سرینگر؍۱۸ جولائی
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر‘ منوج سنہا نے ہفتہ کے روز یہاں چنار بک فیسٹیول کے تیسرے ایڈیشن میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ کتابیں زندہ مکالموں کی مانند ہوتی ہیں، جو انسان کو گہرائی سے سوچنے، سوال اٹھانے، اپنے عقائد کا جائزہ لینے اور مسلسل آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔
ایل جی نے کہا کہ یہ فیسٹیول محض ایک تقریب نہیں بلکہ قارئین، مصنفین اور دانشوروں کی ایک متحرک برادری تشکیل دینے کی تحریک ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’ہمارا مقصد جموں و کشمیر کو علم، ثقافت اور تخلیقی صلاحیتوں کا قومی مرکز بنانا ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ بک فیسٹیول نوجوانوں کو روزانہ مطالعہ کرنے، معدوم ہوتی زبانوں کے تحفظ اور ادب کے ذریعے تنوع کی قدر و منزلت کو فروغ دینے کی ترغیب دے گا‘‘۔
ایل جی نے کہا کہ تحریر کی طاقت کا کوئی نعم البدل نہیں۔ جب مضبوط تخیل اس کے ساتھ شامل ہو جائے تو وہ ایک دیرپا قوت بن جاتی ہے۔ ایک کامیاب بک فیسٹیول ایسا ماحول فراہم کرتا ہے جہاں ادب ہر فرد کے لیے قابلِ رسائی، متاثر کن اور بامعنی بن جاتا ہے۔
سنہا نے کہا کہ بہت کم عرصے میں چنار بک فیسٹیول خیالات کے ایک منفرد جشن کی صورت اختیار کر چکا ہے اور جموں و کشمیر میں ایک فعال فکری تحریک بن گیا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’میرا ماننا ہے کہ ادیب اور مفکر روشن چراغوں اور کھلے ہوئے گلابوں کی مانند ہوتے ہیں۔ کئی اعتبار سے وہ عظیم چنار کے درخت کی عکاسی کرتے ہیں۔ کشمیر میں چنار صبر، حسن اور استقامت کی زندہ علامت ہے۔ مصنفین اور ان کی کتابیں بھی اسی دائمی روح کی حامل ہیں، جو صدیوں سے انسانی تہذیب کی رہنمائی کرتی آئی ہیں۔ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ جموں و کشمیر کو تعلیم، ادب اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے ایک نمایاں مرکز کے طور پر دوبارہ بحال کریں‘‘۔
ایل جی نے کہا کہ چنار بک فیسٹیول خیالات، مباحثوں اور علم کے تبادلے کے لیے ایک مضبوط قومی پلیٹ فارم بن چکا ہے۔انہوں نے کہا’’اس فیسٹیول کے دوران ہماری ثقافتی وراثت کے ایک بیش قیمت خزانے، شاردا رسم الخط، کے احیاء کی حوصلہ افزا کوشش بھی دیکھنے کو ملی۔ اسی طرح تمل-کشمیری مکالموں جیسے اقدامات کے ذریعے ’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘ کا تصور عملی شکل اختیار کرتا دکھائی دیا، اور آج یہ فیسٹیول خطوں، زبانوں اور نسلوں کو جوڑنے والا ایک مضبوط پل بن گیا ہے‘‘۔
سنہا نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بک فیسٹیول کی کامیابی کا معیار صرف کتابوں کی فروخت نہیں ہونا چاہیے۔
ایل جی نے کہا’’میرا یقین ہے کہ کسی بھی بک فیسٹیول کی حقیقی کامیابی ان خیالات اور مکالموں میں پوشیدہ ہوتی ہے جو وہ جنم دیتا ہے۔ اگر یہاں شروع ہونے والی کوئی بحث کسی کالج یا یونیورسٹی تک پہنچ جائے تو ہمارا مقصد پورا ہو جاتا ہے۔ اگر یہاں ہونے والی گفتگو مستقبل کے تعاون کی بنیاد بن جائے تو میں فیسٹیول کو کامیاب سمجھوں گا۔ اور اگر اس فیسٹیول میں کسی نوجوان کو ایسی کتاب مل جائے جو اس کی زندگی کا رخ بدل دے، تو یہی چنار بک فیسٹیول کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
ڈی آئی پی آر









