصد نشستیں مختص کرنے کی تجویز دیتا ہے۔ اس مقصد کے لیے حلقہ بندی (ڈیلیمیٹیشن) کے بعد لوک سبھا کی نشستوں میں اضافہ بھی تجویز کیا گیا ہے تاکہ خواتین کے لیے اضافی نشستیں فراہم کی جا سکیں۔
تمام نظریں اب لوک سبھا اسپیکر اوم برلا پر بھی مرکوز ہیں، جنہیں ترنمول کانگریس کے۲۰؍ ارکان کے نیشنلسٹ سٹیزنز پارٹی آف انڈیا میں انضمام اور الگ پارلیمانی گروپ کی تشکیل سے متعلق فیصلہ کرنا ہے۔ترنمول کانگریس کے لوک سبھا لیڈر ابھیشیک بنرجی نے اس انضمام کو چیلنج کرتے ہوئے اسپیکر کے سامنے الگ عرضداشت دائر کی ہے۔
اس کے علاوہ اسپیکر کو شیو سینا (یو بی ٹی) کے چھ ارکان کی اس درخواست پر بھی فیصلہ دینا ہے، جنہوں نے ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے۔اگر اسپیکر نے باغی ارکان کے حق میں فیصلہ دیا تو این ڈی اے کی لوک سبھا میں عددی طاقت مزید بڑھے گی، تاہم اس کے باوجود وہ دو تہائی اکثریت سے کچھ نشستیں کم رہے گی۔ اس وقت۵۴۰ رکنی ایوان میں تین نشستیں خالی ہیں اور دو تہائی اکثریت کے لیے۳۶۰ ارکان کی حمایت درکار ہے۔
راجیہ سبھا میں بھی این ڈی اے کو دو تہائی اکثریت کے لیے چند نشستوں کی کمی کا سامنا ہے، تاہم بعض ارکان کی غیر حاضری یا رائے شماری سے دور رہنے کی صورت میں حکومت کو آئینی ترمیمی بل منظور کرانے میں مدد مل سکتی ہے۔آئینی ترمیمی بل کی منظوری کے لیے موجود اور ووٹ دینے والے ارکان کی دو تہائی اکثریت ضروری ہوتی ہے۔
حکومت نے مانسون اجلاس کے دوران جن بلوں کو پیش کرنے اور منظور کرانے کی فہرست جاری کی ہے، ان میں ایف سی آر اے ترمیمی بل اور وکست بھارت شکشا ادھشتھان بل جیسے متنازع بل بھی شامل ہیں۔
دیگر مجوزہ قوانین میں قومی نغمہ ’وندے ماترم‘ کی توہین یا اس میں رکاوٹ ڈالنے کو قابلِ سزا جرم قرار دینے کا بل، سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد بڑھانے کے لیے جاری آرڈیننس کی جگہ قانون سازی، اور سرکاری بانڈز میں سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (ایف آئی آئیز) کو کیپیٹل ٹیکس میں چھوٹ دینے سے متعلق بل شامل ہیں۔
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ پارٹی اجلاس کے دوران اداروں پر مبینہ قبضہ، سیاسی جماعتوں میں توڑ پھوڑ، بدعنوانی، مہنگائی، خارجہ پالیسی کی ناکامیوں اور پٹرول میں ایتھنول کی آمیزش جیسے معاملات پر حکومت کو گھیرے گی۔
کانگریس جمعرات کو اپنی حکمت عملی کا اجلاس منعقد کر چکی ہے، جس میں رام مندر میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور این ای ای ٹی پرچہ لیک کے معاملے پر حکومت کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اختلافات کے باوجود اپوزیشن جماعتوں کا ایک وسیع اجلاس پیر کی صبح متوقع ہے۔
دوسری جانب حکومت نے پارلیمنٹ کے اجلاس سے ایک روز قبل اتوار کو روایتی آل پارٹی اجلاس طلب کیا ہے۔ مانسون اجلاس۱۳؍ اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومت این ای ای ٹی پرچہ لیک معاملے پر اپوزیشن کے حملوں کا جواب اس کیس میں کی گئی کارروائی، ملزمان کے خلاف اقدامات اور میڈیکل و ڈینٹل کورسز میں داخلے کے لیے شفاف دوبارہ امتحان کے انعقاد کا حوالہ دے کر دے گی۔اسی طرح ایودھیا رام مندر میں عطیات کے مبینہ غبن کے معاملے پر حکومت یہ مؤقف اختیار کر سکتی ہے کہ یہ ریاستی حکومت کا معاملہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مانسون اجلاس کے دوران حکومت کی سب سے بڑی ترجیح مختلف اہم بلوں کی منظوری حاصل کرنا ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔
(ویب ڈیسک )









