۱۹ سے۲۳جولائی تک’ شدید‘ بارشوں کا امکان‘موسمی ایڈوائزری کے پیش نظر امر ناتھ یاترا معطل ‘گرمائی تعطیلات میں تین دنوں کی توسیع
سرینگر؍۱۸ جولائی
سرینگر میں ہفتہ کے روز رواں سیزن کا گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا، جب زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت بڑھ کر۳۵ء۹ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جس سے پوری وادیٔ کشمیر شدید گرمی کی لپیٹ میں آ گئی اور لوگ غیر معمولی حد تک گرم موسم سے پریشان نظر آئے۔
جھلستی گرمی کے باعث وادی اور جموں صوبے کے سرمائی زون کے علاقوں کے تمام سرکاری اور تسلیم شدہ نجی اسکولوں کی گرمیوں کی تعطیلات میں۲۲ جولائی بدھ تک توسیع کر دی گئی ہے۔
درجہ حرارت میں اس غیر معمولی اضافے کے ساتھ ہی سرینگر میں اس موسمِ گرما کا اب تک کا سب سے زیادہ دن کا درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔ گرمی کی لہر جیسی صورتحال کے باعث لوگوں نے دوپہر کے اوقات میں گھروں کے اندر رہنے کو ترجیح دی، جبکہ شدید گرمی کے سبب پارکوں، بازاروں اور دیگر عوامی مقامات پر سرگرمیوں میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔
ماہرینِ صحت نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جسم میں پانی کی مقدار برقرار رکھیں، براہِ راست دھوپ میں زیادہ دیر تک رہنے سے گریز کریں اور خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور پہلے سے مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
شدید گرمی کے باعث بجلی اور پینے کے پانی کی طلب میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ لوگ گرمی سے بچنے کے لیے ٹھنڈک فراہم کرنے والے برقی آلات پر زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔
محکمۂ موسمیات صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری موسمی ہدایات پر عمل کریں کیونکہ آئندہ چند دنوں میں موسمی حالات تبدیل ہو سکتے ہیں۔
دریں اثنا، بھارتی محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے ہفتہ کے روز خبردار کیا ہے کہ۱۹ جولائی سے۲۳ جولائی کے درمیان جموں و کشمیر میں طویل بارشوں کے سلسلے کے باعث حساس علاقوں میں اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے گرنے اور پہاڑوں سے پتھر لڑھکنے کے واقعات پیش آ سکتے ہیں۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ اس موسمی نظام کے نتیجے میں موسلادھار بارش، بادل پھٹنے جیسے واقعات اور بڑی ندیوں، نالوں اور ذیلی آبی ذخائر میں پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ایڈوائزری کے مطابو۱۹ سے۲۳ جولائی کے دوران جموں و کشمیر بھر میں درمیانے درجے کی بارش اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا وسیع سلسلہ متوقع ہے، جبکہ۲۱ سے۲۳ جولائی کے درمیان کشمیر کے بعض علاقوں میں شدید بارش کا امکان ہے۔
جموں ڈویژن میں۲۰ سے۲۳ جولائی کے دوران مختلف مقامات پر شدید سے انتہائی شدید بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ ریاسی اور ادھم پور اضلاع میں بعض مقامات پر غیر معمولی شدید بارش ہو سکتی ہے۔
ایڈوائزری کے مطابق، یہ موسمی سرگرمی بحیرۂ عرب اور خلیجِ بنگال سے آنے والی نمی اور مون سون ٹرف کے مغربی سرے کے شمال کی جانب جموں کی طرف منتقل ہونے کے باعث متوقع ہے۔
محکمہ نے پیر پنجال کا سلسلہ، جموں ڈویژن کی چناب وادی اور کشمیر کے بالائی علاقوں کو حساس زون قرار دیا ہے۔
کشمیر میں جن علاقوں کو زیادہ خطرے سے دوچار قرار دیا گیا ہے ان میں اننت ناگ، پہلگام، کولگام، شوپیاں، پیر کی گلی، گلمرگ، سونہ مرگ،زوجیلا محور، بانڈی پورہ،رازدان پاس اور کپواڑہ،سادھنا پاس شامل ہیں۔
آئی ایم ڈی نے خبردار کیا ہے کہ اس موسمی سلسلے سے جموں،سرینگر قومی شاہراہ سمیت وسطی اور بالائی علاقوں کی دیگر اہم سڑکوں پر آمدورفت متاثر ہو سکتی ہے۔ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ بالائی علاقوں میں رہنے والے افراد کو ڈھلوانی اور لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ مقامات کی طرف جانے سے گریز کرنا چاہیے۔
محکمہ نے دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح بلند ہونے کے ساتھ ساتھ نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور معمولی سیلاب کے امکانات سے بھی خبردار کیا ہے۔
سیاحوں اور مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے سفر کی منصوبہ بندی کریں، جبکہ کسانوں سے کہا گیا ہے کہ اس دوران کھاد ڈالنے اور کیمیائی ادویات کے اسپرے سے گریز کریں۔
محکمۂ موسمیات سرینگر نے بھی پیش گوئی کی ہے کہ بارشوں کے اس سلسلے کے دوران دن کے درجہ حرارت میں نمایاں کمی آئے گی۔ایڈوائزری کی ایک نقل جموں اور کشمیر دونوں ڈویژنل کمشنروں کو بھی ارسال کر دی گئی ہے۔
ادھرحکومت نے شدید گرمی اور خراب موسم کی پیش گوئی کے پیش نظر کشمیر ڈویژن اور جموں ڈویژن کے سرمائی زون کے تمام سرکاری اور تسلیم شدہ نجی اسکولوں کی گرمیوں کی تعطیلات میں۲۲ جولائی۲۰۲۶(بدھ) تک توسیع کر دی ہے۔
وزیر برائے اسکولی و اعلیٰ تعلیم سکینہ ایتو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا:’’موجودہ موسمی حالات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کشمیر ڈویژن اور جموں ڈویژن کے سرمائی زون میں تمام سرکاری اور تسلیم شدہ نجی اسکولوں کی گرمیوں کی تعطیلات۲۲ جولائی (بدھ) تک بڑھا دی جائیں‘‘۔
حکومت نے یہ فیصلہ وادی کشمیر اور جموں کے سرمائی علاقوں میں جاری شدید گرمی اور محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری خراب موسم کی ایڈوائزری کے پیش نظر طلبہ کی حفاظت اور صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔
دریں اثنا خراب موسم کی پیش گوئی کے پیشِ نظر سالانہ امرناتھ یاترا کو۱۹ جولائی سے پہلگام اور بالتل، دونوں راستوں سے عارضی طور پر معطل رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق یہ فیصلہ احتیاطی تدبیر کے طور پر کیا گیا ہے، کیونکہ محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے آئندہ چند روز کے دوران خراب موسم کی پیش گوئی کی ہے۔ یاتریوں کی حفاظت اور ان کی خیریت کو یقینی بنانے کے لیے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)








